اسحاق ڈار کے خانسامے اور ڈرائیور سے آئی ایس آئی کے سوالات کا تعلق آرمی چیف کی توسیع سے نہیں، ڈار کی دوسری شادی سے تھا: محسن بیگ


اسحاق ڈار جب وزیر خزانہ تھے تو آئی ایس آئی نے ان کے خانسامے اور ڈرائیور سے دراصل کیا سوالات کئے؟ سینئر صحافی محسن بیگ نے حیران کن انکشاف کر دیا۔

سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اپنے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ ان کے دو ملازمین کو اغواء کیا گیا کیونکہ آرمی چیف کی مدت ملازمت کا مسئلہ تھا تاہم معروف سینئر تجزیہ کار محسن بیگ نے اسحاق ڈار کے اس دعوے کی یکسر تردید کرتے ہوئے بالکل مختلف انکشافات کئے ہیں۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے محسن بیگ نے کہا کہ میں نے بھی اسحاق ڈار کا وہ انٹرویو دیکھا ہے۔ اسحاق ڈار ملک سے مفرور ہیں جبکہ ان کا ماضی بھی سب جانتے ہیں مگر اتنی منافقت اور جھوٹ نہیں ہونا چاہئے کہ میرے دو ملازمین کو اغوا کیا گیا کیونکہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا مسئلہ تھا، آپ خود سوچیں کہ ایک ڈرائیور اور باورچی آرمی چیف کی مدمت ملازمت میں اضافہ کر سکتے ہیں؟

انہوں نے کہا کہ دراصل اسحاق ڈار نے پارلیمینٹ کی ایک خاتون ممبر (ماروی میمن) سے خفیہ شادی کی اور خود ہی اپنا نکاح پڑھایا جس کے گواہ باورچی اور ڈرائیور تھے۔ پروگرام کے میزبان مبشر لقمان کے دوبارہ پوچھنے پر انہوں نے تصدیق کی کہ اسحاق ڈار نے اپنا نکاح خود ہی پڑھایا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ اس نکاح کے بعد ایک اور خاتون جو اسحاق ڈار کے ساتھ تھی، نے اس رکن اسمبلی کے پیچھے آئی بی کو لگا دیا جس کے ساتھ اسحاق ڈار کا نکاح ہوا تھا۔ مذکورہ رکن پارلیمینٹ  بے چاری مجبوراً آئی ایس آئی کے پاس گئی اور کہا کہ مجھے مدد چاہئے جس پر ان سے کہا گیا کہ اس بات کی تصدیق کریں کیونکہ آپ شادی کا دعویٰ کر رہی ہیں جس پر انہوں نے بتایا کہ اس نکاح کے گواہ باورچی اور ڈرائیور ہیں۔

اس کے بعد اسحاق ڈار کے باورچی اور ڈرائیور سے سوالات کئے گئے، نہ انہیں کہیں سے اٹھایا گیا اور نہ پھینکا گیا۔ اسحاق ڈار کم از کم اس انٹرویو میں یہ تو بتا دیتے کہ آئی ایس آئی والوں نے ان کے باورچی اور ڈرائیور سے کیا سوال کئے تھے، سوال شادی سے متعلق ہی تھے تاکہ مدد طلب کرنے والی عورت کی داد رسی کی جائے۔

mohsin baig

محسن بیگ نے کہا کہ اسحاق ڈار نے جو کہانی اپنے انٹرویو میں بیان کی وہ سراسر جھوٹ ہے اور بعد میں جب اس خاتون نے اپنا حق مانگا تو اسحاق ڈار نے شادی کی تردید ہی کر دی حالانکہ اس نکاح کو دو سال گزر چکے تھے لیکن بعد میں کہہ دیا گیا کہ گواہ دور بیٹھے تھے جنہوں نے کچھ سنا ہی نہیں، اس لئے یہ نکاح جائز نہیں تھا۔

Facebook Comments HS