تبدیلی آ تو رہی ہے


کچھ دوستوں کا خیال ہے کہ ہم نے کپتان سے جس تبدیلی کی توقعات وابستہ کی تھیں وہ پوری نہیں ہو پا رہی ہیں۔ ہر گزرتا دن امیدوں کو دھندلا رہا ہے۔ ہم ان دوستوں کی خدمت میں عرض کرنا چاہتے ہیں کہ ذرا صبر سے کام لیں۔ اتنی جلدی کیا ہے جس تبدیلی کا کپتان نے وعدہ کیا تھا اس کا آغاز ہو چکا ہے۔ مثلاً اعظم سواتی کا فون نہ اٹھانے پر آئی جی اسلام آباد تبدیل۔ محمود الرشید کو پکڑنے پر آئی جی پنجاب تبدیل اور اس سے پہلے خاتونِ اول بشریٰ بی بی کے سابق شوہر کو ناکے پر روکنے پر ڈی پی او تبدیل۔ آٹھ ڈپٹی کمشنرز کی تبدیلی کی خبریں۔ کیا یہ تبدیلی نہیں ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ تبدیلی کا نعرہ لگا کر بر سرِ اقتدار آنی والی حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے کہ تبدیلی نظر آئے۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے جس قرض کو بھیک کہہ کر سابق حکمرانوں کی ملامت کی جاتی رہی ہے اب اس قرض کو امدادی پیکج کا دلکش نام دیا گیا ہے، یہ بھی تبدیلی ہے۔ اس طریقے سے پیسے بھی مل گئے اور بھیک کا الزام بھی نہیں لگے گا۔ تبدیلی سرکار نے یہ اعلان بھی کیا تھا کہ وہ پہلے تین ماہ میں کوئی غیر ملکی دورہ نہیں کریں گے لیکن تبدیلی یہ آئی کی پہلے دو ماہ میں دو غیر ملکی دورے ہو چکے ہیں مزید دوروں کی توقع ہے۔

پنجاب کے وزیراعلیٰ عثمان بزدار جو کی تبدیلی کا استعارہ ہیں انہیں اس لئے پنجاب کا وزیر اعلیٰ بنایا گیا تھا کہ ان کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے لہٰذا وہ جنوبی پنجاب کی ترقی کے لئے انقلابی اقدامات کریں گے۔ یہ دلیل بھی دی گئی تھی کہ وہ جنوبی پنجاب کے مسائل سے بخوبی واقف ہیں۔ ان کے بارے میں ان کے اپنے حلقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ جب سے وہ وزیر اعلیٰ بنے ہیں اپنے حلقے میں بھی جانا گوارا نہیں کیا چناں چہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ جنوبی پنجاب کا دورہ کرنے کے بجائے لاہور میں بیٹھ کر مدت پوری کریں گے۔ تبدیلی یہ ہے کہ وہ سابق وزیر اعلیٰ کی طرح لمبے بوٹ پہن کر دور دراز کے دورے کر کے حکومت کے پیسے ضائع نہیں کریں گے۔ علاوہ ازیں خاموش رہ کر الفاظ کی بچت بھی کریں گے۔

تبدیلی کی ایک واضح علامت تو حکومت کے ابتدائی دنوں میں ہی نظر آ گئی تھی جب پروٹوکول کے خرچ سے جان چھڑا لی گئی تھی۔ اور بیسیوں گاڑیوں کے قافلے کے بجائے وزیر اعظم نے ہیلی کاپٹر کا استعمال شروع کیا تھا۔ بھینسوں کی فروخت اور وزیر اعظم کا ہر تقریر میں اعلان کرنا کہ چوروں کو نہیں چھوڑوں گا، کسی کو این آر او نہیں ملے گا۔ یہ سب بھی تبدیلی کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس سے پہلے وزرائے اعظم بھینسیں نہیں بیچا کرتے تھے اور اپنی تقریروں میں چوروں کو پکڑنے جیسے اعلانات کرنے کے بجائے اپنے منشور، پارٹی پالیسی یا مسقبل کے لائحہ عمل کی باتیں کیا کرتے تھے چناں چہ یہ بھی ایک بڑی تبدیلی ہے۔

ہمارے انصافی دوست بھی ببانگ دہل کہ رہے ہیں کہ تبدیلی آ گئی ہے، اگر وہ یہ کہ رہے ہیں تو ٹھیک ہی کہتے ہوں گے ممکن ہے ہماری نظر کمزور ہو اور ہم اس تبدیلی کو دیکھ نہ پا رہے ہوں۔ اس حوالے سے ایک کمہار اور گدھے والی کہانی یاد آ گئی۔

واقعہ یوں ہے کہ ایک بادشاہ بازار سے گزرا وہاں ایک کمہار دو روپے میں گدھا بیچ رہا تھا۔ اگلے دن بادشاہ پھر وہاں سے گزرا وہ کہار وہیں بیٹھا گدھا بیچ رہا تھا۔ بادشاہ رک گیا اور پوچھا کہ گدھا کتنے کا ہے؟ کمہار نے بادشاہ کو دیکھ کر قیمت پچاس روپے بتا دی۔ بادشاہ بولا کل تو تم دو روپے کا بیچ رہے تھے۔ کمہار گھبرا گیا اور گھبراہٹ میں اس نے یہ کہہ دیا کہ اس پر بیٹھ کر آنکھیں بند کرو تو مدینہ کی زیارت ہوتی ہے۔

اس لئے اس کی قیمت زیادہ ہے۔ بادشاہ نے وزیر سے کہا کہ تم اس پر بیٹھ کر دیکھو کہ مدینہ نظر آتا ہے یا نہیں۔ وزیر بیٹھنے لگا تو کمہار نے فوراً کہہ دیا کہ زیارت صرف نیک، ایماندار اور پارسا لوگوں کو ہوتی ہے۔ اب وزیر نے گدھے پر بیٹھ کر آنکھیں بند کیں، اسے نظر تو کچھ بھی نہ آیا مگر اس نے سوچا کہ اگر میں نے سچ بول دیا تو سب لوگ کہیں گے کہ میں نیک، ایماندار اور پرہیز گار نہیں، چناں چہ اس نے کہا، ”ماشا اللہ مدینہ صاف نظر آ رہا ہے۔ “

بادشاہ کو تجسس ہوا تو اس نے سوچا کہ میں بھی بیٹھ کر دیکھتا ہوں، وہ بھی گدھے پر بیٹھ گیا، آنکھیں بند کیں کچھ بھی نظر نہ آیا اس نے سوچا وزیر تو بچ گیا ہے اب میں کہوں گا نہیں نظر آیا تو سب کہیں گے کہ ہمارا بادشاہ نیک اور ایماندار نہیں۔ اس نے کہا ماشا اللہ سبحان اللہ مجھے مکہ اور مدینہ دونوں دکھائی دے رہے ہیں۔ اور اس کو گدھا بھی 50 روپے میں خریدنا پڑا۔
اب تو آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ تبدیلی آ تو گئی ہے اگر کسی کو دکھائی نہیں دے رہی تو اس میں قصور اسی کا ہے۔

Facebook Comments HS