سرگودھا کے قریب قدرت کا انمول تحفہ: کرانہ جھیلیں
چنیوٹ تا سرگودھا تقریباً چالیس میل تک پھیلا ہوا پہاڑی سلسلہ کرانہ کے نام سے موسوم ہے۔ اس پہاڑی سلسلہ کی سب سے اونچی چوٹی تین سو میٹر بلند ہے۔ اس سلسلہ میں ایک آدھ پہاڑ ہی ایسا ہے جہاں سیاحتی مقام بنایا گیا ہے۔تاہم چند سال قبل یہاں پہاڑوں کی کرشنگ کے دوران دس کے قریب چھوٹی بڑی جھیلیں معرض وجود میں آئی ہیں۔ لیکن ان کے بارہ میں انٹرنیٹ یا کسی کتاب میں معلومات نہ ہونے کے باعث یہ جھیلیں منظر عام پر نہ آسکیں۔
کرانہ پہاڑی سلسلہ میں مختلف مقامات پر برسوں سے پہاڑ کاٹنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اور اس کے نتیجہ میں کاٹے جانے والا پتھر سڑکوں اور عمارتوں کی تعمیر کے سلسلہ میں استعمال کیا جارہا ہے۔ اس سلسلہ میں پہاڑ میں ڈرل کی مدد سے سوراخ کرکے بارودی مواد بھرا جاتا ہے ۔اور اسے آگ لگا کر پہاڑ کو پھاڑا جا تا ہے۔اس کے بعد ان بڑے پتھروں کو مشینوں کے ذریعہ مزید چھوٹا کرکے ضرورت کے مقام پر پہنچا دیا جاتا ہے۔
سرگودھا کے قریب 111 پل سے تقریباً گیارہ کلومیڑ جنوب مغرب کی جانب عالمگیر جامع مسجد کے نزدیک یہ جھیلیں پائی جاتی ہیں اور یہ تمام جھیلیں مندرجہ بالا عمل کے دوران پہاڑوں میں دراڑیں اور راستے بننے کی وجہ سے وجود میں آئی ہیں۔ دراصل سطح زمین کے نیچے قدرت نے پانی کا انمول ذخیرہ رکھا ہوا ہے۔جسے عموماً ہم بورنگ کر کے پمپ لگا کر نکالتے ہیں۔ اور ہر جگہ پر اس پانی کی گہرائی مختلف ہے۔ پہاڑی علاقوں میں پہاڑوں کی جڑیں نیچے تک گئی ہوتی ہیں اور ان میں پہاڑوں کے اندر کسی وجہ سے دراڑیں پیدا ہونے سے زیر زمین پانی باہر نکل آتا ہے۔یہاں بھی کچھ ایسا ہی عمل کار فرما ہوا ہے۔
ان جھیلوں کا پانی زیادہ تر نیلا اور سبز ہے۔ پانی کا ذائقہ نمکیات کی موجودگی کی وجہ سے نمکین ہے۔ پہاڑ چٹیل ہونے کی وجہ سے درخت نہیں ہیں ۔اس علاقہ میں یہ جھیلیں منفرد اور دلفریب سیر گاہ کی حیثیت اختیار کرسکتی ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ یہاں سیر کے لئے آنے والے لوگوں کو سکیورٹی کے ساتھ ساتھ بیٹھنے اور کھانے پینے کی سہولیات فراہم کردی جائیں اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس مقام کی سیاحت کریں اور آگے مزید لوگوں کو اس مقام کی راہنمائی کریں۔
ذیل میں ان تک پہنچنے کا راستہ اور یو ٹیوب کی ویڈیو راہنمائی کے لئے پیش کی جا رہی ہے۔



