شہر ظلمات اور خوف


چند دن پہلے ہی کی بات لگتی ہے کہ ایک بہت ترقی یافتہ شہر ہوا کرتا تھا۔ ساری دنیا کی ہوائی کمپنیاں اس خطے میں کہیں جانے سے پہلے اس کے ہوائی اڈے کو چھونا فرض سمجھتی تھیں۔ دیس دیس کا بحری جہاز وہاں رکتا تھا اور اپنا سامان وہاں چھوڑتا تھا اور وہاں کا سامان اٹھاتا تھا۔

ملک ملک کا سیاح وہاں کی سیر کرنا لازم سمجھتا تھا اور اس کے ریتلے ساحلوں کو دنیا کے بہترین ساحل پاتا تھا۔ اس کے دن روشن تھے اور راتیں جاگتی تھیں۔ شہر میں ٹرام چلتی تھی جو ٹن ٹن کرتی شہر بھر کو ایک سرے سے دوسرے تک لے جاتی تھی۔ جہاں اس ٹرام کی پہنچ نہیں ہوتی تھی، وہاں اس شہر کی اپنی شہری ریلوے لائن پر چلتی ریلیں کام آتی تھیں۔

یہ شہر عروس البلاد کہلاتا تھا۔ برصغیر کی نہ جانے کون کون سی تہذیبیں ادھر آ کر ملتی تھیں۔ سب کہتے تھے کہ مشرق کا دروازہ یہی شہر ہے اور حیران ہوتے تھے کہ یہ بیس سال میں کتنا عروج پائے گا۔

پھر ایک دن وہ ٹرام چپکے سے غائب ہو گئی اور اس کی پٹڑی کوئی سڑک سے اتار کر لے گیا۔
شہر کا چکر لگانے والی ریلوے بھی اس کے پیچھے پیچھے چلی گئی۔
ہوائی جہاز دور دیسوں میں جا کر بسیرا کرنے لگے۔
اور سیاحوں نے آنا جانا چھوڑ دیا۔

بس ایک ہی چیز باقی بچی۔
خوف۔

شاید یہی وہ یونانی دیومالا کا شہر ظلمات ہے جو کہیں کھو گیا۔ خوف جیتے جاگتے زندگی سے بھرپور شہروں کو ظلمات بنا دیتا ہے۔ پھر ادھر صرف بھوت ناچتے ہیں۔ خوف سے امن مل پائے تو پھر ہی ترقی اور خوشحالی کی دیوی ادھر بسیرا کرتی ہے۔ ورنہ لوگ بھوک اور خوف سے گھبرا کر دور دیسوں میں جا بسیرا کرتے ہیں۔

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar