آسیہ بی بی نے رہائی کی خبر سنتے ہی سب سے پہلے کیا کہا؟


 

 سپریم کورٹ نے توہین مذہب کیس میں گرفتار آسیہ بی بی کو بری کردیا۔ ایک خاتون صحافی نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ جب آسیہ بی بی کو عدالتی فیصلے کا علم ہوا تو اس کا کہنا تھا کہ واقعی، کیا اب وہ مجھے رہا کر دیں گے؟

 ریماعباسی نے لکھا کہ عدالتی فیصلے کے بعد آسیہ بی بی نے اے ایف پی سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ”میں یقین نہیں کرپارہی جو میں سن رہی ہوں، کیا اب میں رہا ہو جاؤں گی۔ کیا اب وہ مجھے رہا کر دیں گے، واقعی؟ مجھے کچھ معلوم نہیں کہ کیا کہوں، میں بہت خوش ہوں، مجھے یقین نہیں ہو رہا“۔

 

یاد رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ آف پاکستان نے توہین مذہب کیس میں آسیہ مسیح کو بری کردیا تھا۔ آسیہ مسیح کو توہین عدالت کیس میں ذیلی عدالت کی جانب سے سزائے موت سنائی گئی تھی جس کے خلاف ملزمہ نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر رکھی تھی۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے 8 اکتوبر کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا جو آج سنا دیا گیا ہے۔ بینچ میں جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل بھی شامل تھے۔ سپریم کورٹ نے توہین رسالت کیس میں آسیہ مسیح کو بری کرنے کا حکم دیتے ہوئے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ اگر آسیہ بی بی کسی اور کیس میں ملوث نہیں ہیں تو انہیں رہا کردیا جائے۔

Facebook Comments HS