”عشقِ رسولﷺ“ کا دن سرکاری طور پر منانے کا اعلان


یہ 22 ستمبر 2012 کی پوسٹ ہے، جب گستاخانہ وڈیو کے ردعمل میں رحمان ملک نے ”عشقِ رسولﷺ“ کا دن سرکاری طور پر منانے کا اعلان کیا تھا۔ نتیجے میں دن بھر ہر سوُ آگ بھڑکتی رہی۔ میں مدینے میں تھی۔ اسی دن شام کو پاکستان واپسی کے لیے جدہ پہنچی تو پاکستانی نیوز چینلز پر دن بھر کی آگ کے بعد اب اڑتی راکھ کی خبریں سننے کو ملیں۔ دل نے اس لمحے بے اختیار جو الفاظ لکھ کر پوسٹ کیے، آج دوبارہ شئر کررہی ہوں۔


22.09.2012

آج کچھ دیر پہلے مدینہ منورہ میں گیارہ دن گزار کر جدّہ پہنچی ہوں۔
سبحان اللہ، شانِ رسولﷺ کائنات کے سینے پر اسی شان سے ایک اٹل حقیقت بنی موجود تھی، جس طرح میرے رب نے وعدہ فرمایا ہے۔

” توہینِ رسالت“ جیسے گھٹیا لفظ کے گمان کا بھی گزر نہ تھا مدینے کی فضاؤں سے۔
نہ کوئی جلسہ تھا، نہ کوئی جلوس تھا۔ نہ عشقِ رسولﷺ کے سرٹیفکیٹ جاری ہو رہے تھے اور نہ تبصرے تھے۔
نہ نعرے تھے، نہ ایک تنکا تک خاکستر ہوا تھا۔
نہ دین دکانوں پر ریٹنگ کے لیے بک رہا تھا اور نہ نبیﷺ سے عشق کی بولی لگ رہی تھی۔

کائنات مسجد نبوی کے حصّار میں دم سادھے ٹھہری ہوئی تھی، اور فرشتوں تک نے اپنے پر اپنے ہی وجود میں سمیٹ رکھے تھے کیونکہ میرے رب کا حکم ہے کہ میرے نبیﷺ کے سامنے دھیمی آواز میں بات کرو۔

ادب سے انہیں مخاطب کرو۔
بس مجھ ایسے گناہگار، خطاکار اور منافق امّتیوں کے ٹولے، ریلوں کی صورت دوڑے چلے آ رہے تھے، صرف زندگی بھر کی متاع کے طور پر ایک سلام عرض کرنے کے لیے۔

اور اس سلام کے لیے صرف ایک سرٹیفکیٹ درکار تھا کہ عاشق نہ سہی، مومن نہ سہی، پارسا نہ سہی مگر نبیﷺ کا اُمّتی ہوں۔
یہ سرٹیفکیٹ کسی مُلّا، کسی عالم، کسی پگڑی والے کا، کسی فرقے کا نہیں چاہیے تھا وہاں پر۔

بس، ہر اُمّتی کے اپنے دل کا ایک خاموش اقرار نامہ درکار تھا کہ میں آپ کا اُمّتی ہوں۔ گو کہ عشق مجھے اپنے نام، اپنے جاہ اور اپنے نفس سے ہے۔ کہتا تو یہ ہوں کہ میں آپ پر قربان، مگر مرتا اپنے مال و اولاد پر ہوں۔

سلام عرض کرنے والے ٹولوں میں مجھ ایسے انگنت وہ بھی تو ہوں گے جو یو ٹیوب طرح کی کیچڑ سے بس ابھی ابھی اٹھ کر آئے ہوں گے!
مگر چہرے بتا رہے تھے کہ کوئی بھی مایوس نہیں لوٹایا جا رہا۔ سب نوازے جا رہے ہیں اور بار بار نوازے جا رہے ہیں۔

یاد ہی نہ رہا ہوگا میری طرح کسی کو بھی کہ کیا چیز ہے یو ٹیوب اور فیس بُک اور کیا شے تھے ابھی کچھ دیر پہلے تک ہم خود!
بس ایک چیز کائنات کے پھیلاؤ کو سمیٹے ہوئے پوری شان سے موجود تھی، وہ تھی میرے نبیﷺ کی شان اور شفاعت، جو توھین جیسے لفظ سے قطعی بے نیاز ہے۔

حیران ہوں کہ سعودی حکومت بھی کسی سے عشق اور کردار کا سرٹیفکیٹ نہیں مانگ رہی تھی۔

ڈیمانڈ تھی تو یہ کہ شرک مت کرو۔ تمام عبادت اللہ کے لیے ہے اور کوئی اس کا شریک نہیں۔ بس محمدﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔
جدّہ پہنچی ہوں تو پتہ چلا ہے کہ پاکستان عشقِ رسولﷺ کے نام پر جلتا رہا ہے دن بھر۔
ٹی وی کھول کر دیکھا تو اب محض راکھ اُڑ رہی تھی اور ہر چینل پر نام نہاد عاشقانِ رسولﷺ راکھ مل رہے تھے اپنے اپنے منہ پر!

Facebook Comments HS

نورالہدیٰ شاہ

نور الہدی شاہ سندھی اور اردو زبان کی ایک مقبول مصنفہ اور ڈرامہ نگار ہیں۔ انسانی جذبوں کو زبان دیتی ان کی تحریریں معاشرے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

noor-ul-huda-shah has 102 posts and counting.See all posts by noor-ul-huda-shah