بات مائینڈ سیٹ کی ہے
بات یہ نہیں کہ ایک گائے اعظم سواتی کا گھاس چر گئی۔ نہ ہی یہ کہ بچوں پر تشدد کیا گیا۔ کس نے کس کو پیٹا۔ کسے ہراساں کیا۔ پولیس کا کیا کردار تھا۔ سینیٹر وزیر نے تھانیدار کو فون کیوں نہیں کیا حالانکہ ایک جھگڑے کی بات تھی اور تھانے چوکی کے لیول کا معاملہ تھا۔ آی جی نے اس میں کیا کرنا تھا۔ کیا آئی جی لوگوں کے لڑائی جھگڑے نمٹانے کے لئے ہے۔ پھر وزیر موصوف وزیراععظم کے پاس شکائیت لے کر کیوں گئے۔ اور اگر شکائیت آئی تھی تو ضابطے کی کاروئی کئیے بغیر آی جی کو معطل کیوں کیا گیا۔ بات یہ بھی نہیں کہ وزیراعظم ایک افسر کو معطل نہیں کرسکتے تو وزیر اعظم بننے کا کیا فائدہ۔ بات یہ بھی نہیں کہ سپریم کورٹ نے ایکشن کیوں لیا۔ کیا اس طرح حکومت چل پائے گی یا حکومت کی رٹ رہ پائے گی یا وزیر موصوف کی بات پھر کون مانے گا۔
بات یہ بھی نہیں کہ قبائلی گا ئے فارم ہاوس جیسے مہزب گھر میں چرنے کیوں گئی۔ شہر میں رہتے ہوئے اسے تہزیب کیوں نہیں سکھائی گئی۔ اور اس کے مالکوں کو اتنے بڑے وزیر کے پڑوس میں رہ کر بد تمیزی کرنا کس نے سکھائی۔ ان بچوں کو شہری زندگی کے آداب کیوں نہ آئے۔ اسلام آباد میں اس قبائیلی کو گھر کس نے بنانے دیا۔ جب وہ جھونپڑی تعمیر کر رہے تھے اسی وقت گرا کیوں نہیں دیا گیا۔ اسی طرح کے قبائیلی محسود تھے جو کئی دن ایک بیٹے کے پولیس حراست میں قتل کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ مگر اتنے احتجاج کے باوجود ایک تھانیدار راؤ انوار کو سزا نہ دلوا سکے۔
اب ان قبائیلیوں کا جرگہ بھی احتجاج کرے گا۔ یہ احتجاج رنگ نہیں لا سکے گا۔ سپریم کورٹ پوری کوشش کرے گی لیکن سواتی کے ظلم کا مداوا نہیں کر سکے گی جس طرح کراچی کے محسود مقتول کے قتل کا مداوا نہیں ہو سکا۔ اسی طرح اس ظلم کا بھی ازالہ نہ ہو سکے گا۔ ظلم تو ان قبائیلیوں نے بھی کیا ہے جو سواتی کے مسلح گارڈوں سے بھڑ گئے۔ ان کو یہ حق کس نے دیا تھا کہ حکومت وقت کے سامنے سرکشی کریں۔ سرکشی کرنے والے جیل بھی نہ جائیں تو حکومت کو کون مانے گا۔
اس میں عمران خان کا کیا قصور ہے۔ ابھی اسے حکومت سنبھالے دو ماہ ہی تو ہوئے ہیں۔ ابھی سے احتجاج کرنے کا کیا مقصد ہے۔ چھوٹے موٹے ظلم کم از کم چھ ماہ تو برداشت کریں۔ چھ ماہ تک تو ظلم کی اجازت ہونی چاہیے۔ ویسے عمران خان نے کوئی نیا کام تو نہیں کیا۔ صدیوں سے حکومت کرنے کا یہی طریقہ چل رہا ہے۔ ظلم تو اس صحافی نے کیا ہے جس نے غریب خاندان کو وکیل کروا کر دیا ہے۔ وہ چینل اور میڈیا ظالم ہے جو ایک مہزب اور پرامن وزیر کے خلاف میدان میں اتر آیا ہے۔
بات یہ نہیں کہ اس طرح کے واقعات لندن میں کیوں نہیں ہوتے۔ نہ یہ کہ لاکھوں لوگوں کا ٹرمپ کے خلاف احتجاج امریکی حکومت کو احتجاجاجیوں کے خلاف مشتعل کیوں نہیں کرتا۔ بات یہ ہے کہ ان لوگوں نے جمحوریت اور امن کے لئے ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں کی قربانیاں دی ہیں۔ وہاں الیکشن ہائی جیک نہیں ہوتے اور وزرا پبلک کے سامنے جوابدہ ہوتے ہیں۔ عدالتیں آزادانہ فیصلے کرتی ہیں۔
بات دراصل اس واقعے کی نہیں۔ اس طرح کے واقعات روزانہ پاکستان کے طول وعرض میں وقوع پزیر ہوتے رہتے ہیں۔ ان کا کم ہی تزکرہ یا اشاعت ہوتی ہے۔ بات دراصل اس مائینڈ سیٹ کی ہے جو حاکم اور محکوم میں فرق روا رکھتا ہے۔ جو جاگیر دار اور ہاری کو جدا کرتا ہے۔ یہ وہی مائینڈ سیٹ ہے جو ابوجہل کو ایمان لانے سے منع کرتا ہے۔ یہ وہی مائینڈ سیٹ ہے جو شیطان کو آدم کے آگے سر جھکانے سے روکتا ہے۔ اسی مائینڈ سیٹ کو بدلنے کے لئے اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وصلم تیئس سال تک مصائب برداشت کرتے رہے۔ پھر جا کے مدینہ کی فلاہی ریاست کے خدوخال ابھرے۔


