ایک ذہنی مریض کب خطرے کی گھنٹی بن جاتا ہے؟
کسی بھی شخص کو اس کی مرضی کے بغیر ہسپتال میں داخل کرنا اس کے انسانی حقوق کے خلاف ہے۔ لیکن کبھی کبھار خصوصی حالات میں ایسا کرنا پڑتا ہے۔ آخر وہ خصوصی حالات کیا ہیں؟ ایک ذہنی مریض کب خطرے کی گھنٹی بن جاتا ہے؟
کینیڈا میں جب میں نے FRCP کی ڈگری حاصل کی اور مجھے ماہرِ نفسیات بن کر پریکٹس کرنے کا لائسنس ملا تو مجھے پتہ چلا کہ میرے اختیارات اور فرائض میں نفسیاتی مسائل کے ذہنی مریضوں کا تھیریپی اور ادویہ سے علاج کرنے کے ساتھ ساتھ بعض مریضوں کو ان کی مرضی کے بغیر ہسپتال میں داخل کرنا بھی شامل ہے۔ کینیڈا میں ایک قانون ہے جو MENTAL HEALTH ACT کہلاتا ہے اس کے تحت کوئی بھی ڈاکٹر مریض کو ہسپتال بھیج سکتا ہے اور اگر مریض جانے سے انکار کرے تو ڈاکٹر پولیس کی مدد بھی لے سکتا ہے۔ اس ایکٹ پر عمل کرنے کے لیے ڈاکٹر کو ایک فارم بھرنا پڑتا ہے جو FORM ONE کہلاتا ہے۔
فورم ون بھرنے اور اس پر عمل کرنے کی چند شرائط ہیں۔
1۔ پہلی شرط یہ ہے کہ ڈاکٹر مریض کا معائنہ کیے بغیر وہ فورم نہیں بھر سکتا
2۔ دوسری شرط یہ ہے کہ ڈاکٹر کو یقین ہو کہ مریض ذہنی توازن کھو چکا ہے اور وہ ذہنی طور پر بیمار ہے۔ ذہنی توازن کھونے کی چند علامات HALLUCINATIONS، DELUSIONS، THOUGHT DISORDER ہیں۔ کبھی مریض غیبی آوازیں سنتا ہے اور کبھی بے سرو پا باتیں کرتا ہے۔ کبھی وہ پیرانائڈ ہو کر سمجھتا ہے کہ اس کے عزیز اسے نقصان پہنچانا چاہتے ہیں یا اسے قتل کرنا چاہتے ہیں۔
3۔ تیسری شرط یہ ہے کہ مریض ذہنی توازن کھونے کی وجہ سے یا اپنی یا کسی اور کی زندگی کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔
کینیڈا کے سب صوبوں میں یہی تین شرائط تھیں لیکن پھر چند صوبوں میں چند واقعات ایسے ہوئے جن سے ان صوبوں کے قوانین میں تبدیلی آئی۔
کینیڈا کے ایک صوبے میں ایک ذہنی مریض جب ذہنی توازن کھو دیتا تھا تو وہ نہ تو خود کو نہ کسی اور انسان کو زخمی کرتا تھا لیکن شاپنگ مال میں جا کر کھڑکیاں اور دروازے توڑنا شروع کر دیتا تھا۔ چنانچہ اس صوبے میں چوتھی شرط یہ لگائی گئی کہ اگر مریض کسی PROPERTY کو نقصان پہنچائے اور توڑ پھوڑ کرے تو اسے بھی ہسپتال داخل کیا جا سکتا ہے۔ اگر ایسا شخص ذہنی مریض نہ ہو تو پولیس اسے ہسپتال لے جانے کی بجائے جیل لے جاتی ہے۔
اسی طرح ایک اور صوبے میں ایک مریض جب ذہنی توازن کھوتا تھا تو وہ جانوروں کو قتل کرنا شروع کر دیتا تھا۔ اس صوبے میں قانون میں پانچویں شرط کا اضافہ کیا گیا کہ جانوروں کے بہیمانہ قتل پر بھی ذہنی مریض کو ہسپتال میں داخل کیا جا سکتا ہے۔
کینیڈا کے بعض صوبوں میں سردی کے موسم میں درجہ حرارت منفی تیس درجہ سینٹی گریڈ تک جا سکتا ہے۔ اتنی سردی میں اگر کوئی بزرگ سینیر سٹیزن نرسنگ ہوم سے آدھی رات کو باہر چلا جائے تو وہ ٹھٹھر کر مر بھی سکتا ہے۔ اس لیے چھٹی شرط یہ عائد کی گئی کہ اگر کوئی ذہنی مریض اپنا خیال نہیں رکھ سکتا تو ڈاکٹر اسے ہسپتال داخل کر سکتا ہے۔
ان تمام قوانین اور شرائط کا مقصد یہ ہے کہ ڈاکٹرز کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مریضوں کا خیال رکھیں اور ان کی اور ان کے عزیزوں کی زندگی کو محفوظ رکھنے کی پوری کوشش کریں۔
بعض دفعہ خاندان والے اپنے مریض سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ان کے ساتھ جا کر ڈاکٹر سے ملے لیکن مریض ذہنی بیماری کی وجہ سے تعاون نہیں کرتا۔ ان حالات میں رشتہ دار عدالت میں جا کر جج سے درخواست کر سکتے ہیں اور اگر جج قائل ہو جائے کہ وہ شخص ذہنی مریض ہے اور اپنے لیے کسی اور کے لیے خطرہ ہے تو وہ جج FORM TWO بھر سکتا ہے جس پر عمل کرتے ہوئے پولیس مریض کو اس کی مرضی کے بغیر ہسپتال لے جا سکتی ہے۔
جب مریض اپنی مرضی کے بغیر ہسپتال میں داخل ہوتا ہے تو اسے تین دن وہاں رہنا پڑتا ہے۔ تین دنوں میں ہسپتال کے ڈاکٹروں کو اس مریض کی تشخیص اور علاج کا فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔ اگر مریض علاج کے لیے آمادہ ہو تو اسے واپس گھر بھیجا جا سکتا ہے لیکن اگر وہ ڈاکٹروں اور نرسوں سے تعاون نہ کرے تو ڈاکٹر FORM THREE بھر کراسے ہسپتال میں زیادہ عرصہ بھی رکھ سکتے ہیں۔
جب میں ذہنی امراض کے ہسپتالوں میں کام کیا کرتا تھا تو میری پوری کوشش ہوتی تھی کہ صرف مریض کا ہی علاج نہ ہو بلکہ اس علاج میں خاندان والوں ’ رشتہ داروں اور دوستوں کو بھی شامل کی جائے کیونکہ ہمیں مریض کا خیال رکھنے والوں کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔
میری نگاہ میں کسی ذہنی مریض کا خیال رکھنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ جب کسی مریض کے ڈاکٹر‘ نرسیں ’ خاندان اور دوست مل جاتے ہیں تو وہ مریض کا بہتر علاج کر سکتے ہیں۔ ورنہ ذہنی مریض کا علاج ایک آزمائش بن جاتا ہے۔ ذہنی مریض کسی جسمانی مریض سے اس لیے مختلف ہوتا ہے کہ
دیوانے کے ہمراہ بھی رہنا ہے قیامت
دیوانے کو تنہا بھی تو چھوڑا نہیں جاتا
پچھلی چند دہائیوں میں سائنس‘ طب اور نفسیات کے علوم کی تحقیق کی وجہ سے اب ہم اپنے ذہنی مریضوں کا بہتر خیال رکھ سکتے ہیں اور ان کے لواحقین کی بہتر خدمت کر سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے آج بھی بہت سے ممالک اور کلچرز ایسے ہیں جہاں تعلیم کی کمی کی وجہ سے نفسیاتی مسائل اور ذہنی بیماریوں کا علاج ٹونے ٹوٹکے اور گنڈا تعویز سے کیا جاتا ہے سائیکوتھیریپی اور ادویہ سے نہیں۔ دانائی کی بات تو یہ ہے کہ ہمیں جدید طب اور نفسیات سے پورا پورا فائدہ اٹھانا چاہیے تا کہ ہم اپنے دکھوں کو سکھوں میں بدل سکیں اور اپنے ذہنی مریضوں کی بہتر خدمت اور علاج کر سکیں۔


