آسیہ بی بی کیس: یہ عدالت اور ریاست کے ساتھ کھڑے ہونے کا وقت ہے
یوں تو یہ سب علما اور رہنما مسلکی اور سیاسی اختلافات پر ایک دوسرے کی گردن پکڑنے سے بھی باز نہیں آتے لیکن آسیہ کیس میں سب اس بات پر اتفاق کررہے ہیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ نے پاکستان کے عوام کو مشتعل کر دیا ہے۔ حالانکہ یہ رہنما خود اپنی عاقبت نااندیشی کی وجہ سے ملک و دین دونوں سے ’غداری‘ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ نہ ان میں سے کسی نے اس مقدمہ کا فیصلہ پڑھا ہے اور نہ ہی اس میں دی گئی دلیلوں یا جواز کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ ان لوگوں نے باور کرلیا ہے کہ جب تک لوگ دین کے نام پر ہوش کی بجائے جوش سے کام لیتے ہوئے امن و امان کی صورت حال کو خراب کرنے پر تیار رہیں گے، ان کی دکانداری چلتی رہے گی۔
سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سب سے ’مضبوط‘ دلیل یہ دی جارہی ہے کہ پولیس افسروں سے لے کر ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ تک نے جس بات کو درست قرار دیا ہے اسے سپریم کورٹ کے تین جج غلط کیسے کہہ سکتے ہیں۔ لیکن اس سوال کا جواب سپریم کورٹ کے فیصلہ میں تلاش کرنے کی بجائے لوگوں کو سڑکوں پر لاکر اور عوام کو جھوٹے نعروں سے گمراہ کرنے کا رویہ اپنا یا جا رہا ہے۔ مذہبی رہنماؤں اور نعرہ بازوں کی اس دلیل کا جواب خود ان کے رویہ میں پنہاں ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ باقی دو عدالتوں سے مختلف کیوں ہے۔ ملک میں لوگوں کے جذبات کو اس حد تک بھڑکا دیا گیا ہے کہ وہ سچ جاننے کی بجائے جھوٹ کو سچ ماننے پر اصرار کرتے ہیں۔ توہین عدالت کے مقدمات میں پولیس افسروں اور زیریں عدالتوں پر اس قدر دباؤ ہوتا ہے کہ بیشتر افسر اور جج وہی بات کہنے پر مجبور ہوتے ہیں جسے قبول عام حاصل ہو خواہ اس میں انصاف کا خون ہی کیوں نہ ہو رہا ہو۔ سپریم کورٹ اب تک ایک ایسےادارے کے طور پر موجود ہے کہ اس میں مقرر ہونے والے ججوں پر ویسا دباؤ ڈالنا ممکن نہیں ہوتا جو زیریں عدالتوں پر ڈال کر اپنی پسند کے فیصلے کروالئے جاتے ہیں۔
چیف جسٹس ثاقب نثار کی یہ بات اپنی جگہ پر وزن رکھتی ہے کہ عدالت کسی کی خواہش کے مطابق نہیں، قانون کے مطابق اور شواہد کی روشنی میں ہی فیصلے کرسکتی ہے۔ اگر ان شواہد کے مطابق کوئی بے گناہ ہوگا تو اسے کیسے سزا دی جا سکتی ہے۔ عقیدے اور حرمت رسول ﷺ کے تحفظ کا نعرہ لگانے والے نام نہاد علمائے دین اس سوال کا جواب دینے پر آمادہ نہیں ہیں کہ کیا ان کے عقیدہ اور دینی تفہیم کے مطابق جرائم کے فیصلے ملزم کی مذہبی و سماجی حیثیت اور لوگوں کی خواہش کے مطابق ہونے چاہئیں یا کسی کو صرف اس لئے کسی بھی گناہ کی سزا دے دی جائے کیوں کہ ایک گاؤں کی پنچایت میں ایک نیم خواندہ مولوی نے اس کا اعلان کردیا تھا۔ توہین رسالت کے جھوٹے الزام میں کسی بے گناہ کو پھانسی چڑھانے کا مطالبہ کرنے والے دیندار کیا یہ سمجھنے کے لئے تیار ہیں کہ ان کے اپنے عقیدہ کے مطابق یہ حرکت کتنا بڑا جرم ہے۔
پاکستان میں مذہب اور عقیدہ کے نام پر جو نفرت کاشت کی جا رہی ہے اس سے سماج کا شیرازہ بکھرنے کے علاوہ کوئی مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔ نفرت کی بنیاد پر نہ انصاف عام ہو سکتا ہے اور نہ ہی احترام آدمیت کا مقصد پورا ہو سکتا ہے۔ مسلمان رہنما دنیا بھر میں اسلام کے خلاف سامنے آنے والے منفی مباحث کو مسترد کرتے ہوئے اسلام کو امن کا مذہب اور رسول پاک ﷺ کو رحمت العالمین قرار دیتے ہیں۔ انہیں سوچنا چاہئے کہ ان کی اس دلیل کو قبول کیوں نہیں کیا جاتا۔ اس کی واحد وجہ ان دین داروں کا دوہرا کردار اور جھوٹ ہے۔ یہ لوگ مغرب کے جبر و استحصال کی آڑ لے کر اپنی دوغلی حکمت عملی کو جائز قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن وہ کبھی یہ جاننے پر آمادہ نہیں ہوتے کہ اگر مسلمان ایک بے گناہ عیسائی خاتون کے خلاف اپنے ہی ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے فیصلہ کو تسلیم کرنے کی بجائے اشتعال انگیزی پر اتر آئیں گے اور ججوں کو ہی کافر قرار دیں گے تو ’کافر‘ ملک اور عوام ایسے مسلمانوں کی اپنے مذہب کے بارے میں خوشگوار باتوں کو کیسے تسلیم کریں گے۔
کوئی بھی عقیدہ اس کے ماننے والوں کے کردار سے پہچانا جاتا ہے۔ کیا آسیہ بی بی کو پھانسی دینے کو سب سے بڑا مسئلہ بنانے والے لوگوں کا اپنا کردار اس قابل ہے کہ دنیا کا کوئی ہوش مند اسے دیکھ کر مسلمانوں کے بارے میں اپنی رائے تبدیل کرنے پر آمادہ ہو۔ یہ لوگ اپنی حرکتوں سے اسلام کی شہرت کو داغدار کرتے ہیں اور دنیا کے کروڑوں مسلمانوں کو شرمندہ کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔ اگر اسلام میں عفو اور رسول پاک ﷺ کی سنت میں رحم موجود ہے تو اس کا شائبہ حرمت رسول ﷺ کا نعرہ لگانے والوں کے کرداراور رویہ میں کیوں نہیں ملتا۔
دین کے نام پر نفرت عام کرکے معاشروں کو برباد اور قوموں کو زوال پذیر ہی کیا جا سکتا ہے۔ تاریخ میں کوئی ایسی مثال نہیں ملتی جس میں نفرت نے کامیابی حاصل کی ہو۔ اہل پاکستان کو بھی یہ سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر سیکھنے کی نیت ہو تو امریکہ و یورپ میں رونما ہونے والے واقعات بھی عبرت کے لئے کافی ہو سکتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سیاسی ضرورتوں کے لئے تارکین وطن اور مسلمانوں کو اپنی نعرے بازی کا نشانہ بنایا۔ اسی قسم کا رویہ یورپ کے دائیں بازو کے انتہاپسند سیاست دان بھی اختیار کرتے ہیں۔ لیکن گزشتہ دنوں امریکی ریاست پنسلوانیا میں ایک یہودی سیناگاگ پر حملہ میں11 افراد کو ہلاک کرنے کے واقعہ سے یہ بحث ایک بار پھر سامنے آئی ہے کہ مذہبی اقلیتوں کے خلاف سیاسی بیان بازی سے پیدا ہونے والی سماجی نفرت کا شکار معاشرے کا کوئی بھی طبقہ اور گروہ بن سکتا ہے۔ اسی لئے دائیں بازو کے انتہا پسندوں کی سیاسی کامیابیوں کے بعد یورپ اور امریکہ کے دانشور ایسے سیاسی نعروں اور اظہار کے طریقوں کو ترک کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں جو اتفاق کی بجائے نفاق اور احترام کی بجائے نفرت پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔
پاکستان مذہبی نفرت کے معاملہ میں یورپ اور امریکہ سے بہت آگے بڑھ چکا ہے۔ اس کے لیڈروں، دانشوروں اور لوگوں کو یکساں طور سے اس کی ہلاکت خیزی کا اندازہ ہونا چاہئے۔ وزیر اعظم عمران خان کی یہ بات بالکل درست ہے کہ اس مزاج کی روک تھام کے بغیر ملک میں خوشحالی یا امن ومان کا خواب دیکھنا گمراہی کے سوا کچھ نہیں۔

