آسیہ بی بی کیس: یہ عدالت اور ریاست کے ساتھ کھڑے ہونے کا وقت ہے


آسیہ بی بی کو توہین رسالت کے جھوٹے مقدمہ سے بری کرنے کے بعد سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار کو ناموس رسالت کے لئے جان قربان کرنے کا اعلان کرنا پڑا ہے۔ ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے سربراہ کو وضاحت کرنا پڑی ہے کہ عدالت ثبوت کے بغیر کسی کو سزا نہیں دے سکتی۔ یہ توہین رسالت کا نہیں بلکہ اس عنوان سے کی گئی زیادتی کا معاملہ تھا۔ لیکن ملک میں جاری ہنگاموں اور تند و تیز بیانات کی روشنی میں سمجھا جا سکتا ہے کہ مذہبی جنونیوں کا ایک گروہ تو اس فیصلہ کے خلاف سڑکوں پر نکل کر حکومت کو مجبور اور عدالت کو قائل کرنے کی کوشش کررہا ہے جبکہ ملک کے دیگر مذہبی رہنما اس معاملہ پر سخت گیر طرز عمل اختیار کرتے ہوئے اپنی سیاسی پوزیشن مستحکم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

ایک طرف لبیک تحریک کے مظاہرے، گالی گلوچ اور دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف تین اہم مذہبی سیاسی جماعتوں کے سربراہوں نے سپریم کورٹ سے اپنے فیصلہ پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ جمیعت علمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمان اور مولانا سمیع الحق یوں تو ایک دوسرے سے بیزار ہیں اور اپنے اپنے نام سے بنائی گئی جماعت کی قیادت کرتے ہوئے سیاست کرتے ہیں لیکن آسیہ بی بی کا بری ہونا ان دونوں پر اتنا بھاری گزرا ہے کہ انہوں نے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کے ساتھ مل کر سپریم کورٹ سے نظرثانی کا مطالبہ کرنا ضروری سمجھا ہے۔ حالانکہ کسی مقدمہ میں نظر ثانی کے لئے پریس کانفرنس کرنے کی بجائے کسی وکیل سے رابطہ کرکے قانونی تقاضے پورے کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

ان تین علما اور سیاسی و مذہبی رہنماؤں کی پریس کانفرنس کا مقصد آسیہ بی بی سے متعلق معاملہ، الزام کی نوعیت، صداقت یا شواہد کی چھان پھٹک نہیں ہے بلکہ انہوں نے یہ پریس کانفرنس منعقد کرکے لبیک تحریک کی اشتعال انگیزی سے پیدا ہونے والے ماحول میں اپنی جگہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ گویا دین کے یہ نام نہاد ٹھیکے دار نہ قانون کی پرواہ کررہے ہیں اور نہ ہی یہ سمجھنے پر تیار ہیں کہ سپریم کورٹ نے آسیہ بی بی کے خلاف تمام شواہد اور ثبوتوں کا جائزہ لے کر اور گواہوں کے بیانات میں جھول اور تضادات کا تفصیل سے حوالہ دے کر اس خاتون پر عائد کئے جانے والے الزام کو غلط قرار دیا ہے۔

چیف جسٹس نے فیصلہ کے نصف حصہ میں جس تفصیل سے حرمت رسولﷺ کے متعلق قرآن کے حوالے دئیے اور مذہب یا رسول پاک ﷺ کے بارے میں نازیبا کلمات کو سنگین جرم قرار دیا ہے، انہیں پڑھنے کے بعد کوئی ذی ہوش سپریم کورٹ کی ججوں کے عقیدہ کے بارے میں حرف زنی کرنے کا حوصلہ نہیں کرسکتا۔ لیکن نعرے لگا کر سڑکوں پر نکلنےوالے لوگوں کے علاوہ سوشل میڈیا پر حرمت رسول ﷺ کے لئے جان قربان کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد نے گمراہ کن پروپیگنڈا کا المناک اور ناقابل قبول طوفان بپا کیا ہؤا ہے۔ مذہب کے نام پر سیاست کرنے والے رہنماؤں کے بیانات کا مقصد بھی لوہا گرم دیکھ کر اپنے حصے کی چوٹ لگانا ہے تاکہ اس نعرے کی بنیاد پر جب سیاسی بندر بانٹ کا موقع آئے تو وہ محروم نہ رہ جائیں۔ ان تین رہنماؤں نے فیصلہ پر نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ دلیل دی ہے کہ اس سے عوام میں اضطراب پیدا ہؤا ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق کا کہنا تھا کہ ’قوم اس فیصلے پر حیران و پریشان ہے۔ قوم اس فیصلے سےمتفق نہیں لہٰذا سپریم کورٹ اس فیصلے پر نظر ثانی کرے‘۔

صدر تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان اور مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے چئیرمین مفتی منیب الرحمٰن نے آسیہ بی بی کیس میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’سپریم کورٹ کے اس فیصلہ نے مسلمانان پاکستان کے دل دکھی کردئیے ہیں۔ یہ فیصلہ ملی وحدت کو کمزور کرنے کا باعث بنے گا‘۔ حالانکہ جو رویہ مذہب کے یہ ٹھیکیدار اختیار کر رہے ہیں وحدت ملی کو اصل خطرہ اسی سے لاحق ہے۔ ملک و قوم کا یہ مزاج بنا دیا گیا ہے کہ ایک بے گناہ خاتون کی رہائی کے فیصلہ کو مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کسی بھی منصب پر فائز عالموں یا لیڈروں کو یہ سمجھنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی کہ کیا حرمت رسول ﷺ کا یہی تقاضہ ہے کہ کسی بے گناہ شخص کو جھوٹے الزامات اور جھوٹی گواہیوں کی بنیاد پر تختہ دار پر چڑھا دیا جائے تاکہ لوگوں کے ان وحشیانہ جذبات کی تسکین ہو سکے جنہیں بھڑکانے میں اس ملک کے ہر طبقہ نے اپنی ضرورت اور سہولت کے مطابق حصہ ڈالا ہے۔ اس وقت بھی ایک اشتعال انگیز صورت حال کو ختم کرنے کے لئے مذہبی و سیاسی رہنما ہوشمندی سے کام لے کر ملک کے علاوہ مسلمانوں کی بہبود کے بارے میں سوچنے کی بجائے سیاسی مفادات اور مذہبی جوش میں اپنی سیادت کو یقینی بنانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔

باقی اداریہ پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali