حکومت آسیہ بی بی کا نام ای سی ایل پر ڈالنے کا ارادہ نہیں رکھتی: نظرثانی درخواست سے لاتعلقی کا اعلان


آسیہ بی بی کی بریت کے فیصلے پر نظرثانی کے لیے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں نظرثانی کی درخواست قاری سلام نے ایڈووکیٹ اظہر صدیق اور غلام مصطفیٰ چوہدری کی وساطت سے دائر کی ہے۔ نظرثانی درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’آسیہ بی بی نے تفتیش کے دوران جرم کا اعتراف کیا تھا اور ایف آئی آر تاخیر سے درج کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ ملزم بے گناہ ہے‘۔

نظرثانی کی درخواست میں سپریم کورٹ سے درخوات کی گئی ہے کہ وہ ’آسیہ بی بی سے متعلق بریت کے فیصلے پر نظرثانی کرے اور اُس درخواست کے فیصلے تک آسیہ بی بی کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے‘۔

برسراقتدار پاکستان تحریکِ انصاف نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت کا آسیہ بی بی کا نام ای سی ایل پر ڈالنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے ایک ٹویٹ میڈیا میں کنفیوژن کو کلیئر کرنے کے لیے لکھا ہے ’ایک شخص نے سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست دائر کی ہے اور اس میں مطالبہ کیا گیا ہے آسیہ بی بی کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے۔ حکومت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ نظر ثانی کی درخواست اور اس میں اختیار کردہ موقف سپریم کورٹ اور درخواست گزار کے درمیان معاملہ ہے۔ وزیر اعظم کی اس حوالے سے موقف واضح ہے۔‘

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ نظرثانی کی درخواسدت ایک آئینی راستہ ہے جو متاثرہ فریق کا حق ہے۔ تاہم توڑ پھوڑ، ھنگامہ آرائی اور دھمکیاں ناقابل قبول ہیں اور وزیر اعظم کے اعلان کے مطابق ایسے عناصر سے سختی سے نبٹا جائیگا۔ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے۔ اداروں کی استطاعت اور صلاحیت کے بارے میں غلط فہمی دور کر لیں ورنہ پچھتائیں گے۔

دوسری طرف انتہا پسندوں کے لئے نرم گوشہ رکھنے کی شہرت کے حامل پنجاب کے وزیرِ اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے ایک نجی ٹی وی چینل پر بات کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ آج رات تک دھرنا ختم ہو جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ آسیہ بی بی کا نام ای سی ایل پر ڈالنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے اور ’اسی طرح دھرنا ختم ہوجائے گا۔‘

Facebook Comments HS