انڈیا میں دنیا کا بلند ترین اور مودی کی انا
مجسمہ بنوانے اور بنانے کی روایا ت صدیوں پرانی ہے۔ تاریخی اعتبار سے ہر دور میں کسی نامور شخصیت، جانور اورخیالی چیزوں کے مجسمے آج بھی دنیا بھر میں پائے جاتے ہیں۔ دنیا جب سے قائم ہوئی ہے، بتوں کو دیکھ کر خدا ماننا اور ان کی عقیدت میں سرِخم تسلیم کرنازمانۂ قدیم سے چلا آرہا ہے۔ وہیں مورخین مجسموں کو دیکھ کر اس زمانے کے رہن و سہن، معاشرے اور ماحول کا اندازہ لگاتے آئے ہیں۔ آج بھی کسی امیر کے گھر کے قریب سے گزر ہو تو آپ چھوٹی بڑی شکلوں میں مجسموں کو گھر کے باہراورگھر کے اندر موجود پائیں گے۔ جس سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مجسموں کو پسند کرنے والے زیادہ تر لوگ رئیس یاطاقت ور ہوتے ہیں۔ تاہم اب بھی بہت سارے مذاہب اور فرقے کے لوگ بتوں یا مجسموں کو رکھنا ضروری سمجھتے ہیں۔
اسلام مذہب میں بت سازی اور مجسمہ تراشی کی اجازت نہیں ہے۔ اسلام میں مجسمہ لگانا، بت پرستی کے مترادف ہے۔ لیکن ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ دولت اور طاقتور لوگوں نے مذہبی احکامات بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی آن بان اور شان وشوکت کے لیے مختلف شکلوں کے مجسمے بنا کر ایک الگ شناخت قائم کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ کئی ایسے مسلم حکمراں گزرے ہیں جن کے محلوں اور علاقوں میں آج بھی مجسمے پائے جاتے ہیں۔ جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ گزشتہ حکمراں مذہب ِاسلام کو مانتے ہوئے بھی مجسمے بنوانے میں دلچسپی رکھتے تھے۔
کچھ مہینے قبل بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں سپریم کورٹ کے باہر ہزاروں لوگوں نے اس لیے مظاہرہ کیا تھاکیونکہ وہاں ”انصاف کی دیوی“ کا مجسمہ لگایا گیا تھا۔ بنگلہ دیش سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر لگائے گیے انصاف کی دیوی کا مجسمہ یونانی دیوی تھیمس سے مماثلت رکھتا ہے۔ بس فرق اتنا ہے کہ ڈھاکہ میں سپریم کورٹ کے باہر لگائی گئی دیوی نے ساڑی پہن رکھی ہے۔
گویا تاریخی اور روایتی پس منظر ہمیں مجسمے سازی کی اہمیت سے واقف کراتا ہے۔ لیکن ہم سب کوخودسے ایک سوال کرنا چاہیے کہ کیا مجسمہ لگاناضروری عمل ہے اور اگر ہے تو اس کی اہمیت کیاہے؟ شاید اس کاجواب ہمیں معلوم ہے لیکن ہم اپنی انا اور طاقت کے بل بوتے پر اپنی آن بان ا ور شان کی خاطر مجسموں کو نصب کرنے میں کوئی کسر چھوڑنے کو تیار نہیں ہیں۔
31 اکتوبرکو ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے دنیا کے سب سے طویل القامت مجسمے کی نقاب کشائی کی۔ ریاست گجرات میں ہندوستان کی جدوجہد آزادی کے لیڈر سردار ولبھ بھائی پٹیل کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے تقریباً 182 میٹر ( 600 ) فٹ اونچا فولادی مجسمہ تیا ر کیا گیا ہے۔ اس مجسمے کو تیار کرنے میں لگ بھگ 30 ارب روپے خرچ کیے گیے ہیں۔ جو کہ ریاستی حکومت اورمرکزی حکومت کے مالی امداد کے علاوہ عام لوگوں نے بھی اپنی جیب سے چندہ دینے میں دل چسپی دکھائی ہے۔
اس سے قبل اتوار کے ہفتہ وار ریڈیو پروگرام ”من کی بات“ میں وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے پیغام میں کہا کہ ”سردار پٹیل کا مجسمہ دنیا میں ہندوستان کے وقار میں اضافہ کرے گا“۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس بار سردار پٹیل کی سالگرہ خاص ہوگی کیونکہ اس دن گجرات میں نرمدا ندی کے ساحل پر واقع سردار پٹیل کے مجسمے کی نقاب کشائی ہوگی جو دنیا میں سب سے اونچا مجسمہ ہوگا“۔
سردار ولبھ بھائی پٹیل ہندوستان کے پہلے نائب وزیراعظم اور وزیر داخلہ رہ چکے ہیں۔ سردار پٹیل آزاد ہندوستان کے بانیوں میں سے ایک تھے۔ ان کا تعلق کانگریس پارٹی سے تھا جو اِس وقت انڈین“ ”نیشنل کانگریس پارٹی کہلاتی ہے۔ انہوں نے آزادی کے بعد شورش زدہ ریاستوں کو متحد کرنے میں نمایاں رول نبھایا تھا۔ جس کی وجہ سے انہیں“ آئرن میں آف انڈیا ”بھی کہا جاتا ہے۔ سردار ولبھ بھائی پٹیل ہمیشہ کانگریس پارٹی سے منسلک رہے اور انہیں پارٹی میں کافی سنیئر لیڈر مانا جاتا تھا۔
سردار ولبھ بھائی پٹیل کے مجسمے کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ بلند مجسمہ دنیا کا سب سے بڑا مجسمہ ہوگیا ہے۔ جو کہ ایک اہم بات مانی جارہی ہے۔ اس سے قبل چین کی سپرنگ ٹیمپل بدھا کو سب سے طویل مجسمہ مانا جاتا تھا جس کی اونچائی 138 میٹر ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہندوستانی وزیراعظم نے اس کام میں تیزی کے لیے چین سے بھی مزدوروں بلوایا تھا تاکہ یہ کام جلدی اور کم وقت میں پایۂ تکمیل کو پہنچ سکے۔
31 اکتوبر 2013 کو گجرات کے وزیراعلیٰ نریندر مودی نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے دنیا کے سب سے اونچے مجسمے کاسنگِ بنیاد رکھا تھا۔ اس مجسمے کی تعمیر میں پگھلی ہوئی دھات اور لوہے کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مجسمے کے آس پاس ایک باغ، ایک نمائش گاہ اور ایک زیر آب ایکوریم بھی بنایا گیا ہے۔ تاکہ دنیا بھر سے زیادہ سے زیادہ سیاح اس مجسمے کو دیکھنے کے لیے پہنچیں۔
خیر سردار پٹیل کا مجسمہ دنیا کا طویل قامت مجسمہ بن گیا ہے جس پر دنیا کے سیاحوں کی نگاہیں لگی ہوئی ہیں۔ برطانیہ میں بھی اس بات پر کافی چرچا ہورہی ہے کہ ہندوستان میں دنیا کا سب سے طویل قامت مجسمہ بنایا گیا ہے۔ زیادہ تر لوگ اس مجسمے کو تاریخی نقطۂ نگاہ سے نہیں دیکھ رہے ہیں بلکہ وہ صرف اس بات میں دلچسپی دکھا رہے ہیں کہ آخر اتنا اونچا مجسمہ کیسا دکھے گا۔ برطانوی میڈیا نے اس خبر کو کافی تفصیل سے نشر کیا ہے۔
ہندوستان میں آج بھی لاکھوں لوگ بھوکے ننگے رہ رہے ہیں۔ جن کو نہ تو وقت پر کھانا ملتا ہے اور نہ بیماری کے علاج کے لیے سہولتیں میسر ہیں۔ لیکن سیاسی پارٹیاں ہر بار انہیں لوگوں کے ووٹ سے حکومت سازی کرکے ایسے مجسمے بنا رہی ہیں جو ایک محض انا اور اعتدال پسندی کا نمونہ ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب گاندھی جی کا مجسمہ لندن کے پارلیمنٹ اسکوائر میں نصب ہورہا تھا تو منتظمین نے گاندھی جی کے مجسمے کو پارلیمنٹ اسکوائر میں موجود دیگر مجسموں سے نیچا بنانے کی اپیل کی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ گاندھی جی کو عہدہ اور برتری کی کوئی خواہش نہیں تھی۔ تو پھر ان کے ساتھ ہندوستان کی آزادی میں حصّہ لینے والے سردار پٹیل کے مجسمے کو دنیا کا طویل قامت مجسمہ بنا کر نریندر مودی نے گاندھی جی کی سادگی، عاجزی اور انکساری کا مذاق کیوں بنایا ہے۔
نریندر مودی نے اپنی خود پرستی اور قوم پرستی کی بنا پر سردار پٹیل کا فولادی طویل قامت مجسمہ بنا کر اپنی انا پرستی اور اعتدال پسندی کی جنگ تو جیت لی ہے۔ لیکن ان کروڑوں ہندوستانی جوغربت، مفلسی، بھوک مری، بے روزگاری، مذہبی نفرت، بھید بھاؤ اور ظلم و جبر کے شکار ہیں، شاید نریندر مودی ان کا دل کبھی نہیں جیت پائیں گے۔
مجھے سردار پٹیل کے مجسمے سے کوئی بحث نہیں ہے کیونکہ سردار پٹیل مجاہدِ آزادی تھے اور ہندوستان کے پہلے وزیر داخلہ اور ڈپٹی وزیر اعظم بھی تھے۔ اس لیے ان کا مجسمہ نصب کرنا کئی معنوں میں اہمیت کا حامل ہے۔ لیکن اس مجسمے کو تیار کرنے میں لگ بھگ 300 ارب روپے خرچ کرنا، میں اسے ایک ناقابلِ قبول بات مانتا ہوں۔ کیا اس رقم سے گجرات اور ہندوستان کے ہزاروں کسان جو قرض کے بوجھ تلے ابھی تک دبے ہوئے ہیں اور بہتوں نے خود کشی بھی کر لی ہے، ان کی مدد نہیں کی جاسکتی تھی؟ کیا ان کسانوں کی زمینوں پر فصلیں بنا قرض لیے اگائی نہیں جا سکتی ہیں؟ ایسے کئی سوال ہیں جن کا جواب دنیا کا سب سے طویل قامت مجسمہ دینے سے قاصر ہے۔


