’ جمال خاشقجی خطرناک تھا‘: سعودی ولی عہد کا امریکا کو فون
سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدرکے داماد جیرڈ کشنر اور سکیورٹی ایڈوائزرجان بولٹن سے ٹیلی فونک گفتگو میں سعودی صحافی جمال خاشقجی کو خطرناک قرار دیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی اخبار کا دعویٰ ہے کہ سعودی ولی عہد کی جیرڈکشنر اور جان بولٹن کو تازہ ترین ٹیلی فون کال 9 اکتوبر کوکی گئی۔
اخبار کے مطابق سعودی ولی عہد نےجیرڈ کشنر اورجان بولٹن کو جمال خاشقجی کی ہلاکت تسلیم کئےجانے سے قبل ٹیلی فون کیا اور جمال خاشقجی کو خطرناک قرار دیتے ہوئے وائٹ ہاؤس پر سعودی عرب تعلقات برقرار رکھنے پر بھی زوردیا۔
جمال خاشقجی کےاہل خانہ نے امریکی اخبار کوجاری کیے جانے والے بیان میں اس بات کی تردید کی ہے کہ جمال خاشقجی کا کسی شدّت پسند گروپ سےتعلق نہیں تھا اور نہ وہ خطرناک شخص تھے۔
دوسری جانب سعودی حکام نے رپورٹ کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی ولی عہد اور امریکی اعلی حکام کےدرمیان گفتگوہوتی رہتی ہے تاہم ایسا کچھ نہیں کہا گیا۔وائٹ ہاؤس نے بھی سعودی ولی عہد کی امریکی حکام سےگفتگوکی تردید کی ہے۔
اس سے قبل ترکی نے جمال خاشقجی کی موت کے بعد باضابطہ طور پر پہلا پیغام جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی قونصل خانے میں داخل ہوتے ہی ان کا گلا گھونٹ دیا گیا تھا اور ان کے ٹکرے ٹکرے کر کے ان کی لاش کو ٹھکانے لگا دیا گیا تھا۔


