حکومت اور تحریک لبیک کے مذاکرات کامیاب: دھرنا ختم
وفاقی حکومت اور اسلام آباد میں ہونے والے تحریک لبیک کے دھرنے کے مظاہرین کے مابین معاملات طے پا گئے ہیں ۔
پانچ نکاتی معاہدے میں کہا گیا ہے کہ آسیہ مسیح کے مقدمے میں نظر ثانی اپیل دائر کردی گئی ہے، جو مدعا علیہان کا قانونی حق و اختیار ہے جس پر حکومت معترض نہیں ہو گی۔
آسیہ مسیح کا نام فوری طور پر ای سی ایل میں شامل کرنے کے لئے قانونی کارروائی کی جائے گی۔
آسیہ مسیح کی بریت کے خلاف تحریک میں اگر کوئی شہادتیں ہوئی ہیں تو ان کے بارے میں فوری قانونی کارروائی کی جائے گی۔
آسیہ مسیح کی بریت کے خلاف 30 اکتوبر اور اس کے بعد جو گرفتاریاں ہوئی ہیں اُن افراد کو فوری رہا کیا جائے گا۔
اس واقعے کے دوران جس کسی کی بلاجواز دل آزاری یا تکلیف ہوئی ہو تو تحریک لبیک معذرت خواہ ہے۔
معاہدے پر وفاقی وزیر مذہبی امور صاحبزادہ ڈاکٹر نورالحق قادری، صوبائی وزیر قانون پنجاب راجہ بشارت، سرپرست اعلیٰ تحریک لبیک پیر محمد افضل قادری اور مرکزی ناظم اعلیٰ تحریک لبیک محمد وحید نور نے دستخط کیے۔
واضح رہے کہ معاہدے کی دستاویز میں آسیہ بی بی کا نام ہر جگہ عاصیہ بی بی لکھا گیا ہے جو اس کے نام کا درست املا نہیں۔ تحریک لبیک اپنے احتجاجی بینرز پر آسیہ بی بی کے نام کا یہی املا استعمال کرتی رہی ہے۔ عاصیہ عربی زبان میں گناہگار کو کہا جاتا ہے۔ قانونی ماہرین نے رائے دی ہے کہ معاہدے کی دستاویز میں دانستہ یا نادانستہ طور پر عدالت عظمیٰ سے بری ہونے والی خاتون کا نام غیر درست لکھنے سے معاہدے کی قانونی حیثیت پر سوالیہ نشان پیدا ہو جائے گا کیونکہ معاہدے سے انحراف کا خواہشمند فریق یہ موقف اختیار کر سکتا ہے کہ معاہدے میں مذکورہ عاصیہ بی بی کا عدالت عظمیٰ سے 31 اکتوبر کو بری ہونے والی آسیہ بی بی سکنہ ننکانہ سے کوئی تعلق نہیں۔



