مذہب اور پاکستانی ریاست
پاکستان ایک مسلم اکثریتی ملک ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو پاکستان کو مذہبی حوالہ سے کوئی ایسی تشویشناک صورتحال درپیش نہیں ہونی چاہیے جس سے ملک میں مذہبی حوالوں سے امن و امان کی صورتحال اس قدر دگرگوں ہو جو عالمی سطح پر ملک کے لئے شرمندگی کا باعث بنے۔ اسے بد قسمتی کہیے کہ گذشتہ کئی دہائیوں سے پاکستان کے ساتھ کچھ ایسا ہی ہوتا چلا آرہا ہے۔ پاکستان کو اندرون اور بیرون ملک درپیش مسائل کا رشتہ کہیں بالواسطہ اور کہیں بلاواسطہ مذہب سے جڑ ہی جاتا ہے۔
ملک کو اس صورتحال سے دوچار کرنے میں ریاست کے تمام مقتدر اداروں نے اپنا اپنا حصہ ڈالا ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ تحریک لبیک یا رسول اللہ (ص) جیسی مذہبی جماعتیں جن کا جنم چند برس قبل ہوا ہے آئے دن مذہب کے نام پر ریاستی نظام کو درہم برہم کر کے رکھ دیتی ہیں۔ ان جماعتوں کے رہنما ملک کے اعلٰی ترین اداروں جن میں پارلیمنٹ اور عدالت عظمی بھی شامل ہیں کے لئے گئے آئینی اور قانونی فیصلوں پر تنقید کے لئے انتہائی قابل اعتراض الفاظ استعمال کرتے ہیں۔
جمہوریت میں تنقید کا حق سب کو حاصل ہے۔ لیکن مہذب معاشروں میں اختلاف رائے اور تنقید اس پیرائے میں کی جاتی ہے جو بحث کو گالم گلوچ کی سطح تک نہ لے جائے۔ پاکستان میں بدقسمتی سے متعدد متعبر طبقات گالم گلوچ کو ہی بہترین دلیل سمجھتے ہیں۔ سیاسی لحاظ سے دیکھا جائے تو ہماری نئی حکومت نے بحث میں گالی اور مخاطب کے لیے ’تو‘ کا صیغہ استعمال کرنے کی روایت قائم کی۔ اس سے پہلے کے بحث کا رخ کسی دوسری جانب مڑ جائے واپس مذہب اور ریاست کی جانب لوٹتے ہیں۔
جیسا کہ عرض کر چکا ہوں کہ ایک مسلم اکثریتی ملک ہونے کی حثیت سے پاکستان میں مکمل مذہبی ہم آہنگی پائی جانی چاہیے لیکن حقیقت میں معاملہ اس کے برعکس ہے۔ وجہ اس کی شاید یہ ہے کہ پاکستان ایک مسلم اکثریتی ملک ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ملٹی کلچرل معاشرہ بھی ہے۔ جس میں کئی علاقائی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ لوگوں کے رہن سہن اور رسومات میں علاقائی رنگ نمایاں نظر آتا ہے۔ یہاں ہمیں یہ بات بھی نہیں بولنی چاہیے کہ 1947 سے قبل مسلم اور ہندو ایک معاشرہ کا حصہ تھے اس لیے مشترکہ معاشرتی رسم و رواج کا رنگ ایک دوسرے کے مذہبی عقائد پر چڑھنا ایک قدرتی عمل تھا۔
اس سلسلہ میں ہم اپنی شادی بیاہ کی رسومات اور خاندانی ں ظام کا عمومی جائزہ لیں تو ہمیں ہندو اور مسلم روایات میں مماثلت تلاش کرنے میں کو دقعت پیش نہیں آئے گی۔ آزادی کی نوید ملنے کو فوراً بعد محمد علی جناح جیسے دوراندیش حکمت کار نے یہ بھانپ لیا تھا کے مستقبل میں پاکستان جیسے ملٹی کلچرل معاشرہ کو مذہبی لحاظ سے متحد رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ لوگوں کو مساجد، گرجا گھروں اور مندروں میں جانے کی پوری آزادی اس طرح دی جائے کہ ریاست عوام کے مذہب سے کوئی سروکار نہ رکھے۔
حکمت عملی لاجواب دی لیکن افسوس زندگی نے محمد علی جناح کا ساتھ نہ دیا۔ جناح کی رحلت کے بعد جو ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ ذوالفقار علی بھٹو جیسے ایک مدبر اور زیرک سیاست دان نے سیاسی مصلحتوں کو ریاستی مفادات سے مقدم جانا اور ایک مخصوص عقیدہ رکھنے والوں کو آئینی طور پر دائرہ اسلام سے خارج کر دیا۔ اس کے فوراً بعد افغان جنگ کے ثمرات کے طور پر ہمارا ایمان درست کرنے کا سلسلہ شروع ہوا۔ اس سلسلہ میں سعودی عرب جیسے برادر اسلامی ممالک نے ہماری دل کھول کر مدد کی اور اب بھی کر رہے ہیں۔
مرد مجاہد ضیاءالحق کی زیرنگرانی سلفی عقیدہ کے تحت ہمارے ایمان کی درستگی کا عمل شروع ہوا جو ابھی تک جاری ہے۔ تاہم حالیہ صدی کے آغاز سے بیرون اور اندرون ملک اس عقیدہ کہ پیروکار جنہیں طالبان، داعش اور القاعدہ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کے لئے حمایت کچھ کم پڑ گئی ہے۔ اس تناظر میں عوامی مذہبی عقیدہ کو راہ راست پر رکھنے کے لیے ریاست پاکستان نے بریلوی حضرات سے مدد کی درخواست کی جو انہوں نے بخوشی فراہم کی۔
اس سلسلہ میں طاہرالقادری کئی مواقع پر کینیڈا سے پاکستان تشریف لائے اور ایک اسلامی فلاحی ریاست کا خاکہ پیش کیا۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ کینیڈا کی حکومت کو اس بات پر مائل نہ کر سکے وہ ان کی اسلامی فلاحی ریاست کے تصور کو کینیڈا میں حقیقت کا روپ دیں۔ اب بات مولانا خادم رضوی اور ان کے ارشادات پر رکی ہے۔ اس آگے کی صورتحال کے بارے میں خوف آتا ہے۔ آج کل مولانا خادم رضوی پھر سے وفاقی دارالحکومت کو بندکیے بیٹھے ہیں۔
حتجاج ختم ہو گیا ہے اور مظاہرین گھروں کو چلے گئے ہیں لیکن ریاست پاکستان کو غور کرنا چاہیے کہ کیا یہ مسئلہ کا حل ہے؟ کیا گارنٹی ہے کہ چند ماہ بعد مولانا مظاہرین کے لشکر کے ساتھ وفاقی دارالحکومت پر پھر چڑھائی نہیں کریں گے۔ ریاست اور اس کے مقتدر اداروں نے 80 کی دہائی سے ریاستی نظام کو مذہبی اطوار سے چلانے کا انجام دیکھ لیا ہے۔ جناح کے تصور ریاست کی طرف لوٹ جانے کا ابھی بھی وقت ہے۔
سیکولر ریاست کے معنی غیر اسلامی ریاست ہرگز نہیں۔ پروفیسر عبداللہ احمد النعیم نے اپنی کتاب Islam and the secular state میں اس موضوع پر تفیصلا بحث کی ہے۔ کتاب کے باب نمبر سات کے آغاز میں پروفیسر النعیم لکھتے ہیں کہ ان کے مطابق سیکولر ریاست کے تصور میں کچھ بھی غیراسلامی نہیں۔ کیونکہ سیکولر ریاست ایک ایسا وسیلہ ہے جس کے ذریعہ روزمرہ زندگی میں اسلام کی نامیاتی اور قانونی حثیت کا تعین کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں پروفیسر النعیم مزید کہتے ہیں ”The Quran addresses Muslims as individuals and community without even mentioning the idea of a state“ سیکولر اور اسلامی ریاست کے حق اور مخالفت میں دلائل بے شمار ہوں گے۔
ان پر بحث کسی اور وقت تک اٹھا رکھتے ہیں۔ ہمیں یہ بات جان لینی چاہیے کہ معاشرے اور ان سے جڑی ثقافت جامد نہیں ہوتی۔ معاشرے اور ثقافت وقت کے لحاظ سے بدلتے رہتے ہیں اور ریاستیں انہیں کے مطابق اپنے آئین اور قوانین کو ڈھالتی ہیں۔ جو ریاستیں ایسا کرنے سے گریز کرتی ہیں وہ شکست و ریخت کا شکار ہو کر بالآخر ختم ہو جاتی ہیں۔ ہمیں اس بات کا بھی ادراک ہونا چاہیے کہ پاکستان نہ ایران ہے اور نہ سعودی عرب جہاں ریاست کے جبر سے ایک مذہبی عقیدہ عوام پر مسلط کر دہا گیا ہے۔
ایسے نظام زیادہ دیر تک قائم نہیں رہتے اور یہ رہیں گے۔ پاکستان کو ایک ریاست کی حثیت سے اپنی صورتحال کا ادراک کرکے نظام میں تبدیلی لانی چاہیے۔ کام بہت مشکل ہے لیکن حالات موزوں تر ہن ہیں۔ کسی بھی معاشرہ میں ریاست سب سے طاقتور ہوتی ہے۔ وقت آگیا ہے کہ اس موضوع پر بے لاگ علمی بحث کی حوصلہ افزائی کرنے کے ساتھ ساتھ ریاست اپنی طاقت کا جائز استعمال کرے

