داتا گنج بخش اور کشف المحجوب، ذرا مختلف زاویے سے
علی ہجویری کی مزار پر لگے ہوئے کتیبہ میں ان کی وفات کا سال 465 ہجری لکھا گیا ہے اور اکثر سوانح نگاروں نے بھی ان کی وفات کا یہی سال لکھا ہے۔ پاکستان میں غالبا صرف پروفیسر ڈاکٹر مولوی محمد شفیع نے ان کی وفات کی تاریخ 481 ہجری سے سن 500 ہجری تک کا درمیانی دورانیہ لکھا ہے۔ کشف المحجوب کا سب سے مستند نسخہ پاکستان میں سنجیدہ علمی تحقیق کے حوالے بلند قد وقامت رکھنے والے مولوی محمد شفیع ہی کے کتاب خانے میں موجود تھا یہ نسخہ خواجہ بہا الدین ذکریا کے قلم سے لکھا گیا ہے۔
گوکہ میاں محمد شفیع نے داتا صاحب کی وفات کے سال 465 ہجری سمجھنے کی راے سے اتفاق نہیں کیا ہے تاہم اس نسخے کی مقدمہ میں ان کی نگارشات سے لگتا ہے کہ اس دعوے کی تصدیق کے لیے ان کا توجہ بھی اس مضبوط دلیل کے جانب مبذول نہیں ہوا ہے جس دلیل کو اسی نسخے سے نامور افغان محقق علامہ ڈاکٹر عبدالحئی حبیبی نے اخذ کیا ہے اور وہ دلیل یہ ہے کہ علی ہجویری کی یہ اسلوب ان کی کتاب میں شروع سے آخرتک جاری ہے کہ وہ صرف انتقال کرجانے والے بزرگوں کے نام کے ساتھ ہی رحمتہ اللہ علیہ یا رضی اللہ عنہ لکھتے ہیں۔
اسی سلسلے میں اس نسخے کی صفحہ نمبر 17 پر خواجہ عبداللہ انصاری کی کتاب سے ایک اقتباس نقل کرتے ہوئے داتا صاحب لکھتے ہیں کہ ”پیر گفت رحمتہ اللہ علیہ“ جس کا معنی یہ ہے کہ جب علی ہجویری یہ عبارت لکھ ر ہے تھے اس وقت تک خواجہ عبداللہ انصاری کا انتقال ہوچکا تھا اور اس پر تمام مورخین کا اتفاق ہے کہ خواجہ انصاری کا انتقال 481 ہجری میں ہوا تھا، گویا کہ سن 481 ہجری کے بعد بھی علی ہجویری حیات تھے۔
داتا صاحب کی ذاتی حالات زندگی کے بارے میں اس بحث وجرح سے تاہم یہ بات بھی ثابت ہوجاتی ہے کہ علی عثمان ہجویری نے اپنے ذاتی تعارف کو مطلقا نظر انداز کرکے اس پیغام کو اجاگر کرنے پر توجہ مرکوز کیے رکھی جس پیغام کو انہوں نے اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیا تھا لیکن آج ہمارے درمیان ان کے ذات کی تعریف و تحسین پر تو توجہ مرکوز کی جاتی ہے لیکن ان کے پیغام کو فراموش کردیا گیا ہے۔
ہمارے نظروں میں روحانیت کیا چیز ہے؟ ہماری بڑی اکثریت اس غلط فہمی کے شکار ہیں کہ روحانیت کا مطلب جسمانی بیماریوں کی غیر میڈیکلی علاج اور اپنے ذاتی و خاندانی مسائل کی روحانی حل یا پھر مضحکہ خیز جسمانی حرکتوں اور منہ عجیب وغریب آوازیں نکالنے کا نام رہ گیا ہے، جبکہ روحانیت کا اصل مقصد اپنے وجود سے تکبر، حسد، خودپسندی وغیرہ جیسے رذائل کا ازالہ ہے جس کے نتیجے کے طور پر لازما انسان کے دل میں جنس، عقیدے، رنگ نسل، زبان اور جغرافیہ سے بالاتر ہوکر تمام انسانوں کے لیے رحم اور محبت کے غیر مشروطجذبات کا موجزن ہوجانا ہے۔
اگر داتا گنج بخش ہجویری کے مشن اور نصب العین کی تلخیص کی جاے تو وہ صرف دو فقروں پر مشتمل تھا، اول خدا پرستی اور دوم انسان دوستی، آج دنیا کے تمام انسان فکری اور عملی لحاظ سے لکیر کے دو جانب کھڑے ہیں، ایک طرف انسانوں کا وہ گروہ ہے جو انسان دوستی کا نقارہ بلند کرکے ”خدا کی موت کا اعلان“ کررہا ہے اور دوسری جانب وہ لوگ ہیں جو خدا پرستی کا نعرہ لے کر انسان دوستی سے گریز پاہیں گویا کہ انسان دوستی ایک چیز ہے اور خدا پرستی بالکل دوسری چیز۔ ہم بہ یک وقت طاقت اور محبوبیت حاصل کرنے کی تگ ودو میں ایک دوسرے کو روند کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں لیکن علی ہجویری کی نقش پا پر چلنے کو تیار نہیں ہیں۔
داتا صاحب کے بارے میں کسی ( غالبا علامہ حبیبی ) نے کہا ہے اور کیا خوب کہا ہے کہ آج سے ہزار سال پہلے غزنی سے دو فرمانروا اٹھے، ایک تھے محمود غزنوی اور دوسرے تھے علی ہجویری، ایک نے ملکوں اور زمینوں پر اپنا تسلط قائم کیا اور دوسرے نے انسانوں کے دلوں پر، زمینوں کے حکمران کے اپنے دو بالشت قبر کے آثار مٹ گیے جبکہ دلوں پر حکومت کرنے والے کی فرمانروائی آج تک قائم ہے۔ یہ خادم ان الفاظ پر یہ اضافہ کرناچا ہے گا کہ کاش یہ فرمانروائی داتا گنج بخش کی ذات اور یاد کی نہیں بلکہ ان کی فکر وپیغام کی ہوتی تو آج دنیا اتنی بدصورت نہ ہوتی جس شکل میں وہ ہمارے سامنے ہے اور زندگی اتنی تلخ نہ ہوتی جیسا کہ ہم اس کا سامنا کرر ہے ہیں۔

