دھرنا مذاکرات


ملک کے طول و عرض میں جاری دھرنا بالا آخر تحریک لبیک اور حکومت کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں ختم ہو گیا! دونوں فریقین کے دستخط کے ساتھ ایک پانچ نکاتی معاہدہ وجود میں آیا۔ اس کی سبھی شقوں پر سیر لا حاصل بحث جاری ہے اور نہ جانے کب تک جاری رہے گی۔ مگر ابھی تک ذہن یہ سمجھنے سے قا صر ہے کہ اس دھرنے کا مقصد کیا تھا؟ معاہدے میں لکھی گئی پہلی دو شرائط تو ایسی ہیں کہ انھیں بغیر دھرنے کے مدعی اور تحریک لبیک والے باہمی گٹھ جو ڑ سے بیٹھے بیٹھے منوانے کی کوشش کرسکتے تھے۔ قانونی طور پر سپریم کور ٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل بغیر دھرنے کے بھی دائر کی جا سکتی تھی، اس میں بظاہر کو ئی رکاوٹ نہیں تھی۔ اسی میں یہ استدعا بھی کی جا سکتی تھی کہ آسیہ بی بی کو ملک سے باہر جانے سے روکا جائے۔

اس معاہدے کی تیسری اور چوتھی شقوں کی کوئی ضرورت ہی نہ پڑتی، مگر دھرنا پھر بھی ہوا اور ایک معاہدہ بھی۔ لہذا سوچنے کی بات ہے کہ کیا تیسری شرط، جو بریت کے خلاف تحریک کے نتیجے میں ہونے والی شہادتوں پر قانونی کارروائی کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس میں کیا وہ لوگ بھی آئیں گے جو، عاشقان لبیک، کے تشدد اور ظلم کا شکار ہو کے اس دنیا سے کوچ کر گئے؟ یا اس شرط کا اطلاق صرف انھی پر ہوتا ہے جن کے ہاتھ میں ڈنڈے اور اسلحہ تھا، انھوں نے دل کھول کر عوام کی موٹر سائیکلوں، گاڑیوں، دکانوں اور پھل فروش کی ریڑھی پر بھی اپنی محبت کا رنگ جمایا۔ اور سرکاری املاک، کچھ نجی کمپنیوں کی بسوں پر اپنے عشق کی دھاک بٹھائی؟ سوال یہ ہے کہ اس دوران جو بھی عوامی اور سرکاری املاک کی توڑ پھو ڑ ہوئی، اس کا نقصان کون ادا کرے گا؟ ظاہر ہے حکومت، مگر یہ شق اس ضمن میں کچھ نہیں کہتی۔

چوتھی شق میں، دھرنے کے آغاز سے لے کر اختتام تک تحریک لبیک کے کارکنان کی ہونیوالی گرفتاریوں کی رہائی کا سمجھوتہ ہے۔ کیا واقعی گرفتاریاں ہوئی ہیں؟ یہ بھی عجیب ہے، یعنی، گرفتار تو رہے لاکھوں کے قریب وہ عوام جو گھروں میں محصور تھے۔ سو ایسے تمام لوگ اب اپنے آپ کو رہا تصور کریں، ان کی گرفتاری کی مدت ختم ہوئی۔ رہی بات پانچویں شق کی تو حیران کن امر یہ ہے، کہ، گستاخی، گستاخی کی رٹ لگانے والے، گالیوں سے ریاستی اداروں کے سربراہوں کو پکارنے والے اسلام آباد میں بیٹھ کر دشنام طرازی کرتے رہے اور اب وہ اتنا کہ رہے ہیں کہ وہ معذرت خواہ ہیں۔

یہ بھی خوب ہے، مطلب، یہ اتنے مراعات والے لوگ ہیں کہ جھو ٹ بولیں، دائرہ اسلام سے کسی کو بھی باہر نکال دیں یا داخل کردیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بعد میں صرف اتنا کہیں گے کہ وہ معذرت خواہ ہیں۔ دائرہ اسلام تو پہلے ہی سکڑ کر ان جیسوں کے طفیل کافی تنگ ہو چکا ہے، مگر، اب ہمیں اور بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہوگی۔ کیونکہ، اب دائرے میں داخل ہونے پر بھی یوں سمجھئے کہ مرضی ان کی ہے اور خارج کرنے پر تو انھیں پہلے ہی اختیار حاصل ہے۔

یہ بات توجہ طلب ہے کہ وہ الزام و احتجاج جس پر انھیں تین دن کے اندر معذرت خواہانہ رویہ اپنانا پڑا۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ملک میں فی سبیل اللہ فساد کی ایک کوشش تھی؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ دو جہان کے لئے رحمت بنا کر بھیجے گئے آقا، جن کی چوکھٹ کی خاک میری آنکھوں کا نو رہے، کے مبارک نام کو، استعمال کر کے اشتعال دلانے کی کوشش ہو رہی ہو اور کچھ لوگ کٹھ پتلیا ں بن گئے ہوں۔ ان حالات کو سمجھنے کے لئے کسی اعلی دماغی کی ضرورت نہیں۔ مولانا سمیع الحق جیسے انسان کی بے رحمانہ شہادت اور وہ بھی اس نازک وقت پر ملک دشمنوں کی اس سازش کی طرف ایک واضح اشارہ ہے۔

قانونی طریقے اور تقاضے پورے کرکے گنہگار کو قرار واقعی سزا کا ملنا، نہ صرف یہ کہ اسلام کا اصول ہے بلکہ کسی بھی معاشرے کی بنت اسی دھاگے سے ہے۔ ۔ بلکہ اسلام تو کسی بے گناہ کو سزا نہ دینے پر زیادہ شد و مد سے اسرار کرتاہے۔ اگر گنہگا ر کا گنا ہ ثابت ہونے پر اسے سزا ہونا ضروری ہے تو اس معاملے میں جھوٹا الزام لگانے والوں کی بھی ایسی سبکی ہونی چاہیے کہ پھر کسی کو ہمت نہ ہو کہ اپنی ذاتی لڑائی یا کسی اور مقصد کے لئے وہ تہمت لگاتا پھرے۔ ۔ ۔ اپیل دائر ہو چکی، شنوائی ہوگی اور ظاہر ہے فیصلہ بھی آ ئے گا۔ ، آنیوالا وقت متعین کرے گا، کہ، اس معاملے پر ملکی حالت کیسے ہوں گے۔ مگر کیا ضمانت ہے کہ جو بھی فیصلہ آیا وہ قابل قبول ہوگا بھی یا نہیں؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں