مولوی خادم رضوی سیکولروں اور لبرلوں پر بلا اشتعال برس پڑے


تحریک لبیک کے رہنما مولوی خادم رضوی حکومت کی طرف سے اپنے خلاف مقدمات کے اندراج کی اطلاع ملتے ہی بغیر کسی اشتعال کے سیکولر اور لبرلشہریوں پر چڑھ دوڑے۔ مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے مفروضہ مخالفین کو بے نقط سنائیں اور خود کو محب وطن ظاہر کرنے کی کوشش کی ۔ واضح رہے کہ مولوی خادم اور ان کے قریبی ساتھی افضل قادری کی طرف سے وزیر اعظم، عدالت عظمیٰ کے منصفین اور قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف دریدہ دہنی کے باعث ذمہ دار ریاستی حلقوں میں ان کے خلاف شدید ردعمل پیدا ہوا ہے۔

مولوی خادم حسین نے تین نومبر کو یکے بعد دیگرے دو ٹویٹ پیغامات جاری کئے جن میں کہا گیا :

کئی درآمدی لبرلز پچھلےدوچاردن بہت بغلیں بجاتے رہےاور انکی باچھیں کھلے جا رہی تھیں،کہ بس ابھی تصادم ہوا، یاد رہے یہ ہماری زمین،ہماری مٹی ومدفن ہے، یہ ملک،یہ لوگ، یہ ادارے ہمارے اور ہم انکے ہیں، اس اسلام کے قلعہ پاکستان کے ایک ذرے کی حفاظت کو ہم اپنی ایک ہزار زندگیاں بھی قربان کر دیں

‏جن کی زندگی کی تمام بھاگ دوڑ، قول، فعل،  سوچ، تمنا، منزل، خواہش صرف انٹرنیشنل این جی اوز و غیرملکی ایجنسیز یا حکمرانوں سے رقمیں، ویزے، دورے، نوکریاں، شہریتیں بٹورنےکےبدلے ہر دم، ہر خبر، ہر ٹویٹ، ایمان و ضمیر و حب الوطنی و قلم بیچنی ہو، وہ فراڈی سیکولرز کیا جانیں، لذت ایمان وجذبہ حب الوطنی کی دولت و چاشنی۔

Facebook Comments HS