دل بے حجاب عورتوں پر ہی آتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شادی کے بعد عورت کی قربانیوں کی لوٹ سیل لگ جاتی ہے، ساس سسر کی محبت حاصل کرنے کے جتن میں اپنے بھرے پرے گھر کے نقشے اپنے ذہن سے کھرچ ڈالتی ہے۔ بیٹی کی تربیت میں ماں کو بھول جاتی ہے۔ بیٹے کے مان میں باپ کی جفاکشی فراموش کر دیتی ہے اور شوہر کی دوستی کی خواہش میں اپنی سکھیوں کی یادوں کو طاقِ نسیاں پر رکھ دیتی ہے۔ لیکن وقت کے ساتھ غروب ہوتے رشتوں میں اس کی سہیلیاں ایک ایک کر کے طاقِ نسیاں سے اپنے پورے قد کے ساتھ باہر آجاتی ہیں۔ گد گداتی ہیں، چھیڑتی ہیں، اٹھکیلیاں کرتی ہیں۔ اور اکثر اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے ماضی کے جھروکوں کے پاس کھڑا کر دیتی ہیں۔

آج میرے ہاتھ جو پرانی بلیک ایند وائٹ تصاویر کا البم آیا تو مدھم ہوئی تصاویر میں سب سکھیوں کے چہرے آنکھوں میں اجلا گئے۔ یادوں نے رنگ بکھیرنے شروع کیے تو سوچا انہیں انگلیوں سے پکڑ کر کمپیوٹر اسکرین پر سجا دیا جا ئے۔ تصویر کے چرمرائے ہو ئے کونے پر ماروی کھڑی ہے، تو چلیں پہلے اسی کے قصے میں آپ کو شریک کر لیتے ہیں۔

جیسے ہی امتحان ختم ہوئے، اس کا رشتہ آگیا، یہ اپنی چار بہنوں میں سب سے چھوٹی تھی۔ والدین ہندوستانی تھے مگر اس کے نام کی وجہ سے ہر کوئی اسے سندھی سمجھتا۔ ساری بہنیں ہی بہت خوب صورت تھیں لیکن ماروی سب سے حسین تھی۔ ایک روز اس نے ہمیں بتا یا کہ اس کا رشتہ آیا ہے، لڑکے کی سکھر میں برتنوں کی دکان ہے، اور حامد نام ہے۔ وہ چاہتی تھی کہ ہم ساری سہیلیاں اس لڑکے کو دیکھ لیں اگر ہم لوگ او کے کریں گے تب ہی وہ اس سے شادی کرے گی۔

ہم سب کے لیے اب یہ مقدس مشن بن گیا تھا۔ ماروی نے لڑکے کی شکل تک نہ دیکھی تھی، پتہ نہیں کہاں سے دکان کا پتہ سمجھ لیا تھا، ماروی نے برقعہ اوڑھنا شروع کر دیا تھا۔ سارے راستے وہ حامد کی امی کی وہ باتیں کرتی رہی جو انہوں نے حامد کے بارے میں کی تھیں۔ حامد چاہتا تھا کہ اس کی بیوی حجاب کرے، شرم و حیا کا پیکر ہو۔ کسی غیر مرد تک اس کی آواز بھی نہ پہنچے وغیرہ وغیرہ۔

ہم اس کی رہنما ئی میں حامد کی دکان پر پہنچے۔ ہم چار سہیلیاں نسرین، صادقہ، شانِ بتول، اور رعنا، دکان میں رکھے مونڈھوں پر بیٹھی تھیں۔ ہم حامد سے سب سے اونچائی پر رکھے برتن کو دکھانے کے لیے کہتے۔ مختلف برتن دیکھنے کے بعد مجھے شرارت سوجھی میں نے اس سے کہا کہ اچھا سا لوٹا دکھائیے، اب ہم سب ہی کو لوٹے چاہئیں تھے۔ حامد آنکھوں میں حیرانی لیے ہمیں مختلف لوٹے دکھا تا رہا۔ اور آخر میں رعنا نے پلاسٹک کا سب سے سستا والا لوٹا پسند کیا۔

اور ہم سب اس کی دکان سے ہنستے ہوئے نکل آئے۔ راستے میں ہم نے ماروی کو بتا یا کہ ہمیں لوٹا پسند آگیا ہے۔ حامد کے اس نئے نام پر وہ جھنجلائی تو بہت پر اس کی خوشی دیدنی تھی۔ اس نے بھی حامد کو پہلی بار ہی دیکھا تھا وہ خوب صورت، وجیہہ لڑکا تھا۔ دوتین ماہ تک لڑکے والوں کی طرف سے خاموشی چھا ئی رہی۔ صادقہ نے اندیشہ ظاہر کیا کہ کہیں لوٹے کے گھر والوں کو کوئی لٹیا توپسند نہیں آگئی۔ چھ ماہ گزرنے کے بعد ماروی نے بتا یا کہ حامد کے گھر والوں کی طرف رشتے سے انکار کر دیا گیا ہے۔

اسی دوران رعنا کا رشتہ آگیا اور جلد ہی شادی کی تاریخ بھی طے ہو گئی۔ چھوٹے شہروں میں آج بھی دن میں شادیاں ہوتی ہیں۔ رعنا دلہن بنی بیٹھی تھی میں، ماروی، شانِ بتول اور صادقہ، رعنا کے دائیں بائیں بیٹھے تھے۔ نکاح کے بعد دلہا کو لایا گیا، ہم سب کو جیسے کرنٹ لگ گیا۔ یہ تو حامد تھا۔ رعنا لمبا سا گھونگٹ نکا لے بیٹھے تھی۔ ہم سب ساکت ماروی کی طرف دیکھ رہے تھے۔ اس کا چہرہ سرخ، اور آنکھوں میں سمندر بپھرنے کو بیتاب تھا۔

میں صادقہ، شانِ بتول ڈریسنگ روم میں کھڑے تھے۔ ماروی صوفے پر بیٹھی آنسو ضبط کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ رعنا کی امی کمرے میں داخل ہوئیں۔
سہیلی کی رخصتی کا اتنا غم ہے تو یہ خود کیسے رخصت ہو گی، سمجھاؤ اسے۔ انہوں نے اسے ڈانٹنے والے انداز سے کہا۔
خالہ آپ پریشان نہ ہوں ہم سمجھاتے ہیں اسے۔ صادقہ، ماروی کے قریب آگئی۔

ہمیں کیا پتہ تھا اس لوٹے کو ہماری لٹیا پسند آئی ہے۔
رعنا نے تو لٹیا ہی ڈبو دی۔ ہمیں بھی نہ بتایا۔ شانِ بتول، رعنا پر غصہ اتارنے لگی۔ مگر سمجھ نہیں آیا، اس لوٹے کو رعنا میں ایسا کیا نظر آیا کہ لاکھوں میں حسین ہماری ماروی کے بجائے اسے پسند کیا۔

”غلطی میری ہے، ایسے دوغلی فطرت کے لوٹے کو خود مجھے انکار کرنا چا ہیے تھا۔ مگر میں نے تو شادی سے پہلے ہی اپنی عزت نفس مار کر خود کو اس کی غلامی میں دے دیا تھا۔ “
ماروی نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔

حجاب کو اس کی پسند جان کر اپنایا، اور اسی حجاب نے مجھے اس سے دور، اور بنا حجاب کی لڑکی کو اس سے قریب کر دیا۔ ان لوٹا صفت مردوں کو خود معلوم نہیں ہوتا کہ انہیں کیا چاہیے۔ اپنی پسند ناپسند اپنے کانوں کے ساتھ منبر پر چھوڑ آتے ہیں۔ زبان، عورتوں کی شرم و حیا اور حجاب کی تلقین کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اپنا دل، جان کے ساتھ لگائے پھرتے ہیں، جو بے حجاب عورتوں پر ہی آتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •