مریم نواز کے پاس جج ارشد ملک کے علاوہ ایک اہم شخصیت کی ویڈیو بھی موجود ہے: عارف حمید بھٹی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں تجزیہ کار عارف حمید بھٹی نے کہا ہے کہ محترمہ مریم نواز نے کہا ہے کہ میرے پاس اور ویڈیوز بھی ہیں مجھے مجبور نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ارشد ملک کے ساتھ ہی ایک شخصیت تھی ، اُس کا نام مت پوچھیں ، لیکن وہ اہم عہدے پر فائز تھے اور اب انہیں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

اُن کی بھی ویڈیو تھی جو ملتان میں اُسی گھر کی ویڈیو تھی اور ارشد ملک کی ویڈیو کی طرح ہی کی ویڈیو تھی۔ انہوں نے کہا کہ ارشد ملک کے بعد جس شخصیت کی ویڈیو بنائی گئی وہ نہایت خوفناک ویڈیو تھی اور اُس ویڈیو کی ایک کاپی جاتی امرا سے لے کر لندن تک پہنچ چکی تھی۔ کچھ لوگوں کو اس کے حقائق معلوم ہو گئے۔

خیال رہے کہ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے جج ارشد ملک کی ویڈیو منظر عام پر لانے کے بعد اپنے بیانات میں کئی مرتبہ کہا کہ میرے پاس اور ویڈیوز بھی موجود ہیں ، مجھے وہ ویڈیوز جاری کرے پر مجبور نہ کیا جائے۔

اس حوالے سے اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ عدالت کو پیشکش کی جائے گی کہ جس برطانوی کمپنی نے ویڈیوز اور آڈیوز کا فرانزک کیا وہ بھی اسلام آباد ہائی کورٹ میں ویڈیو لنک کے ذریعے اپنا بیان جمع کروا سکتی ہے یا پھر سیکورٹی فراہم کیے جانے کی صورت میں کمپنی کا نمائندہ پاکستان آ سکتا ہے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ اگرچہ وہ دیگر ویڈیوز (جنہیں ابھی تک جاری نہیں کیا گیا) کا بھی برطانوی ماہرین سے فرانزک کروایا گیا۔ یہ ویڈیوز اور ان کی فرانزک رپورٹ بھی عدالت میں متعلقہ مرحلے پر پیش کی جائیں گی۔

ناصر بٹ اور شریف خاندان نے ان ویڈیوز کو محفوظ کر رکھا ہے۔ ان ویڈیوز میں جج ارشد ملک کا مبینہ اعتراف شامل ہے کہ ان پر دو آئینی عہدیداروں (جن میں سے ایک ریٹائر ہو چکا ہے) نے دباؤ ڈال کر نواز شریف کے خلاف فیصلہ کرنے پر مجبور کیا۔ ریٹائرڈ افسر نے جج ارشد ملک سے مبینہ طور پر کہا تھا کہ نواز شریف کو سزا دو، قانون چاہے کچھ بھی کہتا ہو کیونکہ ملک حالت جنگ میں ہے۔ جج ارشد ملک نے جب یہ کہا کہ سابق وزیراعظم کو سزا دینے کے لیے ٹھوس ثبوت موجود نہیں تو دوسرے عہدیدار نے مبینہ طور پر ارشد ملک پر دباؤ ڈالا کہ نواز شریف کو کم از کم دس سال قید کی سزا سنائی جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •