حضرت خادم رضوی کی سیکولروں لبرلوں کی دھلائی، عمران اور جمائما

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حضرت خادم رضوی نے 3 نومبر 2018 کو تین ٹویٹس کیں۔ ایک میں فراڈی سیکولروں کا پردہ چاک کیا گیا۔ دوسری میں لبرلوں کے فسادات پر بغلیں بجائے کا ذکر کیا گیا۔ اور تیسری بزبان فرنگی کرتے ہوئے بتایا گیا کہ ”تحریک لبیک تو مغرب زدہ لبرلز سے کہیں بڑھ کر اقلیتوں کے حقوق کی محافظ ہے، حتی کہ لبیک نے تو اقلیتوں کو انتخابات میں ٹکٹ بھی دیے تھے۔ لیکن بہرحال اقلیتں بلاسفیمی کریں گی تو وہ قانون کو جواب دہ ہیں“۔ حضرت کے الفاظ میں جو تاثیر ہے، وہ ہمارے الفاظ میں کہاں، آپ خود پڑھیں۔

”جن کی زندگی کی تمام بھاگ دوڑ، قول، فعل، سوچ، تمنا، منزل، خواہش صرف انٹرنیشنل این جی اوز وغیر ملکی ایجنسیز یا حکمرانوں سے رقمیں، ویزے، دورے، نوکریاں، شہریتیں بٹورنے کے بدلے ہر دم، ہر خبر، ہر ٹویٹ، ایمان و ضمیر و حب الوطنی و قلم بیچنی ہو، وہ فراڈی سیکولرز کیا جانیں، لذت ایمان و جذبہ حب الوطنی کی دولت و چاشنی۔ “

”کئی درآمدی لبرلز پچھلے دوچار دن بہت بغلیں بجاتے رہے اور ان کی باچھیں کھلے جارہی تھیں، کہ بس ابھی تصادم ہوا، یاد رہے یہ ہماری زمین، ہماری مٹی و مدفن ہے، یہ ملک، یہ لوگ، یہ ادارے ہمارے اور ہم ان کے ہیں، اس اسلام کے قلعہ پاکستان کے ایک ذرے کی حفاظت کو ہم اپنی ایک ہزار زندگیاں بھی قربان کر دیں۔ “

لبرلوں اور سیکولروں نے واقعی اس پرامن دھرنے کے دوران اچھا کردار ادا نہیں کیا۔ وہ نہ صرف اس بات پر زور دیتے رہے کہ توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کرنے والے عناصر کو روکا جائے بلکہ ان کا تعلق تحریک لبیک سے بھی جوڑتے رہے حالانکہ حضرت خادم رضوی نے دو مرتبہ واشگاف الفاظ میں فرمایا تھا کہ ان غنڈہ گرد فسادی عناصر کا تحریک لبیک سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کی بات پر یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ بلکہ تمام ویڈیوز دیکھ کر دل پکار پکار کر کہتا ہے کہ یہ غنڈہ گردی کرنے والے لوگ سیکولر اور لبرل ہیں۔

اس کا سب سے بڑا ثبوت وہ ویڈیو ہے جس میں چند بھیس بدلے ہوئے سیکولر اور لبرل افراد ایک بچے کی ریڑھی سے کیلے لوٹ رہے ہیں۔ آپ نوٹ کریں کہ اس ویڈیو میں دو نہایت باپردہ خواتین بھی ہاتھ بڑھا بڑھا کر کیلے لوٹ رہی ہیں۔ جبکہ جید دیسی اور عرب علما کے فتوے موجود ہیں کہ خواتین کیلے جیسے پھل سبزی سے دور رہیں اور انہیں صرف مرد ہینڈل کریں اور کاٹ کر ہی خواتین کو فراہم کریں تاکہ وہ فسق و فجور میں مبتلا نہ ہو پائیں۔ اس سے یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ یہ پورا فسادی ٹولا لبرلوں اور سیکولروں کا تھا۔

لبرلوں اور سیکولروں کی سڑکوں پر اس غنڈہ گردی کے باوجود آپ یہ دیکھیں کہ حضرت خادم رضوی کا دل کتنا نرم ہے۔ اپنے تو اپنے وہ تو اپنے دشمنوں پر بھی رحم کھاتے ہیں۔ اسی لیے تحریک لبیک سے حکومت کا جو معاہدہ ہوا ہے اس میں لکھا گیا ہے ”عاصیہ مسیح کی بریت کے خلاف 30 اکتوبر اور اس کے بعد جو گرفتاریاں ہوئی ان افراد کو فوراً رہا کیا جائے گا“۔ نوٹ کریں کہ کدھر خونی لبرل اور سیکولر اس بات پر بغلیں بجا رہے تھے کہ تحریک لبیک کا حکومت سے تصادم ہو گا، اور کہاں سڑکوں پر ہنگامہ کر کے پکڑے جانے والے ان لبرل اور سیکولر افراد کو حضرت خادم رضوی معافی دلوا رہے ہیں۔ اپنے اپنے ظرف کی بات ہے جناب۔

جہاں تک وزیراعظم عمران خان کی تقریر کا تعلق ہے جس میں انہوں نے لبیک والوں کے خلاف ایکشن لینے کا کہا تھا، تو اس کے پیچھے بھی ہمیں خونی لبرل ہی دکھائی دیتے ہیں۔ ہمارا اندازہ ہے کہ لبرلوں سیکولروں نے پیر افضل قادری کی تقریر سپیشل ساؤنڈ افیکٹس کے ساتھ یا ڈبنگ وغیرہ کر کے وزیراعظم کو سنائی ہو گی جس کے بعد ان کی راتوں کی نیندیں حرام ہو گئی ہوں گی اور وہ اپنے قریب ترین کوارٹرز سے بھی شدید خطرہ محسوس کرنے کے بعد ایسی سخت جوابی تقریر کرنے پر مجبور ہو گئے۔

آپ نے نوٹ کیا ہو گا کہ بڑے بڑے سکہ بند لبرل اور سیکولر اس تقریر کے بعد عمران خان کی سپورٹ کرتے دکھائی دیے تھے۔ اس سے بھی ظاہر ہو رہا ہے کہ تقریر لبرلوں نے لکھ کر وزیراعظم کو دی تھی۔ یہ بھی بعید نہیں کہ عمران خان کی اصل تقریر لبرلوں نے ایلومیناٹی کے ذریعے غائب کروا دی ہو اور اس کی جگہ اپنی تقریر رکھ دی ہو۔ آپ کو اس حقیقی مفروضے پر یقین نہیں تو فلم تھری ایڈیٹس دیکھ لیں۔ اس میں بھی چند ایلومیناٹی ایجنٹوں نے ایسا کر کے ایک حکومتی وزیر کو الو بنا دیا تھا۔ کوئی بعید نہیں کہ ہمارے وزیر اعظم کے ساتھ بھی ایسا کیا گیا ہو۔

بھلا کوئی پاکستانی حکمران خود سے یہ کہہ سکتا ہے ”کہ سڑکیں بند کرنے سے عوام کا نقصان ہو رہا ہے۔ میں ایسا کرنے والو ں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ہم کو اس طرف نہ لے کر جائیں کہ ریاست ایکشن لینے پر مجبور ہو جائے، ہم ملک میں توڑ پھو ڑ نہیں ہونے دیں گے، احتجاج کرنے والے ریاست سے نہ ٹکرائیں بصورت دیگر ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرے گی اور عوام کے جان و مال کی حفاظت کرے گی، ہم کوئی توڑ پھوڑ نہیں ہونے دیں گے اور ٹریفک نہیں رکنے دیں گے۔ “

اس شبے کو مزید تقویت اس بات سے بھی ملتی ہے کہ ایلومیناٹی ایجنٹس نے اپنی سازش کی ناکامی سے دلبرداشتہ ہو کر جمائما گولڈ اسمتھ کا ٹویٹر اکاؤنٹ ہیک کر لیا اور اس پر ایسے بیانات لکھ ڈالے:

”یہ وہ نیا پاکستان تو نہیں ہے جس کی ہمیں امید تھی۔ عدلیہ کے دفاع میں ایک سرکش اور دلیرانہ تقریر کرنے کے تین روز بعد پاکستانی حکومت انتہاپسندوں کے آسیہ بی بی کے بلاسفیمی کے مقدمے میں بری ہونے کے بعد پاکستان سے باہر جانے سے روکنے کے مطالبے کے آگے جھک گئی جو درحقیقت اس کے پروانہ موت پر دستخط کے مترادف ہے۔ ابھِی تک یہ امید باقی ہے کہ کوئی ایسا پلان زیر عمل ہے جس کے بارے میں ہمیں علم نہیں ہے۔ “

ایلومیناٹی کی جانب سے اکاونٹ ہیک کرنے کے علاوہ ان ٹویٹس کی کوئی توجیہہ ہماری سمجھ میں تو نہیں آتی ورنہ جمائما تو دیسی خونی لبرل نہیں ہیں کہ وزیراعظم کو انتہاپسندوں کے آگے جھکنے کی بجائے ریاست کی رٹ بحال کرنے کی تلقین کریں۔ وہ تو ولایتی لبرل ہیں جن کی فکر پر عمل پیرا ہونے پر عمران خان خود بھی ہونے پر فخر کرتے ہیں۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1089 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar