کپتان نے لبیک کے احتجاج کو پہلے برا پھر اچھا ہینڈل کیا ہے


آسیہ بی بی کے معاملے پر تحریک لبیک کا احتجاج شروع ہوا۔ سڑکوں پر جلاؤ گھیراؤ شروع ہوا۔ لاہور سے ملک کے شمال کا تعلق منقطع ہو گیا۔ جی ٹی روڈ بھی بند تھی اور موٹر وے بھی۔ سوال یہ ہے کہ جب حکومت کو پتہ تھا کہ معاملہ بگڑنے کا امکان ہے تو پہلے سے تیاری کیوں نہیں کی گئی؟ پرانے وقتوں کی حکومتوں کی طرح ان افراد کو کیوں نہیں پکڑا گیا جن کی مظاہروں میں سرگرم اور اشتعال انگیز شرکت کا امکان تھا؟

اس کے بعد مرحلہ آتا ہے سڑکوں کی بندش کا۔ جو تصاویر ہم دیکھ رہے ہیں اس میں واضح دکھائی دے رہا ہے کہ درجن بھر افراد موٹر وے یا دیگر اہم سڑکوں کو سکون سے بند کر لیتے ہیں۔ ادھر یہ بھی دیکھا ہے کہ ایک شخص کو جی ٹی روڈ پر اسی طرح روکنے کی کوشش کی گئی تو اس نے گاڑی سے اسلحہ نکالا اور دو چار ہوائی فائروں کے بعد سڑک صاف ہو گئی۔ تمام فسادی دوڑ لگاتے دکھائی دیے۔ سوال یہ ہے کہ کیا پولیس یہ نہیں کر سکتی تھی؟

پولیس یہ نہیں کر سکتی تھی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ماڈل ٹاؤن کیس کی ہینڈلنگ ہے۔ اس میں پولیس کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اور ساری ذمہ داری اس کے سر پر ڈال دی گئی، اس کے بعد پولیس کیوں بلاوجہ یہ مصیبت اپنے سر مول لے گی؟ ابھی ہفتہ دس دن پہلے ہی اس کیس میں ملوث ہونے کا الزام لگا کر پانچ اعلی پولیس افسران کو کھڈے لائن لگایا گیا ہے۔ اس سانحے کی تحقیقاتی رپورٹ آ چکی ہے۔ ذمہ داروں کا تعین کریں اور سزا دیں۔ کیا پولیس نے خود اس فائرنگ کے احکامات دیے تھے؟ ظاہر ہے کہ اس کا امکان بہت کم ہے۔ یا تو اسے ایک حادثہ مان کر پولیس والوں کی جان بخشی کی جائے، ورنہ کمیشن کی رپورٹ میں جو غلطی کے مرتکب پائے گئے ہیں صرف انہیں سزا دی جائے۔ پوری فورس کا حوصلہ توڑنے کی کیا ضرورت ہے؟

اس موقعے پر یہ بھی سوچنا چاہیے کہ کیا جنرل مشرف سے پہلے کا وہ انتظامی ماڈل بہتر نہیں تھا جس میں علاقہ مجسٹریٹ پولیس کو فائر کرنے کا حکم دیتا تھا اور ذمہ داری اس کی ہوا کرتی تھی۔ اب ذمہ داری کسی کی نہیں تو پولیس اہلکار کیوں اپنی گردن پھنسائیں؟ سڑکیں جلتی ہیں تو جلنے دو، بندہ ملازمت تو سکون سے کر سکتا ہے اور عوام کے جان مال کو بچانے کے جرم میں سزا تو نہیں بھگتے گا۔ سیاسی حکومت کو اس مسئلے کا حل نکالنا چاہیے ورنہ پولیس ایسے فسادات کے دوران صرف تماشائی کا رول ادا کرے گی۔

دھرنے کا معاہدہ کامیاب ہونے میں ایک بڑا عنصر مولانا سمیع الحق کا قتل بھی دکھائی دے رہا ہے جس کی خبر آنے کے دو گھنٹے کے اندر اندر معاہدہ ہو گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ رائے ونڈ میں تبلیغی جماعت کا اجتماع بھی اہم تھا جس کے بیشتر شرکا نے انہیں بند سڑکوں سے گزر کر آنا تھا اور ادھر بھی تصادم کا بھرپور امکان تھا جس سے بچنے میں تحریک لبیک کی قیادت نے اپنی ذمہ داری کا احساس کیا۔

تحریک لبیک سے معاہدے میں حکومت نے کچھ نہیں دیا ہے۔ قانونی طور پر اس معاہدے کی صفر اہمیت ہے جس میں آسیہ بی بی کا نام تک غلط لکھا گیا ہے۔ اسے تحریک لبیک صرف ڈنڈے کے زور پر منوا سکتی ہے۔ بہرحال اس پر بات پہلے ایک مضمون میں کی جا چکی ہے۔ اس قانونی طور پر صفر اہمیت والے معاہدے کے بعد تحریک لبیک نے دھرنا ختم کر دیا اور سڑکیں کھل گئیں۔ اخلاقی طور پر اس معاہدے کا حکومت کو نقصان ہوا ہے لیکن بعد کے اقدامات کے ذریعے وہ اس نقصان کی تلافی کرتی دکھائی دے رہی ہے۔

معاہدے کے بعد جب صورت حال کچھ معمول پر آئی تو حکومت نے بلوائیوں کی گرفتاریاں شروع کر دی ہیں۔ اگر دھرنے کے دوران یہ کیا جاتا تو خون بہنے کا پورا امکان تھا۔ جب آدمی ہجوم میں ہو تو اپنے دماغ کی بجائے ہجوم کے دماغ سے سوچتا ہے اور اپنی عقل کو ایک طرف رکھ دیتا ہے۔ چند برس پہلے لندن میں فسادات کے بعد حکومت نے بلوائیوں کی نشاندہی کر کے ان کو سزائیں دی تھیں۔ تحریک انصاف کی حکومت بھی اسی ماڈل پر چل رہی ہے اور اس کا اچھا نتیجہ نکلے گا۔

دوسرا راستہ وہ تھا جو جنرل مشرف نے لال مسجد کے معاملے میں اپنایا تھا۔ لال مسجد میں ریاست کی رٹ نافذ ہونی چاہیے تھی مگر اس طرح خون بہانا بلاجواز تھا۔ اگر ادھر بھی چوہدری شجاعت کے فارمولے پر چلا جاتا اور عبدالرشید غازی کو لال مسجد خالی کر کے راجن پور جانے دیا جاتا تو لال مسجد پر بغیر خون بہائے حکومت کی رٹ بھی بحال ہو جاتی اور بعد میں ٹینشن ختم ہونے پر راجن پور میں ایکشن کر کے عبدالرشید غازی اور ساتھیوں کو گرفتار کیا جا سکتا تھا۔ جنرل مشرف کی اس غلطی کی وجہ سے پاکستان اس وقت سے شدید دہشت گردی کا شکار ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت نے ویسی غلطی نہیں کی، اس پر اس کی تعریف ہی کی جا سکتی ہے۔

اب اہم بات یہ ہے کہ پولیس کا اعتماد بحال کیا جائے۔ دوبارہ ایسی صورت حال ہو تو بلوائیوں کے خلاف ایکشن لینے پر پولیس کو مورد الزام ٹھہرانے کی بجائے اس کی سپورٹ کی جائے۔ حکومت میں خود یہ کرنے کا حوصلہ نہیں ہے تو دوبارہ علاقہ مجسٹریٹ کو یہ اختیار دے دے اور اس کے فیصلے کو حکومت کا فیصلہ مانا جائے۔ دوسری ضرورت یہ ہے کہ بلوائیوں کے خلاف تیز تر قانونی کارروائی کی جائے اور انہیں سزا دی جائے۔ ورنہ مہینے دو مہینے بعد جب ریویو پیٹیشن کا فیصلہ آتا ہے تو حکومت اور قوم کو دوبارہ اسی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اسی بارے میں: معاہدے میں حکومت نے تحریک لبیک کو چکر دے دیا ہے

Facebook Comments HS

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1544 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar