عشق میں روگ ہزار او سائیں


نفرت ہے کہ ہر سو پھیلی ہے۔ مایوسی ہے کہ چاروں اور چھائی ہے۔ قلم لفظ محبت لکھنا بھول گیا ہے۔ کان ہیں کہ عشق کے گیت سننے کو ترس گئے ہیں۔ اک آگ سی ہے جو جسم و جان کو بھسم کیے جاتی ہے۔ اک اضطراب ہے جو رگوں میں محشر برپا کیے رکھتا ہے۔ بے کلی ہے جو کہیں سکون نہیں لینے دیتی۔ وصل کی لذت تو نصیب والوں کے حصے میں لکھی ہے۔ ہجر اور ہجرت کا درد وہی جانے جو اس سے گزرتا ہے۔ بنت حوا کے مقدر میں فقط کرب لکھا ہے۔

عشق عورت پہ حرام ہے۔ کبھی ذات پات کی صورت تو کبھی مذہب کی آڑ میں۔ کبھی سرحد آڑے اتی ہے تو کبھی دولت۔ وہ تو صرف ایک شکار ہے اس مرد کی چالوں کا جو ہر بازی دماغ سے کھیلتا ہے۔ اور بیووقوف عورت جو ہر بازی ”دل“ سے کھیلتی ہے سمجھتی ہی نہیں کہ مرد صرف ایک بازی دل سے کھیلتا ہے، وہی اس کی انا کی بازی۔ جو اس دل سے کھیلنے والی کی رگوں سے ”جان“ تک نکال لیتی ہے۔ عورت عقل سے عاری ایک بازی دماغ سے کھیلتی ہے اور وہ ہے اس کے بقا کی بازی۔ یہ بازی ہر حال میں جیت لیتی ہے پھر چاہے اس کا جو حال ہو۔

بنت حوا بھی عجیب ہے وہ بازی جسے خالص دماغ سے کھلینا بنتا ہے، اسے دل کے حوالے کر دیتی ہے۔ اور حال دیکھئے کہ ادنی سی زمینی مخلوق ”ستاروں“ کی چاہ میں بے حال ہوئی پھرتی ہے۔ ستارہ بھی وہ جو ”ساتویں آسمان“ پر چمکتا ہے۔ کوئی سمجھائے اس کوبھلا ”ستاروں“ کو بھی زمینی مخلوق دکھائی دیتی ہے؟ عشق اوقات میں رہ کے ہی کیا جائے تو بہتر ہے۔ زمین آسمان کے فاصلے کوئی پاٹ سکتا ہے بھلا؟ فاصلے جتنے زیادہ ہوں، فیصلے بھی اتنے شدید ہوتے ہیں۔ اور جب فیصلہ ”انا“ کا ہو تو جیت مرد کی ہی ہوتی ہے۔

دل سے کھیلی اس کی ایک بازی اکثر کسی کے دل کی بستی اجاڑ دیتی ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ یہ ترتیب بدل جائے۔ دل سے فیصلے کرنے والی ہر فیصلہ دماغ کے حوالے کر دے۔ دماغ سے بازی کھیلنے والا، دل سے کوئی بازی ہی نہ کھیلے۔ دل کواجاڑنے والا دلوں میں پھول کھلائے۔ دل کی بستی میں کبھی خزاں نہ آئے۔ عشق کے درمیاں کبھی کو سرحد نہ آئے۔ ستاروں سے عشق کرنے والوں کے مقدر میں وہی ستارہ لکھ دیا جائے۔

پھر کوئی آنکھ نم نہ رہے۔ لفظوں سے کبھی درد نہ ٹپکے۔ ہر آنکھ میں ستارے چمکیں۔ درد دینے والا ”دوا“ بن جائے۔ ہر سرحد پار کر کے آئے اور عشق کو امر کر جائے۔

Facebook Comments HS