کیا معاہدے والوں کا بگٹی اور ایم کیو ایم جیسا حال ہوگا؟


آسیہ مسیح  یا تحریک لبیک کے الفاظ میں  ’عاصیہ‘ یعنی ( گناہ گار عورت) کو سپریم کورٹ نے بے گناہ قرار دیتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے سزائے موت کے فیصلے کو ختم کیا اور اُسے بری کیا مگر یہ فیصلہ ہضم نہ ہوا۔ وہ منصفِ اعلیٰ جسٹس میاں ثاقب نثار کہ جن کو گزشتہ ایک برس سے صادق اور امین قرار دیا جارہا تھا اور قائل کرنے کی کوشش کی جاتی تھی انہیں اس فیصلے کے بعد کچھ لوگ کائنات یعنی ’روح زمین‘ کا بدترین شخص قرار دے رہے ہیں۔

سپریم کورٹ کے قائد بھی ایک روز تک اپنے فیصلے پر صفائیاں پیش کرتے رہے۔ انہوں نے بتایا کہ ’عدلیہ میں کام کرنے والے لوگ ہر وقت درود شریف پڑھتے ہیں اور وہ محمد ﷺ سے اتنی ہی محبت کرتے ہیں جتنی کوئی اور‘۔ حتیٰ کہ وزیراعظم پاکستان نے بھی اپنی انتباہی تقریر میں اس بات کی وضاحت پیش کی کہ ملک کا آئین قرآن و سنت کے تابع ہے اور سپریم کورٹ میں کام کرنے والے ججز بھی دولتِ اسلامی سے سرشار ہیں کسی کو کوئی شک کرنے کی ضرورت نہیں۔

مگر اس سب سے پہلے جب آسیہ کا فیصلہ آنا تھا تو اُس سے دو گھنٹے قبل اپنے ہی وہ بچے جنہیں ماضی میں واپسی کا کرایہ اور تھانوں سے چڑھا کر معاہدے کے تحت باعزت قرار دیا گیا تھا انہوں نے ملک کو تین دن تک بند رکھا سب سے زیادہ نقصان شیخوپورہ انٹرچینج پر ہوا کیونکہ وہاں رہنے والے ایک دوست نے بتایا کہ اتنی گاڑیاں نذر آتش کی گئیں ان کا ملبہ سمیٹنے میں بھی ایک ہفتے سے زائد کا وقت لگ سکتا ہے۔

شمع رسالت کے پروانے سڑک پر نکلے تو انہیں روڈ پر چلنے والی گاڑی توہین رسالت کی مرتکب لگی ہو شاید جب ہی انہوں نے بغیر سوچے سمجھے اس پر پہلے تو جبر کیا اور پھر جلا کر راکھ کر دیا، چلیں جی کوئی بات نہیں کچھ مظاہرین نے تو قریب سے گزرنے والے ٹھیلوں سے پھل اور دیگر اشیاء مالِ غنیمت سمجھ کر لوٹ لیں۔

پنجاب اسمبلی کے باہر تحریک لبیک پاکستان نے مرکزی دھرنا دیا جس میں خادم حسین رضوی اور پیر افضل قادری سمیت دیگر جید منجے ہوئے قائدین شامل ہوئے جنہوں نے اپنی شعلہ بیانی سے شمع رسالت کے پروانوں میں پیٹرول بھرا، اُن کا ایک ایک لفظ ایندھن کا کام کرررہا تھا اور مظاہرین اپنے ہاتھ فضا میں بلند کر کے تائید بھی کررہے تھے۔

پیر افضل قادری نے تو[ علمِ بغاوت بلند کرنے اور آسیہ مسیح کا فیصلے سنانے والے بینچ کو واجب القتل قرار دینے کا فتوی بھی دے ڈالا۔ بس مجمع کا یہ سننا تھا اور فضا میں ہاتھ بلند کر کے لبیک کی صدائیں بلند ہوئیں۔

دو روز گزرے اور مذاکرات کا دور شروع ہوا پہلے مرحلے میں تو ناکامی ہوئی جس کے بعد خادم رضوی نے مبینہ الزام عائد کیا کہ ’جنرل فیض نے مطالبات نہ ماننے کی صورت میں بھوننے کی دھمکی دی‘ کچھ دیر بعد پیر افضل قادری نے شرکا سے تقریر میں یہی بات مصالحہ لگا کر بیان کی کہ وہ ہم سے تنخواہ لیتے ہے اور ہمیں ہی بھوننے گا۔ اتنی ہمت! یہ ملک اہلسنت نے بنایا اور انہوں نے ہی قربانیاں دیں۔

خیر جیسے تیسے کر کے عمران خان کی دھمکی آمیز تقریر کے بادل چھٹے اور پھر مذاکرات میں کامیابی ہوئی، ریاست نے پانچ نکاتی معاہدے پر دستخط کیا جس پر خادم حسین رضوی نے تو نہیں بلکہ اُن کے سپہ سالار پیر افضل قادری نے دستخط کیے، بس اتنا بتانا ضروری ہے یہ وہی پیر صاحب ہیں جنہوں نے سب سے پہلی تقریر کی تھی جس کے بعد ہی وزیراعظم نے آکر گرج دار لہجے میں تقریر کی اور اگلے روز چین کے دورے پر چلے گئے۔

معاہدہ تو ہوگیا مگر اس کے پیچھے کئی سوالات اٹھنے لگے، کیا آج تک جن پر الزامات عائد ہوئے انہوں نے اس طرح کسی کو قادیانی یا واجب القتل قرار دیا؟ کیا بگٹی نے اتنا بڑا جرم کیا تھا؟ یا پھر قائد اعظم کی بہن فاطمہ جناح جنہیں دشمن ملک کا ایجنٹ قرار دیا گیا اور انجام کیا ہوا سب جانتے ہی ہیں۔

ابھی دو روز پہلے جمعے یعنی 2 نومبر کی بات ہے، کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں اشتعال انگیز تقریر اور میڈیا ہاؤس پر حملے کے کیس کی سماعت ہوئی جس میں جج نے فاروق ستار، عامر خان، کنور نوید، خالد مقبول صدیقی (وفاقی وزیر) سمیت ایم کیو ایم کے دیگر رہنماؤں کو بانی ایم کیو ایم کا شریک جرم ٹھہراتے ہوئے فردِ جرم عائد کی۔

فاروق ستار کو دو سال بعد بھی اپنی حب الوطنی کا ثبوت دینے کے لیے عدالت میں نعرے لگانے پڑے، ایم کیو ایم کے سابق کنونیر نے فردِ جرم عائد ہونے کے فوری بعد کمرہ عدالت میں پاکستان زندہ بادکا نعرہ پہلے خود لگایا پھر خود پاکستان بولا اور دیگر رہنماؤں نے جواب میں زندہ باد بول کر ثبوت دیا۔

فیصل رضا عابدی، نہال ہاشمی نے بھی کیا کسی کو قادیانی یا واجب القتل قرار دیا؟ منظور پشتین جس کی تحریک پر یہ الزام ہے کہ اُس کی تحریک غیر ملکی فنڈنگ پر چل رہی ہے اُسے این جی اوز سپورٹ کررہی ہیں کیا اُس کے جلسے میں بھی کبھی اس طرح کے فتوے صادر ہوئے؟

دوسری طرف تصویر کا ایک اور رخ یہ ہے کہ حکومتی معاہدے پر لوگ تنقید کررہے ہیں مگر ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر آپریشن ہوجاتا تو اس سے زیادہ خطرناک نتائج ثابت ہوسکتے تھے کیونکہ ماضی میں فیض آباد کے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے جب آپریشن کا آغاز ہوا تو مظاہرین نے پولیس پر نہ صرف جوابی شیلنگ کی بلکہ زبردست مزاحمت بھی کی، اس کے سنگین نتائج نکلے اور ہم نے دیکھا کہ وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال پر ایک شخص نے حملہ بھی کیا۔

حکومت نے معاہدے کے بعد نئی حکمتِ عملی مرتب کی جس کے تحت شر انگیزی پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی، مگر چونکہ خادم رضوی چند گھنٹوں پہلے ہی اعلان کر چکے تھے کہ جلاؤ گھیراؤ کرنے والوں سے اُن کا کوئی تعلق نہیں تو اس لیے ابھی تک اُن کے یا ساتھ بیٹھے پیر افضل قادری کے خلاف کارروائی کا کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

آخر کیوں ایسا نہیں ہے کہ اس نومولود تحریک کے خلاف ویسے ہی کارروائی عمل میں لائی جائے جیسی 22 اگست کے بعد ایم کیو ایم لندن کے خلاف کی گئی، کیوں نہیں اکبر بگٹی کی طرح کا آپریشن کیا جائے؟ تاکہ اس تاثر کو زائل کیا جاسکے کہ یہ اقدام صرف چھوٹے صوبوں پر ہی نہیں بلکہ بڑے صوبے سے چلنے والی تحریک پر بھی ہوتا ہے۔

Facebook Comments HS