آن لائن بنکنگ، فراڈ اور ہم سب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک عام کسٹمر بنکنگ سروس کو اکاؤنٹس اور لاکرز وغیرہ کے مقاصد کے لئے استعمال کرتا ہے۔ بینکس ہم سب کی زندگی بھر کی کمائی جمع پونجی کو سنبھال رکھنے کا ایک ذریعہ ہیں۔ نا صرف ہماری جمع پونجی بلکہ ایک کثیر تعداد کے حکومتی اور نجی اداروں کے ملازمین کو ماہوار تنخواہوں کی ادائیگی بھی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے ہی کی جاتی ہے۔ پہلے پہل کی سادہ بینکاری نہایت سست عمل کا شکار تھی۔ اس کے علاوہ، وہ پرانی سادہ بنکنگ جغرافیائی حدود و قیود کا بھی شکار تھی۔ یعنی، جس برانچ یا شہر میں آپ کا اکاؤنٹ موجود ہے، وہیں سے آپ اپنی رقم نکلوا سکتے ہیں۔ دور دراز سفر پر روانگی کے وقت آپ کو اکاؤنٹ سے اچھی خاصی رقم نکال کے اپنے پاس رکھنا ضروری ہوتی تھی۔ چھوٹی چھوٹی رقوم کے لئے چیک بکس ساتھ لے کر پھرنا پڑتا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی و کمپیوٹر سائینسز کو استعمال کر کے بنکنگ سروسز کو آسان سے آسان بنائے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ان سہولیات میں آن لائن بنکنگ کسی تحفہ خداوندی سے کم نہیں۔ دن ہو یا رات، آپ ملک کے کسی بھی حصہ میں ہوں، ڈھیروں روپے لے کر گھومنے پھرنے سے بہتر ہے کہ ڈیبٹ کارڈ وغیرہ کی سہولت سے فائدہ اٹھایا جائے۔ اس کے علاوہ آن لائن بلوں کی ادائیگی آپ کو بنک بلنگ ونڈو میں کھڑے رہنے کے جھنجٹ سے بچاتی ہے۔ آن لائن ٹرانزیکشنز سے نہ صرف آپ ملک، بلکہ بیرونِ ملک بھی قانونی تقاضوں کے عین مطابق رقم منگوا بھجوا سکلتے ہیں۔ ان بیش قیمت سہولیات کے لئے بینکس آپ سے کچھ نہ کچھ رقم بھی سروس چارجز کے طور پر وصول کرتے ہیں ۔ لیکن، جہاں کسٹمرز کی خدمات کے لئے یہ سہولیات موجود ہیں وہیں جرائم پیشہ ذہنیت رکھنے والے افراد بھی آپ کے مال و دولت کو ہتھیانے کے لئے تگ و دو میں لگے رہتے ہیں۔ ان چوروں کا ٹارگٹ آپ کی رقم، آپ کی جمع پونجی آپ کے اثاثے ہیں۔ یہ چور چھپے ہوئے ہیں۔ یہ آپ کی دولت پر حملہ کرنے کے لئے دن کی روشنی سے ڈرنے والے نہیں، رات کے اندھیروں کے محتاج نہیں۔ انھیں بس بنک سیکیورٹی کو بریک کرنا ہے۔ اور یہ سیکیورٹی بھی کو اسلحہ بارود والی نہیں۔ یہ دماغ کی دماغ سے جنگ ہے۔

آن لائن بنکنگ فراڈ وغیرہ سے بچاؤ کے لئے بینکس کئ قسم کی سیکیورٹی میتھڈز، یعنی طریقہ کار کو املپیمنٹ کرتے ہیں۔ یہ سیکیورٹی ٹیکنیکسس دو اینڈز پہ کام کرتی ہیں۔ یعنی اس کی ذمہ داری دو طرفہ ہے۔
1۔ بینکس خود: بینکس کے کمپیوٹرز و مشینری سمجھ لیں۔ جہاں مختلف قسم کے سافٹ ویئر، 24 گھنٹے نہ صرف کسٹمرز کی خدمت کر رہے ہوتے ہیں بلکہ ان کو اس طرح ڈِزائین کیا گیا ہوتا ہے کہ فراڈ اینٹریز سے بچا جائے۔ یہاں اس قسم کے سافٹ وئیرز ڈِزائین کیے جاتے ہیں جن کی انکرپٹڈ سیکیورٹی کو بریک کرنا نا ممکن کی حد تک مشکل ہو۔ ہیکرز (لٹیروں) کا مقصد ان کو بریک کرنا ہوتا ہے۔ خاصی اعلیٰ درجے کے پروگرامنگ اسکلز رکھنے والے اس سائیبر کرائم میں مشغول رہتے ہیں۔
2۔ کسمٹر خود: کسٹمرز بنک میں رجسٹرڈ اپنے اکاؤنٹس میں ٹرانزیکشنز کرتے ہیں مثلآ پیسے نکالنا یا جمع کروانا۔ لیکن یہ خود بھی اپنے بنک اکاؤنٹ سیکورٹی کے ذمہ دار ہیں۔ لٹیروں (ہیکرز) کے لئے ان کو ٹریپ کرنا نسبتہ آسان ہوتا ہے۔ لیکن یاد رکھیں، آپ کے اکاؤنٹ کو آج کل کی انکرپٹڈ سیکیورڈ انوائرمنٹ میں ہیک کرنا آسان نہیں۔ کسٹمرز کے اینڈ پر ان معلومات تک رسائی ہیکرز کی کام یابی ہے۔ یاد رکھیں یہ آپ کی پرسنل انفارمیشن ہے، انتہائی پرسنل انفارمیشن۔
* آپ کے ڈیبٹ کارڈ کا پن نمبر۔
* آپ کا اکاؤنٹ نمبر ( یہ ایک لمبا چوڑا نمبر ہے جس کی کمبینیشن بنانا اپنے اندر آپ ہی مشکل عمل ہے)۔
* آپ کا NIC نمبر (اس کو ہیک کرنا بھی بہت بہت مشکل ہے)۔
* آپ کے NIC کی کاپی جس کو آپ نے کسی خاص مقصد کے لئے کراس نہیں کیا ہوا، ہیکرز کے لئے سوغات ہو سکتی ہے۔
* آپ کے والد، والدہ کا نام بھی آپ کی سیکیورٹی انفارمیشن کا حصہ ہے۔
* آپ کا سیل فون نمبر آپ کے اکاؤنٹ سے انٹیگریٹڈ ہے، حالیہ آن لائن بنکنگ فراڈز میں شاذ و نادر ہی بنکنگ سیکیورٹی کو توڑا گیا ہے، زیادہ تر آپ (یعنی کسٹمر) نے خود اپنی انفارمیشن لیک آؤٹ کی ہے۔ آپ قصور وار ہیں۔ یاد رکھیں، کسی بھی صورت اپنی انفاترمیشن (اپنی پرسنل انفارمیشن) کسی کو نہ دیں۔
• آپ کو کالز آئیں گی۔
• کبھی کوئی بنک کا نمایندہ بن کر بات کرے گا۔
• کبھی آرمی کا افسر یا کسی دوسری آرمڈ فورسز کے افسر بن کر آپ کو تنگ کریں گے۔
• آپ کو دھمکایا جائے گا۔
• آپ کے اکاؤنٹ بند کردینے کی دھمکی دی جائے گی۔
• آپ سے بد تمیزی کی جائے گی۔

بینکس کی آفیشیل کالز صرف ان کے سپیشل آئی وی آر نمبرز سے آتی ہیں۔ لوکل نمبرز یا موبائل نمبرز سے نہیں۔ یاد رکھیں آپ نے ڈرنا نہیں۔ زندگی، موت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ کوئی آپ کا تب تک کچھ نہیں بگاڑ سکتا، جب تک آپ کی کم زوری اس کے ہاتھ میں نہ آ جائے۔ آپ کے اکاؤنٹ کی ڈیٹیل یعنی تفصیل آپ کی کم زوری ہے۔ اس کے علاوہ آپ کو کسی خاتون کی کال بھی آ سکتی ہے۔ جس کی مدھر آواز آپ کے کانوں میں رس گھول سکتی ہے۔ تو جناب، مجنوں کے نانا اور رانجھا کا چچا بن کر زیادہ اوور ایکٹنگ کرتے ہوئے، اپنی انفارمیشن مہیا کرنے کی ضرورت نہیں؛ بصورتِ دیگر یہ وہ ’سوہنی‘ ہوگی جو کنارے پہ کھڑی رہ کر منہیوال (یعنی آپ) کے چناب میں ڈوبنے کا تماشا دیکھے گی۔ ہنسے گی اور آپ رو بھی نہ پائیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •