جسے مقبولیت دکھانے کا شوق ہو، اسے الیکشن لڑنا چاہیے: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ


سپریم کورٹ کے جج جسٹس فائز عیسیٰ نے لندن میں کہا ہے کہ کسی ادارے کو مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے اور اپنے کام پر توجہ دینی چاہئے۔ ججوں کا فرض ہے کہ وہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر فیصلہ دیں، مفروضات اور  تصورات کی بنیاد پر نہیں۔ جج سنتے زیادہ ہیں۔ وہ ہر طرح کے لوگوں کی رائے سنتے ہیں لیکن بولتے کم ہیں تاکہ وہ منصفانہ سماعت کے بعد انصاف کو یقینی بناسکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جج ریاست کے ملازم اور عوام کے سامنے جوابدہ ہیں کیونکہ وہ سرکاری خزانے سے تنخواہ وصول کرتے ہیں۔ جسٹس فائز عیسیٰ لندن میں ”فیوچر آف پاکستان “کے موضوع پر ایک کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ سیاستدان رائے دہندگان کے سامنے جوابدہ ہیں ، وکلاءاپنے موکلین کے سامنے جوابدہ ہیں کیونکہ وہ سرکاری خزانے سے تنخواہ وصول نہیں کرتے جب کہ جج ریاست اور عوام کے سامنے بھی جوابدہ ہیں۔ عوام کی توقعات اور امنگوں پر پورا اترنا ججوں کی ذمہ داری ہے کیونکہ عوام ان سے یہی توقع رکھتے ہیں کہ وہ میرٹ پر انصاف کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کسی ادارے کو مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے اور اپنے کام پر توجہ دینی چاہئے کیونکہ مقبولیت جانچنے کا بہترین ذریعہ بیلٹ بکس ہے۔ اگر کوئی فرد اپنی مقبولیت جانچنا چاہتا ہے تو اسے الیکشن میں حصہ لینا چاہئے جس سےاس کی مقبولیت کا پتہ چل جائے گا۔

Facebook Comments HS