کتاب میلہ ۔۔۔ نئے مانجھی اور نئے زمانے کے پتوار
نومبر کا آغاز ہے۔ خنک ہوائیں میدانی علاقوں میں ہوائی آلودگی کے باعث میلی میلی سی ترقی کے نام پہ اتراتی پھر رہی ہیں۔ موسم نے قوم کی دکھتی رگ پہ مسیحائی ہاتھ رکھ دیا ہے۔ مگر ساتھ ہی بجلی اور گیس کے یونٹ کی بڑھتی ہوئی قیمت نے گویا زخم پر نشتر بھی رکھ دیا ہے۔ سجن بن پھول رہی سرسوں۔۔۔
نومبر کا آغاز ہے۔ میلو ں کا بھی آغاز ہو گیا ہے۔ آج ایک میلے کا بھی آخری دن تھا۔ جس کے پہلے دو دنوں نے ہی اس کو آخری بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔ لیکن زمانہ جہالت کی طرح ایک قربانی نے، ایک خون نے زندگی کی روانی کو جیسے کوئی نئی سانس دے دی تھی۔ نجانے ایک تنہا شخص کے لہو تازہ میں ایسی کیا طاقت تھی جو ظاہری طاقتوں کو نگل گئی۔ اور ہم زندگی کے دریا میں لوٹ آئے۔
اسی روانی میں لاہور میں سجے کتابو ں کے میلے میں خزاں کے موسم میں بسے شہر کی بہار مسکرا اٹھی۔ کوئی انجانی سی ہوا چلی اور مجھے اپنے سنگ اڑائے وہاں لے گئی۔
دور اندھیرے میں ظاہری روشنیوں کا شہر سجا ہوا تھا۔ ان روشنیوں تلے دماغ کی کھڑکیاں دروازے کھولنے والے خطرناک آلات (کتابیں) اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ مسکرا رہے تھے۔ کتابیں نہیں بکتیں، مگر بک رہی تھیں۔ کوئی شخص ایسا نہیں تھا جسے میں نے خالی ہاتھ جاتے دیکھا ہو۔ ہر شخص کے ہاتھ میں لفافہ تھا۔ کتابوں سے لدا، رازوں سے بھرا بستہ۔
کچھ نے یہ کتابیں گھر کی شیلف پہ سجانی تھیں تا کہ آنے والے مہمانوں کو بتایا جا سکے کہ یہ کتنا کتاب دوست گھرانہ ہے۔ یہ بھی فیشن کا اہم حصہ ہے۔ کچھ نے مجبوراً لینا تھیں کہ اس کا مقالہ تھا، معاملہ ڈگری کا ہے۔ جس سینوکری جڑی ہوئی ہے۔ کچھ نے کسی کو کتاب کا تحفہ دے کر اپنی علمیت سے متاثر کر نا تھا۔
مگر یقین کیجئے کہ کتاب بکتی نہیں۔ اور اس سے زیادہ یقین کیجئے کہ قاری موجو د نہیں ہے۔
مگر یہ بھی یقین کیجئے کہ پہلے دو دن جو ملکی حالات تھے۔ اس کے باعث میلے میں موجود سب پبلشرز کا دل بیٹھ گیا تھا کہ اس بار کاروبار میں نقصان ہو گیا۔ اگرچہ ہوا بھی، کیونکہ یہ نقصان اس بار اجتماعی تھا۔ پورے معاشی ڈھانچے کو دھچکا لگا تھا۔ ملک کو ٹیکس ادا کرنے والے اپنے حق کی طاقت سے بخوبی واقف نہیں ورنہ ایک اور طاقت سر اٹھا لیتی۔
بات تھی کتاب میلے کی۔ اس بار یہاں وہ رونق نہیں تھی جو پچھلے برس تھی۔ مگر بے رونقی بھی نہیں تھی۔ اس بار ایک نئی روایت، ایک نیا رنگ، ایک نیا انگ دکھائی دیا کتابو ں کے سٹالز میں گوٹے، دھاگے کی کڑھائی والے، تلے کے کام والے ملبوسات کے سٹالز کا بھی اضافہ تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ جیولری کے سٹالز، نمکو اور خشک میوہ جات کے سٹالز بھی سجے ہوئے تھے۔ یہ سب دیکھ کر کہیں اندر تک ایک خطرے کی گھنٹی جیسے صحراؤں میں تنہا بجتی سنائی دینے لگی۔
چائے کا انتظام اوپر تھا۔ جہا ں مختلف گروہوں میں بیٹھے مختلف ادیب ادبی غیبت کی محفلیں سجائے اس کاروبار کی بھی رونق بنے ہوئے تھے۔ جس میں ہم نے بھی بھرپور حصہ لیا۔ سب کا خیال تھا کہ کتاب کلچر دم توڑ رہا ہے۔ لیکن کسی کے ساتھ بھی اپنا بچہ موجود نہیں تھا۔ گویا کوئی یہ نہیں سوچ رہا کہ اس کے ذمہ دار کافی حد تک ہم خود ہیں۔
اس کے برعکس اسلام آباد کتاب میلے میں جانے کا اتفاق ہوا تو بہت سے نئے لکھنے والوں کے ساتھ ان کے بچے موجود تھے۔ اسی طرح سب کا خیال تھا کہ قاری موجود نہیں ہے۔ اس سے اتفاق کرنا پڑے گا۔ مگر کیا ہم اپنے بچوں کو ان کی سالگرہ پہ، ان کے پاس ہونے پہ کتابیں تحفہ میں دیتے ہیں۔ پچھلی نسلوں کو ہم نے اپنے بچوں کو کتابیں گفٹ کرتے دیکھا ہے۔ سب کا خیال تھا کہ بچوں کا ادب سنجیدہ کام ہے۔ لیکن بچکانہ سمجھ کر کیا نہیں جاتا۔ مگر پھر سب بھول بھی جاتے ہیں۔
سب کا خیال تھا کہ اب سوشل میڈیا نیا سکالر پیدا کر رہا ہے۔ یہ طنز تھا۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ ایسا ہی ہو گا۔ میڈیم بدلا ہے۔ اس کو قبول کرنا ہو گا۔ نئی نسل کو لیپ ٹاپ، موبائل، ٹیب، بک ریڈر ہم نے ہی مجبوری اور فیشن میں نوازے ہیں۔ اس کے ثمرات بھی تو ملیں گے۔ یہ میڈیم برا نہیں ہے، تیز ہے۔ اس لئے نئی نسل ہر اعتبار سے جلد بڑی ہو رہی ہے۔ ہم اس کو قبول نہیں کر رہے کیونکہ ہمیں تاحال یہ سب غیرفطری لگ رہا ہے۔
یہ ترقی و تیزی ہی کی بدولت ہے کہ سفر پہ جاتے ہوئے ہم چند کتب ساتھ رکھ سکتے تھے، اب بک ریڈر کی بدولت ہزاروں کتب ہم سفر ہو گئی ہیں۔ اب تو ایک وہ کلاس بھی ہے جہاں دوران سفر آ پ کی سیٹ کے سامنے موجود ایل ای ڈی میں بہت سی کتب محفوظ مل جاتی ہیں۔ آپ جو کتاب چاہیں کھولیں اور مطالعہ کریں۔
سب حقائق اپنی جگہ، کتاب کا رومانس بھی قائم ہے۔ اور سوشل میڈیا سے جڑے افراد کے لئے اس کا رومانس بھی اپنی جگہ بنا چکا ہے۔ جس کو قبول کرنے میں کچھ وقت تو لگے گا۔
ہر دور کی ایک سچائی ہوتی ہے، ایک دورتھا فلم کا ہیرو بہت معصوم تھا، پھر ذرا غصیلہ ہیرو متعارف ہوا، پھر سگریٹ پینے والا، لڑنے والا، ناچنے والا، کرداروں کے ساتھ حلیے بھی بدلتے رہے۔ آج کا ہیرو ولن جیسا ہے، اپنے کردار سے وہ ہیرو لگتا ہے، حلیے سے ولن۔ آج کے دور کی یہی سچائی ہے۔ اجی کبھی کبھی شیطان بھی ہیرو ہوا کرتا ہے۔ ہمیں مان لینا چاہیے۔
یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اگر کتاب اپنی اہمیت کھو گئی ہے تو میلے کیو ں سجے ہوئے ہیں۔ ادیب کیوں زندہ ہیں۔ لوگ لکھ کیوں رہے ہیں۔
پریم برابر جوگ نہیں پریم برابر گیان
پریم بھگتی بن سادھوا سب کچھ تھوتھا جان


