کیا آپ ایک کامیاب زندگی گزار رہے ہیں؟ فیصلہ آپ خود کیجیے
چند دنوں سے جب بھی میں کچھ لکھنے کی آرزو کرتا تھا بہت سے خیالات و تصورات میرے دماغ میں ہاتھا پائی کرنے لگتے اور چند ایک کبڈی کھیلنے لگتے۔ میں بعضوں کو بعضوں میں غلطاں و پیچاں ہونے سے بچانے کی ناکام جستجو کرتا رہتا اور بلآخر کوئی بھی عکس کینوس پر اتارے بغیر تھک جاتا۔
یہ میری ناکامیوں میں ایک ایسی ناکامی ہے جو اکثر و بیشتر میرا منہ چڑاتی ہے اور میں تاسف سے ہاتھ ملتا رہ جاتا ہوں۔ اب آپ ایمانداری سے فیصلہ کیجیے کہ میری ناکامی آپ کے لیے کس قدر اہم ہے؟ میرا گمان ہے کہ آپ میں سے سینکڑوں کی حیات میں اس کی کوئی وقعت نہیں ہو گی۔
یعنی کہ جس ناکامی پر میں نادم ہوں اور جس خواہش کو میں نے پایائے تکمیل تک پہنچانے لے لیے، اپنی مصروفیات و معمولات کو بدلنے کا ارادہ کر رکھا ہے، وہ آپ کے نزدیک بے وقعت ہے؟
اغلباً آپ میرا مدعا سمجھ چکے ہوں گے، اول میں یہی بات آپ پر عیاں کرنے کی جد و جہد کر رہا ہوں کہ ہم سب کی کامیابیاں و ناکامیاں ہمارے اپنے طے شدہ مطمح نظر پر منحصر ہوتی ہیں۔
اس سے آگے اس سے کہیں کٹھن سفر ہے جو میں چاہتا ہوں آپ بھی کیجیے، خود کو اپنی ذات تک رسائی دیجیے، اپنی ذات کو کریدنے کی کوشش کریں اور اپنے ساتھ سرگوشی کریں کہ آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ میں نے گزشتہ مضمون میں یہی سوال کیا تھا کہ کیا آپ واقعی جانتے ہیں کہ آپ کیا چاہتے ہیں؟
جو کچھ بھی آپ چاہتے ہیں، آپ کی حیات فانی سے جتنے مقاصد جڑے ہیں، جتنے اہداف آپ نے متعین کر رکھے ہیں ان کا حصول کامیابی ہے۔ یہی وہ کامیابیاں ہیں جو آپ کے سکون قلب کا باعث بنتی ہیں۔
یہ میری ذاتی رائے ہے ( جسے رد کرنے کا آپ کو پورا حق ہے ) کہ جو لوگ اپنے مقاصد خود طے نہیں کرتے، ان کا مطمح نظر ان کے حالات و واقعات متعین کرتے ہیں۔
آپ غور کیجیے غرباء کے لیے امیر ہو جانے سے بڑی کوئی نعمت نہیں، وہ مالی طور پر اپنے سے بہتر لوگوں کے رہن سہن کو اپنا لینے کو ہی زندگی کا مقصد گردانتے ہیں۔ یہ منزل انہیں ان کا معاشرہ دیتا ہے۔
یہ انسانی فطرت کا حصہ ہے کہ جو محرومیاں ہم اپنی ذات میں محسوس کر لیں ہمیں اس سے گھن آنے لگتی ہے اور ہم اس کے ذکر سے بھی گھبراتے ہیں (عین ممکن ہے بس ابھی آپ کے دماغ میں آپ کی محرومیاں امڈ آئی ہوں ) ۔ یہی وجہ ہے غربا یا مڈل کلاس لوگ اپنی عمر کا بیشتر حصہ زیادہ سے زیادہ دولت کمانے میں صرف کر دیتے ہیں۔
دنیاوی خواہشات و محرومیوں کو اکٹھا کر کے، کامیابی کی نوع انسانی کے لیے عمومی تعریف کو کچھ یوں بیان کیا گیا ہے۔
” دولت، خوشحالی اور شہرت کے حصول کو کامیابی کہتے ہیں۔ ”
اس تعریف کے عمومی پیروکاروں کے نزدیک دنیاوی لذتوں اور نفسانی خواہشات کا حصول ہی کامیابی ہے۔ یعنی کہ ایک عام انسان کے لیے ڈاکٹر، انجینئر یا بیوروکریٹ بن جانا یا دولت کا بڑا حصہ ہاتھ آ جانا ہی بڑی کامیابی ہے۔ میرا ذاتی نقطہ نظر اس سے تضاد رکھتا ہے۔
اگر آپ کوئی کاروبار کر رہے ہیں اور آپ کا مقصد اسے کامیاب بنانا ہو تو آپ اس کی کامیابی کا اندازہ اس سے ہرگز نہیں لگا سکتے کہ وہ آپ کے سرمائے میں کس قدر اضافے کا باعث بن رہا ہے، بلکہ کاروبار کی کامیابی یہ ہونی چاہیے کہ لوگ جو اس کاروبار سے جڑے ہیں چاہے وہ ملازمین ہیں یا گاہک وہ آپ کے کام سے یا اشیاء سے جنہیں آپ فروخت کر رہے ہیں کس قدر مطمئن ہیں۔ کیا آپ بہترین کوالٹی مناسب داموں میں دے پا رہے ہیں؟ یہ آپ کی وہ کامیابی ہے جو دائمی یا کم از کم دیر پا ہے۔
عمومی رائے، خاص طور پر پاکستان کے مضافاتی علاقوں میں اور عام طور شہروں میں، یہ ہے کہ ڈاکٹر، انجینیئر، بیوروکریٹ یا اپنے علاقے کا ایسا افسر بن جانا جس کا علاقے میں دہشت، رعب و دبدبہ ہو، کسی بھی نوجوان کی بڑی کامیابی ہے۔
اس رائے نے نوجوان کو مایوسی اور ڈپریشن کا شکار کیا ہے۔ آپ خود فیصلہ کیجیے کہ کیا ہر نوجوان کو ڈاکٹر یا انجینئر ہونا چاہیے؟ پھر باقی کے ہنر مند جو آپ اور میری سب کی ضرورت ہیں کہاں اور کیسے پیدا ہوں گے؟
کامیابی کا بڑا عہدے دار ہونے سے بھی کوئی تعلق نہیں۔ بلکہ آپ چاہے عہدے دار ہیں یا ہنر مند ہیں کامیابی یہ کہ آپ اپنے کام میں ید طولی رکھتے ہوں۔ لوگ آپ کے ہنر سے اس قدر مطمئن ہوں کہ وہ آپ کے سوا کسی اور سے کام لینے پر مطمئن نہ ہوں۔
آپ جو کچھ بھی ہیں، آپ خود فیصلہ کیجیے کہ آپ کس قدر کامیاب ہیں؟ اگر آپ عہدہ دار ہیں تو کیا آپ اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھا رہے ہیں؟ کیا لوگ آپ کے معترف ہیں اور آپ سے ملاقات کی حسرت پالتے جا رہے ہیں؟
آپ جو بھی کر رہے ہیں، کیا آپ کو ایسا کر کے سکون ملتا ہے؟ اور کیا آپ اپنے ہنر میں ید طولی رکھتے ہیں تو آپ ایک کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ اب آپ اپنی زندگی کا فیصلہ خود کیجیے اور اپنی کامیابیوں سے متعلق رائے دیجیے۔


