عطر عود


آج پھر تم شیشہ دیکھنے سے گھبرا گۓ ہو، مان لو آج عکس تمہارا نظر آرہا ہے ساری دنیا کو۔کیونکہ یہ تصویر جو بظاہر کچی مٹی کی دیوار پر تم بنائ تھی، وہ تمہارے دل کی آواز ، دھڑکن کے ساز اور سانسوں کی ترتیب سے یوں وابستہ تھی کہ ایک بھی لکیر ادھر سے ادھر لگ جاتی تو تم بھوکے بھیڑیۓ کی طرح چیخنے چلانے لگ جاتے۔

میری کیا مجال کہ میں اس تصویر کی مالک بن سکوں؛ ہاں ہاں معلوم ہے مجھے کہ ، اس کو تسخیر و تعبیر کے مراحل سے گزارنے میں تم نے چند نیم وا قطروں کی مانند اپنا حصہ ڈالا تھا۔ کبھی تم آنسوؤں کی صورت ان قطروں کی فرمائش کرتے اور کبھی تم ضد کرتے کہ اتنا تھک جاؤ کام کرتے کرتے، صبر کی مٹھی کو بھرتے بھرتے اور محبت کی چکی میں پستے پستے کہ تمہارے انگ انگ سے خوشبوءعود کے مماثلُ قطروں کی بارش ہونے لگے۔اور پھر تم عاشق بن کر پوجتے ہو میرے انگ انگ کو۔مگر تم یہ بھول جاتے ہو کہ میں مکمل ہوں تمہارے بنا اور میرج نس نس میں محبت اور قربانی کا جذبہ جو دوڑ رہا ہے وہ تم نے مجھے نہیں سونپا۔

یہ تو میں نے اپنی چند گزشتہ کہانیوں کے انجام سے بچا کھچا سانسوں کا گچھا لے کر اپنے تن میں اس کی پنیری لگائ ہے تو یہ جذبے حیات مژگاں کا باعث بنے میری ذات کے اندر۔جس کو تم نے گاہے گاہے فریب اور دھوکے سے خریدنا چاہا۔ اور میری مزاحمت کرنے پر جب کچھ نہ بن پڑا تو تم نے مجھے جلا دیا ، زندہ دبادیا، بند بوری میں چھپا دیا کہ میں سانس نہ لے سکوں-جو تمہارا نہیں اس قدرت کا عطا کردہ ہے ،جس سے اب میرا سوال ہے؛کہ یہ آبیاری نو کا نحیف قطرہ جو ان میں ہے اس لیۓ تم نے ان کو پیغمبر بنایا اوراپنے سروں پر تاج اور ہم پر راج کرنے کا گر سکھایا۔

مگر سوچو اگر میں ہی نا ہوتی یا نہ رہوں تو یہ جو قندیل زماں بجھا رہے ہو اس کے اندر سے تم کیسے آتے۔ بے وفا، ہرجائی اور بے پرواہ; بھول گۓ یہ قندیل آگ کی بھٹی میں جل کر قندیل بنی اور جب جب تم اس کو بجھاتے ہو منہ زور ہوا کے جھونکے اس کی روشنی اور پیغام دور دور تک پھیلاتے ہیں۔اور آخری پیغام میری قبر کے کتبے پر میرا نام ونسب نہیں بلکہ ایک قندیل جلا دینا۔

Facebook Comments HS