بازار حسن کا انسائیکلو پیڈیا حکیم الدین غوری اس چکر میں کیسے پڑا؟


اب میرے جسم پر ایسا لباس تھا کہ جیسے کوئی مکینک ہو۔ باہر نکلا تو گاڑی غائب تھی۔ میں گھبرا گیا کیونکہ گھر کے اندر پڑا سامان میرے نقصان کی تلافی نہیں کر سکتا تھا۔ اس ادھیڑ بن میں مجھے فون کا خیال آیا۔ ریسور اٹھایا تو وہ ڈیڈ تھا۔ غالباً وہ جاتے ٹیلی فون کی تاریں بھی کاٹ گئی تھی۔ میرے پرس میں 12000 روپے تھے جو میں نے کسی کو ادا کرنا تھے۔ سمیرا اور بوڑھی عورت جاتے جاتے مجھے جسم پر موجود کپڑوں سے بھی محروم کر گئی تھیں۔ میں نے واپس کمرے میں آ کر بیڈ کا جائزہ لیا تو احساس ہوا کہ پرانے بیڈ کے اوپر نئی بیڈ شیٹ بچھا کر بڑی خوبصورتی سے اس کے عیب چھپائے گئے تھے۔ صوفے کا جائزہ لیا تو وہ بھی بری حالت میں تھا۔ مجھے حیرت ہوئی کہ ان تمام چیزو ں کا میں نے پہلے جائزہ کیوں نہ لیا۔

اب مجھے احساس ہوا کہ میں لٹ چکا ہوں۔ یہ ساری واردات کچھ اس طرح سے ہوئی کہ میں بے بس تھا او کسی کو اس سے اگاہ بھی نہ کر سکتا تھا۔ وہاں بیٹھنا بھی بیکار تھا۔ میں نے کمرے کی الماریوں کا آخری مرتبہ جائزہ لیا۔ وہاں کوئی ایسی چیز نہ تھی جو میرے نقصان کا ازالہ کر سکتی۔ آخر کار وہاں سے چلتا ہوا میں باہر آیا۔ کسی سے لفٹ لینے کی ہمت نہ پڑی۔ دن کی روشنی میں جس سڑک سے میری گاڑی گزری تھی اب وہاں میرے قدموں کے نشان میری بے بسی پر ہنستے جا رہے تھے۔ میں پیدل چلتا بڑی مشکل سے گھر پہنچا۔

میری حالت زار دیکھ کر پورا گھر اکٹھا ہو گیا۔ فوراً میرے ذہن نے ایک کہانی گھڑی۔ میں نے مختصراً گھر والوں کو بتایا کہ گڑھی شاہو پل کے قریب دو افراد زبردستی گاڑی میں سوار گئے اور نہ صرف انہوں نے گاڑی چھینی بلکہ وہ مجھے کسی مکان کے ایک کمرے میں بند کر گئے تاکہ میں وہاں سے باہر نہ نکل سکوں۔ والد صاحب نے پولیس کو اطلاع دی۔ میری نشاندہی پر مذکورہ گھر پر ریڈ کی گئی۔ یہ دیکھ کر میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ جس کمرے میں تھوڑا سا سامان پڑا تھا وہ کمرہ بھی باقی ماندہ کمروں کی طرح سائیں سائیں کر رہا تھا۔

پرانا بیڈ، صوفہ اور چند کرسیاں بھی اٹھائی جا چکی تھیں۔ تفتیش کرنے پر محلے داروں نے بتایا کہ یہاں دو خواتین ایک ہفتہ قبل آئی تھیں ان کا کسی سے ملنا نہ تھا۔ محلے کے ایک شخص نے مجھے پہچانتے ہوئے کہا۔ : ”آپ ہی تو ان عورتوں کو گاڑی میں بٹھا کر یہاں آئے تھے۔ “ میں گھبرا گیا لیکن میں نے اپنے حواس پر قابو پاتے ہوئے کہا ان کے ساتھ گاڑی میں ایک شخص اسلحہ لئے ہوئے موجود تھا۔ پولیس والوں نے میرے بیان کو تسلیم نہ کیا اور والد صاحب کو ایس ایچ او نے بتایا کہ معاملہ گڑبڑ ہے، آپ کا بچہ جھوٹ بول رہا ہے۔ بہتر یہی ہے کہ پہلے گھر جا کر تفتیش کریں ورنہ ہم نے تو چار چھتر لگا کر سچ اگلوا ہی لینا ہے۔ میں نے کافی باتوں کا اعتراف کر لیا لیکن کچھ رد و بدل بھی کیا۔ میرا بیان قلمبند ہوا، پرچہ کٹ گیا لیکن نتیجہ صفر۔

حکیم الدین غوری نے اپنی کہانی سنا کر نیا سگریٹ سلگایا۔
“دلچسپ“ میں نے کہا۔

کچھ سوچ کر حکیم الدین نے اپنے سر پر ہاتھ پھیرا اور بولا۔ : ”سمیرا تو نہ مل سکی لیکن میں نے فیصلہ کر لیا کہ اس کا انتقام باقی طوائفوں سے لوں گا۔ انہی دنوں میری دوستی کالج کے ایک لڑکے کے ساتھ ہوئی۔ وہ بھی میری طرح عیاشی تھا۔ چنانچہ ہم نے پہلی مرتبہ مل کر ایک خاتون سے سودا کیا۔ وہ بولی میں سو روپے لوں گی جب کہ ہمارے پاس 80 یا 85 روپے تھے۔ ہم نے اسے 70 روپے دیے۔ وہ عورت اس قدر چالاک تھی کہ اس نے ہم دونوں کو دس منٹ کے اندر فارغ کر دیا۔

پھر میری ملاقات پکی ٹھٹھی سمن آباد کی ایک خاتون نگہت سے ہوئی۔ اس کا شوہر اے جی آفس میں کام کرتا تھا اور بچے اس کے چھوٹے تھے۔ اس کا ایڈریس مجھے ایک کھسرے سے معلوم ہوا تھا۔ پہلی مرتبہ میں اس کے پاس ماہ رمضان میں گیا۔ دوپہر کا وقت تھا۔ وہ گھر پر تھی۔ جو نہی اس نے دروازہ کھولا اور میں نے خلیل نامی کھسرے کا حوالہ دیا۔ اس نے اندر بلا لیا۔ میں اب کافی تجربہ کار ہو چکا تھا اس لئے کسی قسم کی ہچکچاہٹ کے بغیر اس سے سودے بازی شروع کی۔

اس نے 50 روے مانگے میں نے فوراً ادا کر دیے۔ نگہت کی عمر کوئی 45 سال کے قریب ہو گی جب کہ میں 25 سال کا تھا۔ وہ مجھے کمرے میں لے گئی۔ میں نے کہا : ”مجھے کچھ نہیں کرنا، تم صرف اپنی کہانی سنا دو۔ “ پہلے تو وہ مذاق سمجھی اور پھر میری سنجید گی کو دیکھ کر اس نے 50 روپے میری مٹھی میں دبائے اور بولی۔ : “کہانی کسی اور دن سننا“

میں نے کہا : ”میں نے تمہارا وقت خریدا ہے۔ تم میری مرضی کے مطابق گفتگو کرو۔ “ لیکن وہ بولی : “تم نے وقت نہیں جسم خریدا ہے۔ موڈ ہے تو آؤ ورنہ پیسے پکڑو اور چلتے نظر آؤ۔ نگہت سے وہ میری پہلی ملاقات تھی۔ میں نے پیسے واپس لئے اور سیٹرہیاں اتر کر واپس چلا آیا۔ “

” تمہیں اس کی داستان حیات میں کیا دلچسپی تھی؟ “
” ویسے ہی۔ میں نے سوچا گھریلو عورت ہے بھلا اس کو یہ سب کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ یہی تجسّس تھا جس نے مجھے اس کی نجی زندگی میں جھانکنے پر راغب کیا۔ “

” اس نے کچھ بتایا؟ “
” نہیں، اس نے مجھے گھر سے نکال دیا“

” پھر؟ “
” میں واپس آ گیا۔ “
” دوبارہ کبھی ملاقات ہوئی۔ “

ہاں۔ مجھے یاد ہے ایک دن وہ مجھے اچھرہ میں ملی۔ وہ غالباً شکار کی تلاش میں تھی۔ میں نے موٹرسائیکل روکی۔ اس نے کچھ لمحے تو سوچا لیکن پھر مسکرا کر بیٹھ گئی۔ میں ملتان روڈ کی طرف چل پڑا۔ اس نے اپنے جسم کا دباؤ ڈالا۔ یہ اظہار محبت تھا۔ میں نے بھی جسم کو پیچھے کی جانب سیکٹرا۔ اب ہم دونوں مناسب جگہ کی تلاش میں نکل پڑے۔ وہ بولی : “آج فضول باتیں نہ کرنا۔ “ میں ہنس دیا۔ “

نگہت نے اس روز کہا: ”شراب پلا سکتے ہو؟ “میں نے بے ساختہ کہا: ”پلا نہیں نہلا سکتا ہوں “وہ بولی : ”اب سمن آباد پر نہیں مزنگ کے قریب رہتی ہوں، کیا وہاں چلیں؟ “میں نے اس کا ٹھکانہ دیکھا اور یہ کہہ کر اسے وہاں اتار دیا کہ میں ابھی آتا ہوں۔ اب میرا رخ ***** ہوٹل کی جانب تھا جہاں ہر وقت شراب مل جاتی ہے۔ دو بوتلیں اور کھانے پینے کا سامان لے کر میں نگہت کے گھر پہنچ گیا۔ “

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3 4