جب ایک لڑکی ہماری مہمان بنی
”کیا کر رہی تھیں؟ “ میں نے بر سبیلِ تزکرہ سوال کیا۔
” ٹی وی دیکھ رہی تھی۔ چائے بناؤں؟ “ اس نے پوچھا۔
” پلیز۔ “ میں نے جلدی سے کہا اور وہ کچن میں گھس گئی۔ چائے لے کر آئی تو ایک کپ مجھے پکڑایا اور دوسرا کپ تھام کر میرے ساتھ کرسی پر بیٹھ گئی۔
” تم روزانہ اسی وقت آتے ہو؟ “ اس نے چائے کا سپ لیتے ہوئے بڑی بے تکلفی سے پوچھا۔
”تم؟ “ میں نے تم کا لفظ دہرایا۔
” معاف کرنا مجھے یہ آپ جناب وغیرہ کہنا اچھا نہیں لگتا۔ “ اس نے ایسے انداز میں کہا جیسے برسوں سے میری شناسا ہو۔
” کوئی بات نہیں، مجھے بھی تکلفات پسند نہیں۔ “ میں نے فوراً کہا۔
چائے کے دوران ادھر ادھر کی چند باتیں ہوئیں۔ چائے ختم ہوئی تو اس نے اپنے پرس سے گولڈ لیف کا پیکٹ نکالا اور بولی، ”سگریٹ پیو گے؟ “
نو تھینکس! میں ابھی اس ”نعمت“ سے محروم ہوں۔ میں نے کسی قدر تلخی سے کہا۔
”میں بھی ریگولر سموکر نہیں ہوں۔ کبھی کبھی بہت طلب ہوتی ہے۔ “
اس نے برا مانے بغیر کہا اور لائٹر سے سگریٹ سلگا لیا۔
” کیا نومی کو پتہ ہے تم سگریٹ پیتی ہو؟ میں نے کہا۔
” اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔ “ اس نے کش لگاتے ہوئے لا تعلقی سے جواب دیا۔
مجھے بڑی حیرت ہوئی۔ میں اسے سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اچانک مجھے کچھ یاد آیا میں اس سے معذرت کر کے باہر نکل آیا۔ مجھے میڈیکل سٹور پر جانا تھا۔ خواب آور گولیاں خریدنی تھیں۔ میڈیکل سٹور قریب بھی تھا مگر میں دور نکل گیا۔ واپس آیا تو نومی آ چکا تھا۔
بہر حال رات کے کھانے کے ساتھ ہی میں نے خواب آور گولی بھی نگل لی اور پھر اس کے زیر اثر رات بھر آرام سے سویا رہا۔ اس بار بھی پراٹھوں کی اشتہا انگیز خوشبو نے مجھے جگایا۔ مزیدار ناشتہ کر کے میں اپنے کام پر نکل گیا۔ دن گزر گیا لیکن گھر جانے کی بجائے مارکیٹ میں گھومتا رہا۔ شام گہری ہو گئی تو سوچا کہ اب گھر جانا چاہیے۔
دروازہ عاشی نے ہی کھولا۔ اس کا لباس دیکھ کر چونک اٹھا گزشتہ دو دن اسے شلوار قمیص میں دیکھا تھا۔ آج اس کے بدن پر جینز اور شرٹ تھی۔ اس لباس میں کچھ اور پیاری لگ رہی تھی۔
” نومی کہاں ہے؟ “ میں نے پوچھا۔
” وہ تو ابھی تک نہیں آیا۔ “ وہ بولی۔ میں نے فوراً کال ملائی۔
”نومی کہاں رہ گئے ہو تم؟ “ دوسری طرف سے اس کی آواز سن کر میں نے جلدی سے کہا۔
” یار کیا بتاؤں نہت بری طرح پھنس گیا ہوں۔ باس کے حکم پر ان کے ساتھ پشاور آیا تھا۔ یہاں ایک سیاسی جماعت نے پہیہ جام ہڑتال کر دی ہے۔ ہم شہر سے باہر نہیں نکل سکتے ورنہ گاڑی اور جان دونوں سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ “
اس نے بے بسی سے کہا۔
”اوہ! تو پھر تم کیسے پہنچو گے؟ “ میں نے پریشانی سے پوچھا۔
” بتایا تو ہے، نہیں پہنچ سکتا، اب صبح ہی آؤں گا۔ اور صبح عاشی چلی جائے گی۔ “ وہ بولا۔
” اوہو تو تمہیں یہ غم ستا رہا ہے میں تمہارے لئے پریشان ہوں۔ “ میں نے خفگی سے کہا۔
”اچھا اچھا بہت شکریہ، کل بات کریں گے۔ “ اس نے فون بند کر دیا۔
میں نے عاشی کو بتایا لیکن اس نے کوئی خاص پریشانی کا اظہار نہ کیا اورخاموشی سے سگریٹ کے کش لگانے لگی۔
کھانے کے دوران میں اسے دیکھ کم رہا تھا اور اس کے بارے میں سوچ زیادہ رہا تھا۔ نومبر کے آخری دن تھے۔ سردی کی شدت بڑھ رہی تھی میں کمبل تان کر لیٹ گیا۔
” کیا سردی لگ رہی ہے؟ “ دوسرے بیڈ سے عاشی نے شوخی سے کہا۔
” ہاں آج سردی کچھ زیادہ ہے۔ “ میں نے جواب دیا۔
” تو میں آ جاتی ہوں تمہارے پاس“ اس نے اسی شوخی سے کہا پھر میرے جواب کا انتظار کیے بغیر اٹھی اور میرے پاس آ کر لیٹ گئی۔
میرے سارے بدن میں ایک سنسنی سی دوڑ گئی۔ مجھے اس سے نفرت محسوس ہو رہی تھی۔ نومی اس کے بارے میں کیا سوچتا ہو گا اور یہ کیا کر رہی ہے۔
” نہیں تم اپنے بیڈ پر جاؤ۔ میں نے سمٹتے ہوئے کہا۔
” کیوں؟ بات کیا ہے آخر، تم مجھ سے دور کیوں بھاگتے ہو۔ کیا تمہیں مجھ میں کوئی کشش نطر نہیں آتی؟ “
” میرے پاس تمہارے سوالوں کے جوابات نہیں ہیں، بس تم جاؤ۔ میں نے مضبوط لہجے میں کہا۔
” یا پھر مسئلہ کوئی اور ہے؟ “ اس بار اس نے طنزیہ لہجے میں کہا۔
ایک بار تو جی چاہا کہ اس جملے کا جواب اس طور سے دوں کہ اس کی غلط فہمیاں دور ہو جائیں پھرنومی کا چہرہ آنکھوں کے سامنے آ گیا سوچا کہ مجھے اپنی وضع دای نہیں چھوڑنی چاہیے لہٰذا اس سے درخواست کہ وہ دوسرے بیڈ پر چلی جائے وہ آرام سے چلی گئی میں نے خواب آور گولی نگلی اور سو گیا۔
صبح اٹھا مگر اس بار پراٹھوں کی خوشبو نہیں تھی۔ ایک نرم گرم وجود مجھ سے لپٹا ہوا تھا۔ اس کے بال میرے شانے پر تھے۔ اسے ہٹانے کو دل نہ چاہا میں اس کے حسین چہرے کو دیکھنے لگا۔ ایسی شفاف رنگت جیسے دودھ اور شہد ملایا گیا ہو۔ ترشے ہوئے سرخ لب جن کی سرخی نیچرل تھی۔ اس کے چہرے پر فرشتوں کی سی معصومیت تھی۔
جی چاہ رہا تھا کہ اس کی پیشانی پر بوسہ دوں مگر اسی اثنا میں اس کی آنکھ کھل گئی وہ دلکش انداز میں مسکرائی۔
” رات مجھے نیند نہیں آ رہی تھی۔ اس لئے تمہارے پاس آ گئی تھی۔ “ اس نے وضاحت کی۔ اچھا تمہیں دیر ہو رہی ہے میں ابھی ناشتہ بناتی ہوں۔ ”اس نے ایسے لہجے میں کہا جیسے کوئی بیوی اپنے خاوند سے بات کر رہی ہو۔ پراٹھوں کا ناشتہ کر چکا۔ تو اس نے اپنا چھوٹا سا بیگ تیار کر لیا تھا۔
” تم جا رہی ہو؟ “
”ہاں! تین دن کے لئے آئی تھی۔ اب جانا ہو گا۔ “
نہ جانے کیوں مجھے ایسا لگا جیسے اس کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی آ گئی۔
” یہ کیا بات ہوئی، مہمان تین دن کا ہوتا ہے مگر میزبان کی مرضی بھی تو کوئی چیز ہے، ابھی نہ جاؤ اور پھر ابھی تو نومی بھی نہیں آیا۔ “ میں نے جواز پیش کیا۔
وہ میری بات سن کر ہنسنے لگی۔ پھر میری طرف بڑے غور سے دیکھتے ہوئے بولی۔ ”تم بہت اچھے ہو۔ مجھے بہت یاد آیا کرو گے۔
” گویا تم نہیں رکو گی؟ میں نے کہا۔
وہ چند لمحے مجھے دیکھتی رہی پھر کاروباری انداز میں بولی۔
”نہیں اگر تم واقعی چاہتے ہو کہ میں رک جاؤں، تو میں رک جاتی ہوں۔ میں نے نومی سے بھی بہت کم پیسے لئے تھے تین راتوں کے صرف دس ہزار لیکن تمہارے لئے سپیشل ڈسکاؤنٹ ہے۔ دو ہزار پر نائٹ۔ “
اس نے بڑے دلکش انداز میں مسکراتے ہوئے کہا۔ اور میں سکتے میں آ گیا۔ آنکھیں اس پر جمی تھیں، ہونٹ خاموش تھے۔
” کیا ہوا؟ چپ کیوں ہو گئے، کیا میں نے زیادہ پیسے مانگ لئے، تمہاری مرضی ورنہ میرے جیسی کال گرل کبھی اتنے پیسوں میں نہیں ملتی۔ “ اس نے ناک سکیڑتے ہوئے کہا اور دروازے کی طرف قدم بڑھا دیے۔ میں پتھر کے بت کی ظرح ساکت اسے جاتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔

