جب ایک لڑکی ہماری مہمان بنی
میں نے فلیٹ کے دروازے کا تالا کھولنے کے لیے چابی جیب سے نکالی لیکن دروازے پر نگاہ پڑتے ہی چونک اٹھا۔ دروازے پر تالا نہیں تھا، کہیں گھر میں کوئی چور تو نہیں گھس گیا یہ پہلا خیال تھا جو ذہن میں آیا۔ دروازے کو دبا کر دیکھا دروازہ اندر سے بند تھا لیکن پھر اپنے خدشات پر مجھے خود ہی ہنسی آگئی۔ شاید نومی واپس گیا ہو یہ سوچتے ہوئے میں نے ڈور بیل بجائی۔ دروازہ کھلا تو نومی کا ہنستا چہرہ دکھائی دیا۔
نومی نے صبح مجھ سے کہا تھا کہ وہ اپنے شہر چنیوٹ جا رہا ہے لیکن اس کے فیصلے تو پل پل بدلتے ہیں۔ اسے دیکھ کر مجھے کوئی خاص حیرت نہ ہوئی۔ اصل حیرت اس وقت ہوئی جب میں کمرے میں داخل ہوا۔ اندر ایک نوجوان لڑکی کرسی پر بیٹھی تھی۔
”یہ عاشی ہے“ نومی نے تعارف کرایا۔ ”اوہ تو یہی ہے اس کی کزن۔ “ میں نے سوچا۔ چند دن پہلے نومی نے ذکر کیا تھا کہ اس کی ایک ماسٹر ڈگری ہولڈر کزن اسلام آباد آ کر نوکری کرنا چاہتی ہے۔ کیوں کہ چنیوٹ چھوٹا شہر ہے وہاں کی نسبت کیپیٹل میں ترقی کے مواقع زیادہ ہیں۔
”اچھا تو میرے بارے میں بتا دیا تھا؟ “
میں نے اس خیریت معلوم کرنے کے بعد نومی سے پوچھا۔
” بالکل بتا دیا ہے، فکر نہ کرو۔ اور ہاں یہ تین دن ہمارے ساتھ ہی رہے گی۔ “ وہ بولا۔
” لیکن؟ “
میں نے دبی آواز میں احتجاج کیا۔ مگر نومی شاید میری بات سننے کے موڈ میں نہیں تھا۔
” میں کھانے کا بندوبست کرتا ہوں“ وہ یہ کہہ کر جلدی سے باہر نکل گیا۔ ہمارا فلیٹ ڈبل روڈ پر تھا اور وہاں کئی سستے اور معیاری ریسٹورانٹ تھے۔ وہ کسی ریسٹورانٹ سے کھانا لینے نکلا تھا یا شاید میرے اعتراض سے بچنے کے لئے۔ میں نے عاشی کی طرف دیکھا وہ اپنے جوتوں پر نگاہیں جمائے بیٹھی تھی۔ مجبوریاں انسان کو کتنا کہاں تک لے جاتی ہیں۔
میں سوچنے لگا کہ اس لڑکی نے بھی کچھ خواب دیکھے ہوں گے اور اب ان خوابوں کو پورا کرنے نکلی ہے۔ جیسے میں چند مہینے پہلے اچھی جاب کی تلاش میں گھر سے نکلا تھا۔ جنوبی پنجاب سے اسلام آباد کا سفر کیا۔ میری خوش قسمتی تھی کہ مجھے ایک کالج میں جاب مل گئی۔ تنخواہ معقول تھی مگر اسلام آباد میں رہنا آسان نہیں تھا۔ چناں چہ ایک کمرے کا فلیٹ بڑی مشکل سے ڈھونڈا۔ اس فلیٹ کے اکلوتے کمرے کے ساتھ واش روم اور چھوٹے سے کچن کی سہولت موجود تھی مگر یہ کچن اتنا چھوٹا تھا کہ اس میں بمشکل ایک آدمی کے کھڑے ہونے کہ جگہ تھی۔
پھر ایک دن مجھے نومی ملا وہ بھی قست آزمانے اس شہر میں آیا تھا۔ ایک آفس میں کلیریکل جاب تو حاصل کر چکا تھا لیکن رہائش سے محروم تھا۔ میری رگِ حمیت پھڑکی اور میں نے فلیٹ مالک سے بات کر کے اسے بھی اپنے ساتھ ٹھہرا لیا۔ لیکن اس نے پہلے دن ہی متنبہ کر دیا تھا کہ کوئی مہمان نہ آنے پائے۔ چناں میں نے کسی عزیز کو نہیں بتایا تھا کہ میں کہاں رہتا ہوں۔
نومی کھانا لے کر آ گیا۔ اس نے سنٹر ٹیبل پر کھانے کے شاپر رکھے اور کچن سے برتن لے آیا۔ ”اب آپ آرام سے بیٹھ جائیں میں کھانا لگا دیتی ہوں۔ “ عاشی نے اپنی خدمات پیش کیں اور نومی فوراً صوفے پر بیٹھ گیا۔ عاشی نے پلیٹوں میں گرم گرم کھانا ڈالا۔ پھر وہ اور نومی کرسیوں پر بیٹھ گئے میں بیڈ کے کنارے پر ٹک گیا۔ کھانے کے دوران مکمل خاموشی چھائی رہی۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے عاشی کو ٹھہرانے کہ وجہ سے نومی کچھ شرمندہ ہے۔ اور میں آنے والے وقت کے بارے میں سوچ رہا تھا۔
کھانے کے بعد عاشی نے ہی گفتگو کا سلسلہ شروع کیا۔ ”کیا آپ دونوں میں سے کوئی چائے پینا پسند کرے گا۔ “
” کیوں نہیں! ہم دونوں چائے کے رسیا ہیں۔ “ میں نے جلدی سے کہا۔
”پھر ٹھیک ہے میں چائے بنا کر لاتی ہوں۔ “ عاشی پہلی دفعہ مسکرائی۔
” آؤ میں تمہیں بتا دوں کہ چائے کا سامان کہاں رکھا ہے۔ “ نومی بھی اس کے ساتھ کچن میں داخل ہو گیا۔ میں نے دانستہ ٹی وی آن کیا اور نیوز چینل دیکھنے لگا۔ رات نو بجے کی خبریں چل رہی تھیں۔ نہ جانے کیوں نیوز کی طرف دھیان دینا کچھ مشکل لگ رہا تھا۔ اس کے بجائے کچن سے آنے والی عاشی کی ہنسی کی آواز کانوں میں گونجتی تھی۔ تھوڑی دیر بعد ہم چائے پی رہے تھے۔
جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا۔ میری بے چینی میں اضافہ ہو رہا تھا۔ دو سنگل بیڈ، چار کرسیاں، ٹی وی اورایک ٹیبل کے سوا کمرے میں کچھ اور نہ تھا۔ لیکن نومی نے کسی ہچکچاہٹ کے بغیر گویا فیصلہ سنا دیا۔ ”میرا خیال ہے اب تم اپنے بیڈ پر جاؤ، عاشی کی فکر نہ کرو یہ میرے ساتھ ہی سو جائے گی۔ “ میں اس کی بات سن کر بے چوں چراں اپنے بیڈ کی طرف بڑھ گیا جیسے وہ ایک وارڈن ہو اور میں کوئی بورڈنگ سٹوڈنٹ۔
نومی نے لائٹس آف کر دی تھیں لیکن ایک چھوٹے سے ایل ای ڈی بلب کی انتہائی مدھم روشنی کمرے میں موجود تھی۔ آج مجھے یہ لائٹ بھی زیادہ لگ رہی تھی۔
کمرے کی فضا میں ایک اضمحلال طاری تھا۔ سناٹا بہت عجیب لگ رہا تھا۔ اس سے پہلے میں اور نومی سونے سے پہلے ملک کے سیاسی حالات پر تبصرہ ضرور کرتے تھے۔ وہ اپنے سیاسی رہنما کے اقدامات کو سراہتا تھا اور میں اس پر تنقید کیا کرتا تھا۔ لیکن آج وہ بھی بالکل خاموش تھا۔
میں نے دیوار کی طرف کروٹ لی اور سونے کی کوشش کرنے لگا۔ پھر نہ جانے کب مجھے نیند آ گئی۔ شاید آدھی رات کا وقت تھا جب میری آنکھ کھلی۔ نیند کھلنے کی وجہ کچھ آوازیں تھیں۔ لیکن اب مجھے افسوس ہو رہا تھا کہ میری آنکھ کیوں کھل گئی۔ اب میں کروٹ بھی نہیں لے سکتا تھا۔ اگر ان دونوں کو پتہ چل جاتا کہ میں جاگ گیا ہوں تو یہ بھی بہت معیوب بات تھی۔ مجھے ان پر غصہ بھی آ رہا تھا۔ اگر یہی بات تھی تو نومی کو مجھے اعتماد میں لینا چاہیے تھا۔ لیکن ایسی صورت میں شاید نومی کو بھی کہیں اور جانا پڑتا۔ اسی لئے اس نے کچھ نہیں بتایا تھا۔ پتہ نہیں ان کی پریم کہانی کب سے چل رہی تھی۔
بہر حال وہ تو اپنے جذبات کی تسکین کے بعد سو گئے مگر میں دیر تک جاگتا رہا۔ آخر نیند آ ہی گئی۔ صبح دیر سے آنکھ کھلی۔ اس بار آنکھ کھلنے کی وجہ پراٹھوں کی خوشبو تھی۔ یہ خوشبو ہمارے کچن سے اٹھ رہی تھی۔ ایک مہینے سے ہم نے پراٹھے نہیں کھائے تھے۔ منہ میں پانی بھر آیا۔
ناشتے میں بریڈ ہی کھاتے تھے تاکہ زیادہ تردد نہ کرنا پڑے اگرچہ مزا نہیں آتا تھا۔ شام کا کھانا بھی اکثر باہر سے آتا تھا۔ نومی کبھی کبھی کچھ پکا لیتا تھا اور مجھے بھی کھلا دیتا تھا۔ نومی تیار ہو رہا تھا میں جلدی سے واش روم میں گھس گیا۔ جب تیار ہو کر باہر نکلا توناشتہ میز پر لگ چکا تھا۔ پراٹھے اور آملیٹ کا مزا کچھ زیادہ ہی آ رہا تھا۔ شاید اس لئے کہ کسی عورت کے ہاتھ کا بنا تھا۔
میں دزدیدہ نگاہوں سے عاشی کو دیکھتا تھا۔ وہ اچھی خاصی خوبصورت لڑکی تھی۔ متناسب بدن اور تیکھے نقوش والی۔ اس کے سرخ ہونٹ نہایت پر کشش تھے۔ ناشتے کے بعد میں فوراً گھر سے نکل گیا کیونکہ پہلے ہی لیٹ ہو چکا تھا۔
دن بھر کالج میں مصروف رہا۔ شام کوواپسی پر فلیٹ کا دروازہ عاشی نے کھولا۔ میں اپنے ہی کمرے میں جھجھکتے ہوئے داخل ہوا۔ عاشی اکیلی تھی نومی ابھی تک نہیں آیا تھا کیونکہ اسے دیر سے چھٹی ملتی تھی عموماً میں ہی پہلے آتا تھا۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں


