صحافیوں کی تقریب میں وفاقی وزیر اطلاعات کو شرمندگی کیوں اٹھانا پڑی؟
وزیر اطلاعات فواد چودھری پر سینٹ اور قومی اسمبلی میں کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ اپوزیشن اسمبلی کے اندر ہو یا باہر، وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کے بیانات اور انکے کسی بھی قسم کے طرز عمل کا باریک بینی سے نوٹس لیتے ہوئے انہیں آڑے ہاتھوں لے رہی ہے۔
اس صورت حال میں پاکستا ن جرنلسٹ فاونڈیشن کے زیر اہتمام تقریب میں فواد چوہدری کا طرزعمل ان کے لئے مزید شرندگی کا باعث بن گیا۔ لاہور کے فلیٹز ہوٹل میں پاکستا ن جرنلسٹ فاونڈیشن کے سیمینار ’’عدم برداشت کا رجحان اور ریاست کی ذمہ داریاں‘‘ کے دوران ممتاز کالم نگار اور پیپلز پارٹی کے رہ نما قیوم نظامی خطاب کرنے سٹیج پر آئے تو انہوں نے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کو بار بار مخاطب کرتے ہوئے اپنی تقریر جاری رکھی۔ تاہم جب انہوں نے دیکھا کہ فواد چودھری اسٹیج پر سر جھکا کر اپنے موبائل پر برابر میسجز میں مصروف ہیں تو انہوں نے زور دار آواز میں کہا ’’ فواد چودھری صاحب، آپ موبائل سے کھیلنا بند کریں اور میں جو کہہ رہا ہوں اس کو بھی سنیں ‘‘
قیوم نظامی کی بات سننے کے باوجود فواد چودھری موبائل پر مصروف رہے تو ان کے ساتھ بیٹھے سیئنر اینکر پرسن و کالم نگار ذوالفقار راحت نے ان کا کاندھا ہلا کرانہیں متوجہ کیا۔ اس پر فواد چودھری کھسیانے ہو کر قیوم نظامی کی جانب دیکھنے لگے۔ ان کی بدحواسی دیکھ کر پوری تقریب تالیوں اور قہقہوں سے گونج اٹھی۔ یہ دیکھ کر فواد چودھری بھی مسکرانے لگے اور موبائل میز پر رکھ کر مقرر کو دیکھنے لگے جس پر قیوم نظامی نے کہا کہ ہمارے فواد چودھری سے برادرانہ تعلقات ہیں اس لئے ہم انہیں پیار سے جھڑکنے کا حق بھی رکھتے ہیں۔

