کچھ ہو تو بات کی جائے نا
آنیاں جانیاں ہو رہی ہیں، ہو کچھ بھی نہیں رہا۔ ملک عزیز کی حکومتیں اگر ذوالفقار علی بھٹو سا رہنما نہ ہو تو ایسے ہی ماٹھی رہی ہیں۔ کچھ پہلی حکومت کے کیے گئے کاموں پہ پانی پھر دیتی ہیں، کچھ وعدے کر لیتی ہیں جن میں سے کچھ پر آدھ پچادھ کام کر لیتی ہیں۔ ہاں البتہ نئے الیکشن ہونے ہوں تو کچھ شروع کیے گئے کاموں کو مکمل بھی کر لیا کرتی ہیں۔ مگر اس بار تو جو بڑا گلہ اور اچنبھا ہے وہ حزب اختلاف کا دائیں بائیں دیکھتے ہوئے، بچ بچا کے چلنے والا ”انداز“ ہے۔
ایک فواد چودھری نے سب کو سینگوں پر اٹھا اٹھا کے دیواروں پر پٹخنے کا کام لیا ہوا ہے۔ ہائے ہائے ہوتا نہ کہیں خادم رضوی اسمبلی یا سینیٹ میں تو ”اوئے دال“ سے شروع ہونے والی دشنام ایسے دہاڑتا کہ فواد سوشل میڈیا پر گردش کرتی وڈیو کی مانند ہوائیاں اڑی شکل کے ساتھ کہیں بھاگ بھی نہ سکتا بس اس کا کچھ خطا ہو جانا تھا۔
کہیں سے ایسی ہلا شیری اور سلامت رکھنے کی یقین دہانی ہے کہ تقریباً غیر سیاسی سیاستدان کے ہاتھوں باقی ”ناپسندیدہ“ سیاستدانوں کے کشتوں کے پشتے لگانے کا ایسا ڈھنڈورہ پیٹا گیا ہے کہ میرا پسندیدہ سیاست دان آصف زرداری بھی ”نیب کے چیئرمین کو نہیں بلکہ حکومت کو دھمکا رہا ہوں“ کے اعلان کے بعد حکومت کو پیشکش کرتا ہے کہ ہمیں ساتھ ملاؤ اور آرام سے پانچ سال حکومت کرو۔ یعنی ایسی ہو گئی ہے اب حزب اختلاف۔
کوئی نہیں کہتا کہ حزب اختلاف بھی حکومتی نمائندوں والا وتیرہ اختیار کرے اور ویسی ہی زبان بولے جیسی وہ بولتے ہیں لیکن اسمبلی کس لیے ہوتی ہے؟ نقطہ اعتراض اٹھانے کی خاطر نا مگر ہے کوئی جس نے اب تک کوئی پوائنٹ آف آرڈر اٹھایا ہو۔ ٹریژری بنچ کی جانب سے ابھی تک کسی نئے قانون کا مسودہ پیش کرنا تو ایک طرف رہا پہلے سے موجود کسی قانون میں کوئی تعمیری ترمیم کی تجویز تک پیش نہیں کی گئی۔
چلو وزیراعظم نے کہا تھا کہ ہم نئے نئے اقتدار میں آئے ہیں ہمیں ایک سو دن کام کرنے کو دے دو مگر ان کی اس گذارش میں یہ تو کہیں شامل نہیں تھا کہ آپ یہ تک نہ پوچھ سکیں کہ کیا فوج کے جرنیلوں کو آرمی چیف کے خلاف بغاوت کرنے پر بھڑکانا غداری نہیں ہے؟ کوئی شخص مذہبی زعیم ہونے کا فائدہ اٹھا کر سپریم کورٹ کے ججوں کے دربانوں اور محافظوں کو انہیں قتل کرنے کا مشورہ دے اور اسے کچھ نہ کہا جائے، یہ کس قانون کے تحت کیا گیا؟ مگر حزب اختلاف تو منہ میں گھنگھنیاں ڈال کے بیٹھی ہوئی ہے۔
سنا ہے نواز شریف نے کہہ دیا ہے کہ حکومت اپنی ہی غلطیوں سے گھٹنوں کے بل آ جائے گی، ایسا ہی کچھ ملتا جلتا عندیہ قومی اسمبلی میں تیسری بڑی پارٹی کے رہنما آصف زرداری نے دیا ہے۔ مقصد کسی بھی حکومت کو گرا کر جمہوری عمل کو ناکام بنانے کا نہیں ہونا چاہیے، سیاسی رہنما یہ بات جانتے اور مانتے ہیں مگر مقتدر پارٹی کے، اپنے وعدوں کے مطابق معاملات کی درستگی کے عمل کو شروع کرنے سے گریز پر اس کے لتے تو لے سکتی ہے۔ یہ زور شور سے لتے لینا ہی وہ عمل ہوتا ہے جو عام آدمی کو ملک میں ہو رہی سیاست کے نسبتاً سچ کو جاننے میں مدد کرتا ہے ساتھ ہی ایسا کرنے والی پارٹی کے ووٹ بینک کو بڑھاتا ہے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حکومت کو چھ ماہ تک نہیں چھیڑنا چاہیے۔ یہ اصول سیاست کی کس کتاب میں لکھا ہوا ہے، کوئی بتا سکتا ہے؟ حزب اقتدار پر مہربانی کرنا ہی اصل میں ”فرینڈلی اپوزیشن“ کا کردار ادا کرنا کہلاتا ہے۔ روس میں حزب اختلاف کی تینوں چاروں بڑی پارٹیاں بشمول ماضی کی واحد مقتدر کمیونسٹ پارٹی آف رشیا کے اسمبلی میں فرینڈلی اپوزیشن کا کردار نبھاتی چلی آ رہی ہیں مگر یہاں اسے ماضی کے ون پارٹی سسٹم کی باقیات سمجھ کے نظر انداز کیا جا سکتا ہے البتہ پاکستان جہاں ایک عرصے سے جب بھی حکومت سیاستدانوں کے ہاتھ میں ہو سیاست ملٹی پارٹی سسٹم کے تحت رہی ہے وہاں حزب مخالف کا اس انداز کا رویہ خود حزب مخالف کو مشکوک کرتا ہے کہ یا تو وہ بے حد ڈری ہوئی ہے اور ڈرتا وہی ہے جو اندر سے قصور وار ہو یا اس نے صبر کر لیا ہے کہ جس طرح ہو رہا ہے، اسے ہونے دو۔ اس کی مخالفت کرنے کی اس میں سکت نہیں ہے۔
اس کے برعکس اسمبلی سے باہر فعال دائیں بازو کی انتہا پسند پارٹیاں اپنا مخالفانہ موقف شدو مد سے پیش کرتی ہیں بلکہ اس کے اظہار کے لیے تشدد اور توڑ پھوڑ کا راستہ بھی اختیار کرنے سے نہیں چوکتیں کیونکہ انہیں اپنے کارکنوں کے اخلاص اور لگن پر یقین ہے۔ یہ کوئی خوش آئند منظر نامہ نہیں ہے۔ اس طرح اسمبلیوں میں موجود حزب اختلاف کی سیاسی پارٹیوں کے کارکن بددل ہو کر حوصلہ ہارتے چلے جائیں گے۔ ایسے میں ہم اتنی موقر پارٹیوں کو بھلا کیا مشورہ دیں جبکہ وہ خود سیاست کے داؤ پیچ سے اچھی طرح شناسا ہوں۔


