قدرتی ڈیم منچھرجھیل کو کون بچائے گا؟
سندھ میں پانی کا شدید بحران پیدا ہوگیا ہے۔ صوبے میں لوگ پانی کی ایک بوند کو ترسنے لگے ہیں، تھر میں لوگوں کے پاس پینے کا پانی نہیں،جانور تو مرنے لگے ہیں مگر انسان بھی پیاسے مر رہے ہیں۔ حکمران صرف بیان دینے میں لگے ہیں۔ ا بھی تک کسی نے بھی پانی کی شدید قلت کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے کوئی کوشش نہیں کی۔ جیسے جیسے دن گذر رہے ہیں، پانی کا بحران بھی زیادہ ہوتا جا رہا ہے۔ پانی بحران پر خطرے کی گھنٹیاں بھی تیز ہوتی جا رہی ہیں۔ شہروں میں پینے کے پانی کی قلت ہے اور دیہات میں زراعت کے لئے پانی نہیں ہے۔
دریائے سندھ کے مغرب ضلع دادو میں واقع قدیم ترین منچھر جھیل اس ملک میں میٹھے پانی کی سب سے بڑی جھیل ہے۔ اس جھیل میں دریائے سندھ سے بھی پانی ڈالا جاتا ہے۔ یہاں میٹھے پانی کی مچھلی بھی کافی تعداد میں پائی جاتی ہے۔ اس جھیل پر بے شمار پرندوں کا آنا جانا رہتا ہے اور سردیوں میں یہاں سائیبریا سے بھی مہاجر پرندے سردیاں گزارنے آتے ہیں اور یہاں کے لوگ ان پرندوں کا شکار بھی کرتے ہیں ۔ مگر پانی زہریلا ہونے کی وجہ سے اب مہاجر پرندے بہت کم آتے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ کے پرندے آتے ہی نہیں تو وہ بات غلط نہیں ہوگی۔ جب یہ مہاجر پرندے منچھر جھیل پر آتے تھے تو اس وقت یہاں کے ماہی گیر بہت خوشحال تھے اور پانی میٹھا ہونے کی وجہ سے مچھلی بھی بہت ہوتی تھی۔
سپریم کورٹ نے سنہ 2010 میں منچھر جھیل کی بحالی کا حکم دیا تھا لیکن جھیل کی آلودگی میں کمی کے لیے کوئی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔ ایک طرف سندھ میں کوئی بڑا ڈیم نہیں تو دوسری طرف سندھ میں موجود قدرتی ڈیموں کو زہریلا پانی شامل کر کے ایک سازش کے تحت برباد کیا جا رہا ہے۔ کچھ دن پہلے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس میاں ثاقب نثار نے سندھ کی منچھر جھیل کی آلودگی کا نوٹس لیا تھا اور اس دن سندھ کے ماہی گیروں میں ایک امید جاگی تھی مگر وہ امید صرف امید ہی رہ گئی ہے۔
گذشتہ کئی سالوں سے پاکستان میں میٹھے پانی کی سب سے بڑی جھیل منچھر کا پانی زہریلا ہوگیا ہے مگر ایک بھی وزیر نے اس جھیل کے پانی کو صاف کرنے کے لئے نوٹس نہیں لیا۔ منچھر جھیل کا پانی زہریلا ہونے کی وجہ سے ماہی گیر بیروزگار تو ہوگئے ہیں مگر اب پینے کے پانی سے بھی محروم ہوگئے ہیں۔ سیم نالے کا کھارا پانی جھیل میں ڈالنے کی وجہ سے یہ جھیل آلودگی کا شکار ہوگئی ہے اور یہاں کی جنگلی اور آبی حیات شدید متاثر ہوگئی ہے۔ سیم کا پانی جھیل میں شامل ہونے سے اب یہ پانی پینے کے قابل نہی رہا۔ اگر اس جھیل کو وفاقی حکومت بچانا چاہتی ہے تو اس جھیل میں زہریلا پانی ڈالنا بند کروائے اور ماہی گیروں کے ساتھ سندھ کے اس قدرتی قدیم ڈیم کو بچائے۔اس سے اس صوبے کے لوگ بھی خوشحال ہونگے اور پانی کی قلت کے وقت اس پانی کو استعمال بھی کیا جاسکتا ہے۔



