پاکستان اور چین کے تعلقات کا مستقبل کیا؟


پاکستان کے چین کے ساتھ تعلقات انتہائی قربت کی گرہ سے بندھے ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک نہ صرف معاشی بلکہ دفاعی اور توانائی کے شعبوں میں ایک دوسرے کے دست و بازو ہیں۔ گذشتہ 28 برسوں کے دوران چین اور پاکستان کے درمیان تعلقات اور تعاون میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان اور چین کے درمیان تعلقات کا باقاعدہ آغاز 1950 ء میں ہوا تھا جب چین تائیوان تنازعہ کے بعد پاکستان نے عالمی برادری کے دیگر ممالک کے ہمراہ چین کی آزادی کو تسلیم کیا تاہم دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کا آغاز 31 مئی 1951 ء کو ہوا۔

چین کی نظر میں پاکستان کا وقار اس وقت بلند ہوا جب پاکستان نے امریکہ اور چین کے تعلقات میں بہتری کے لئے کلیدی کردار ادا کیا۔ ہنری کسنجر نے چین کا دورہ کیا اور دونوں ممالک کے تعلقات بہتری کی جانب گامزن ہوگئے چین کا نہ صرف عالمی برادری میں مقام بلند ہوا بلکہ اقوام متحدہ کا مستقل رکن بن کر ویٹو کا حق بھی اسے مل گیا۔ پاکستان اور چین کے تعلقات میں نمایاں گرم جوشی 1962 ء میں پیدا ہوئی جب چین، بھارت سرحدی تنازعہ پیدا ہوا تو بھارت کو اپنا روایتی دشمن سمجھنے والی پاکستانی قیادت نے چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کے لئے چین کو خطے میں ایک متبادل طاقت کے طور پر ابھرنے میں مدد فراہم کی تاکہ بھارتی اثرورسوخ کا راستہ روکا جا سکے۔

65 ء کی پا ک بھارت جنگ میں چین نے پاکستان کی جب مدد کی تو دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور اقتصادی رابطے مزید مستحکم ہوئے۔ 1978 ء میں جب چین اور پاکستان کے درمیان پہلے زمینی راستے قراقرم ہائی وے کا سنگ بنیاد رکھا گیا تو دونوں ممالک کے مابین تجارت اور رابطوں میں مزید اضافہ ہوا۔ پاکستان اور چین کے درمیان فوجی تعاون کے اہم منصوبوں میں پیشرفت 2001 ء میں ہوئی اور 2007 ء میں انہی دفاعی سمجھوتوں کی بدولت چین پاکستان کو ہتھیار فراہم کرنیوالا سب سے بڑا ملک بن گیا پاکستان اور چین کے درمیان جوہری توانائی کے میدان میں تعاون کے سمجھوتے پر 1984 ء میں دستخط ہوئے جس کے بعد دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے چلے آرہے ہیں۔

پاکستان کے خلائی پروگرام میں چینی تعاون کا بڑا عمل دخل ہے 1990 ء میں پاکستان کا پہلا سیٹلائٹ سہولیات نہ ہونے کے باعث ایک چینی اسٹیشن سے ہی بھیجا گیا تھاجس کے بعد باہمی تعاون کا یہ سلسلہ ابتک جاری ہے۔ پاکستان کی جغرفیائی، دفاعی اور معاشی لحاظ سے اہم ترین بندر گاہ گوادر نہ صرف چین کے تعاون سے تعمیر کی گئی بلکہ اس کی تعمیر کے تمام مراحل میں بھی چین کی تکنیکی اور افرادی مدد بہم رہی 2002 ء میں 248 ملین ڈالر کے اس مشترکہ پراجیکٹ کے لئے چین نے پاکستان کو 198 ملین ڈالر فراہمکیے 2008 ء میں دونوں ممالک کے مابین فری ٹریڈ معاہدے پر دستخط ہوئے جس کے تحت چین پاکستان میں نئی صنعتیں لگا رہاہے اس معاہدے کے تحت پاکستان کو بھی چین میں یہ سہولت فراہم کی گئی ہے دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی ملک کے ساتھ کیا جانے والا اپنی نوعیت کا یہ پہلا معاہدہ ہے۔

چین پاکستان کے طول و عرض میں پھیلے انفراسٹرکچر کی تعمیر کے لئے بے شمار منصوبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے اس وقت کئی چینی کمپنیاں پاکستان میں آئل اینڈ گیس، آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام، پاور جنریشن، انجنیئرنگ، آٹو موبائلزاور انفراسٹرکچر اینڈ مائننگ کے شعبوں پر کام کر رہی ہیں۔ ان تما م شعبوں کے علاؤہ دونوں ممالک قدرتی آفات اور دیگر مشکل وقتوں میں ایک دوسرے کے ساتھ کندھا ملائے کھڑے رہتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے سعودی عرب کے کامیاب دورہ کے بعد حالیہ دنوں میں چین کا پانچ روزہ دورہ کیا جس میں دو طرفہ تعاون کے پندرہ معاہدوں اور مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط ہوئے۔

دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے مستقبل میں ترقی کے لئے سی پیک کی اہمیت اور اس کی افادیت پر اتفاق کیا۔ چینی قیادت نے پاکستان کو یقین دہانی کروائی کہ پاکستان کو اقتصادی بحران سے نکلنے کے لئے مالی امداد دیں گے۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے دورہ چین کے دوران چینی سرمایہ کاروں سے ملاقاتیں کیں اور پاکستان میں انہیں سرمایہ کاری کرنے کی دعوت دی۔ پاکستان کو درپیش مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے چینی قیادت نے کہا کہ سی پیک چین اور پاکستان کے لئے ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے لئے گیم چینجر ثابت ہوگا۔

پاکستان اور چین کی دوستی باہمی اشتراک اور مشترکہ مفادات کی ڈور سے بندھی ہوئی ہے۔ امریکہ اور بھارت کو پاک چین دوستی کی گہرائی ہضم نہیں ہو رہی۔ سی پیک منصوبہ بھارت کی علاقائی چوہدراہٹ کے لئے خطرہ بن چکا ہے جس کی وجہ سے بھارت کی جانب سے ہونیوالی پاکستان اور چین کے خلاف ہرزہ سرائی تعصب سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ بھارت کی شدید خواہش ہے کہ خطے میں امریکہ کا بغل بچہ بن کر ایک با اختیار نگران کے طور پر چوہدراہٹ کرے لیکن حالات کی کروٹ بتا رہی ہے کہ اس کا یہ ناپاک عزائم سے لتھڑا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔

چین کا بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ سی پیک کا اہم حصہ ہے بھارت اس لئے بھی خائف ہے کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ سے جنوبی ایشیا کے ممالک غیر محسوس انداز میں بھارت کے اثر سے نکل رہے ہیں جس سے بھارت کی علاقہ میں چوہدراہٹ کا خاتمہ ہوتا نظر آرہا ہے۔ بھارت ہی نہیں پاک چین تعلقات پر ٹرمپ انتظامیہ کو بھی پریشانی لاحق ہے۔ پاک چین تعلقات میں اہم موڑ تب آیا جب ٹرمپ نے اپنے افغان پالیسی خطاب میں پاکستا کو دھمکی دی کہ پاکستان کو اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے پر بہت کچھ کھونا پڑے گا پاکستان نے امریکہ کے اس الزام کی سختی کے ساتھ تردید کی جس پر چین نے بھی فوراً پاکستان کے حق میں بیان دیا۔

پاکستان اور چین کا ایک دوسرے کی جانب بڑھتے ہوئے رجحان نے پاکستان دشمنوں کی نیندیں اڑا دی ہیں پاکستان اور چین کی مشترکہ فضائی مشقین ظاہر کرتی ہے کہ دونوں ممالک نے باہمی تعاون میں اضافہ کردیا ہے۔ پاکستان کو اقوام عالم میں تنہا کرنے اور دہشت گردوں کو پالنے والی ریاست ثابت کرنے کی کوشش کرنے والا امریکہ بخوبی سمجھ چکا ہے کہ پاکستان اس کے لئے کوئی ترنوالہ نہیں جسے جب چاہا دھمکا کر اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرلیا۔

چین اور امریکہ کے تعلقات تناؤ کا شکار ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ چین جنوبی بحیرہ چین میں امریکہ کے اتحادیوں کے لئے خطرہ بنتا جا رہا ہے اور اب امریکہ روس کے ساتھ بہتر تعلقات کا خواہاں ہے لیکن مستقبل قریب میں ایسا ممکن ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔ پاک چین دوستی ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے بھارت کے پاس اگر امریکہ کی شکل میں طاقتور اتحادی ہے تو پاکستان کے پاس بھی چین کی شکل میں خطے میں اور سلامتی کونسل میں ایک مضبوط اتحادی موجود ہے جن کے مفادات مشترکہ ہیں۔

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات عشروں کی نچلی ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں جس کی وجہ سے پاک چین تعلقات مزید گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ دفاعی، توانائی اور اقتصادی تعاون کی مضبوظ ڈور سے بندھ چکے ہیں۔ دونوں ممالک کی خارجہ پالیسی کا ایک اہم اصول یہ ہے کہ ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کیا جائے۔ قائد اعظم کی مدبرانہ قیادت کے نتیجہ میں آزاد ہونے والا پاکستان اور ماوزے تنگ کی عظیم قیادت اور لانگ مارچ کے ثمرات کے نتیجہ میں آزادی حاصل کرنے والا چین محبت، اخوت اور باہمی تعاون کے ساتھ ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہو چکے ہیں۔ پاک چین دوستی سے جہاں پاکستان کو غربت، کرپشن، بیروزگاری کے خاتمہ میں مدد ملے گی اور معاشی طور پر مستحکم ہو گاوہیں علاقائی امن، دہشت گردی، کے خلاف مشترکہ کوششوں کو بھی فروغ ملے گا۔

Facebook Comments HS