سوشل میڈیا کا شہرِطلسم
ڈیجیٹل رائیٹس فاؤنڈیشن نے سائبر کرائم کے متعلق 2016 میں ملک کے 17 بڑی یونیورسٹیز میں آن لائن ہراسمینٹ کے متعلق ریسرچ کی جس کے نتائج ذیل ہیں۔
34 ٪ عورتون نے آن لائن ہراساں کیے جانے کا اعتراف کیا۔
55 ٪ عورتون نے جواب دیا وہ ایسی عورتوں کو جانتی ہیں جن کو ہراساں کیا گیا ہے۔
47 ٪ ایف آئی ای کو شکایات کی اور ایجنسی کے اقدام سے مطمئن ہے اور مدد بھی لی ہے۔
53 ٪ ایف آئی ای کے رپورٹنگ پروسیجر کو زیاہ بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ
72 ٪ پڑھی لکھی عورتوں کہ پتا ہی نہیں ہے کی ہراسمینٹ روکنے کا ایسا کوئی قانون موجود ہے۔
اس لئے آگاہی کی سخت ضرورت ہے۔ یہ مسئلہ صرف عام خواتین تک محدود نہیں۔ ہمارے یہاں ہوتا یہ ہے کہ اگر آپ کو کسی عورت سے اختلاف ہے، اس کی کوئی بات پسند نہیں، اس سے بدلہ لینا ہے تو اس کی عزت اور وقار کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ پروفیشنل لکھنے والی خواتین کو اس صورت حال کا سامنا روز کرنا پڑتا ہے۔ اگر وہ آن لائن اپنی بات کرے، اپنا موقف پیش کرے، کسی سے اختلاف کرے، تو اسے چپ کرانے کے لیے رکیک الفاظ کا استعمال، ذاتی حملے اور کردار کشی کے گندے ہتھیار استعمال کیے جاتے ہیں۔ ہمیں یہ ماننے کی ضرورت ہے کہ عورت کا احترام لازم ہے اور سوشل میڈیا کا استعمال اس کا بھی حق ہے۔
جہاں تک خواتین کا تعلق ہے تو انھیں خود بھی محتاط طرز عمل اپنانے اور ٹیکنالوجی کی زیادہ سے زیادہ سمجھ بوجھ حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم مختلف رشتوں میں بندھے ہوتے ہیں، نہایت قابل اعتماد رشتوں کے ساتھ دوست، منگیتر اور کولیگز کے رشتے بھی ہمارے لیے اہم ہوتے ہیں، لیکن ان رشتوں کو برتتے ہوئے حدود قائم اور اس بات کا پوری طرح خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ کس پر کس حد تک اعتماد کیا جائے۔
خواتین کو کچھ باتوں کا خاص طور پر خیال رکھنا چاہیے، اپنے اینڈرائڈ فون کی لوکیشن ہمیشہ آف رکھیں تاکہ کسی کو پتا نہ چلے کہ کس وقت آپ کس مقام پر ہیں، موبائل فون پر پاس ورڈ ڈالیں تاکہ اگر وہ کسی کے ہاتھ لگ جائے تو وہ اسے غلط طور پر استعمال نہ کرسکے اور اس میں سے معلومات حاصل نہ کر سکے، اسی طرح اپنے ای میل ایڈریس، سوشل میڈیا سائٹ وغیرہ کا پاس ورڈ کسی کو نہ دیں، اپنا پاس ورڈ محفوظ رکھنا آپ کا بنیادی حق ہے، کسی کو حق نہیں کہ وہ آپ سے آپ کا پاس ورڈ مانگے۔
ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہم ڈیجیٹل عہد میں داخل ہوچکے ہیں، ہمیں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال اور اس کے تقاضوں کو سمجھنا ہوگا۔ اس سے دور رہ کر یا کسی کو دور رکھ کر ہم مسئلے حل نہیں کر سکتے الجھنیں بڑھا ضرور سکتے ہیں۔
ان ویب سائٹس کو وجود میں آئے ہوئے تقریباً دس بارہ سال کا عرصہ گزرا ہے۔ اتنے کم وقت کے دوران پاکستان میں سوشل ویب سائٹس کا بخار پھیلنے کی وجہ انتخابات تھے۔ انتخابات کے دوران جہاں گلیاں، سڑکیں اور میدان انتخابی سرگرمیوں کا مرکز بنے، وہیں سیاسی جماعتوں اور ان کے حامیوں نے اپنی اپنی جماعت کے حق میں رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا خوب خوب استعمال کیا۔ ایسے میں سوشل ویب سائٹس پر اپنے حق میں دلائل سے زیادہ مخالفین کے خلاف پرپیگنڈے اور الزامات کا وہ طوفانِ بدتمیزی مچا کہ دیکھنے اور پڑھنے والی زبان توبہ توبہ کرنے لگی اور ہاتھ کانوں کو چھونے لگے۔ پگڑیاں اچھالنے اور گریبانوں پر ہاتھ ڈالنے کا وہ سلسلہ تھا کہ کوئی گناہ گار بچا نہ کسی زاہد کی عزت محفوظ رہی۔ کسی کی داڑھی اور دستار کو نشانہ بنایا گیا تو کسی کی لبرل سوچ پر تیر برسائے گئے۔ کمپیوٹر ایڈیٹنگ کے ذریعے مخالف سیاست دانوں کی ایسی ایسی بیہودہ اور مضحکہ خیز تصاویر بناکر پوسٹ کی گئیں کہ خدا کی پناہ۔ جاننے والے سچ اور جھوٹ کا فرق جانتے ہیں، لیکن بعض تصاویر بناتے ہوئے ایسی صفائی دکھائی گئی کہ بالغ اور باشعور ذہن بھی دھوکا کھا گئے۔ الیکشن ہو گئے، نتائج آ گئے، جیتنے والے خوشیاں اور ہارنے والے غم منا کر اپنی اپنی زندگی میں مصروف ہو گئے، قصہ ختم ہوا مگر سوشل ویب سائٹس پر اٹھنے والے اس طوفانِ بدتمیزی کی تلخ یادیں اب بھی محفوظ ہیں، حساس دلوں میں بھی اور ان سائٹس کے پیجز پر بھی۔
انٹرنیٹ ایک ایسی ٹیکنالوجی ہے جو ہمیں ترقی کی راہوں پر دنیا کے ساتھ چلنے کا ہُنر سکھاتی اور ہمارے دلوں میں اس سفر کی امُنگ جگاتی ہے، لیکن ہم نے اس ٹیکنالوجی کو اخلاقی پستی کے مظاہروں کا سامان بنادیا ہے۔ طنز، طعنے، الزام تراشی، ہتک آمیز رویہ، یہاں تک کہ گالیاں بھی سوشل ویب سائٹس پر ہمارے اخلاقی بحران کی تصویر پیش کرتی ہیں۔ اختلاف رائے کا حق ہر ایک کو حاصل ہے، کسی نظریے، رائے اور شخصیت پر تنقید کرنا بھی کسی طور غلط نہیں، تاہم یہ سب تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے ہونا چاہیے، لیکن میں نے بہ ظاہر بڑے معقول اور اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کو بھی اختلاف کا اظہار کرتے ہوئے آپے سے باہر ہوتے دیکھا ہے، جو کسی سیاسی یا نظری بحث کے دوران مقابل پر ذاتی حملے کرنے لگتے اور اس کی کردار کشی پر اُتر آتے ہیں۔ یہ سب سوشل ویب سائٹس پر روز ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔
یہ ایک ایسا میڈیا ہے جس کے ذریعے مختلف الخیال لوگوں کو ایک دوسرے سے براہ راست مکالمے کا موقع ملتا ہے اور ہم دوسروں کی رائے، سوچ اور نظریات جان پاتے ہیں۔ ایسا ہو بھی رہا ہے، لیکن اس کے ساتھ نفرت سے بھری، اشتعال انگیز پوسٹس، شیئرنگ اور دوسروں کی تحقیر اور تذلیل پر مبنی کمنٹس نفرتوں میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ یوں رابطوں کا یہ ذریعہ ہمارے کسی بھی قسم کا نظری، فکری، مذہبی اور سیاسی اختلاف رکھنے والوں کو ایک دوسرے سے دور کر رہا ہے۔ درحقیقت یہ سائٹس دوسروں کی بات سمجھنے اور اپنی بات سمجھانے کا ایک نہایت موثر ذریعہ ہیں۔ ان کے ذریعے وہ خبریں اور اطلاعات بھی عام آدمی تک پہنچتی ہیں جو بوجوہ مین اسٹریم میڈیا پر نہیں آ پاتیں۔ ان کی بدولت ان سے وابستہ ہر شخص اپنی رائے، خیالات اور صلاحیتوں کا اظہار کرسکتا ہے۔ ایسے موثر اور مفید ذریعے کو نفرت و اشتعال پھیلانے اور اخلاق سوز زبان اور تصاویر کے ذریعے دل کی بھڑاس نکالنے کا وسیلہ بنانا بھیانک جرم ہے۔ یوں تو یہ ان سائٹس کے منتظمین کا بھی فرض ہے کہ وہ اشتعال اور نفرت پر مبنی مواد اپنی سائٹس پر نہ رہنے دیں، اور بعض معاملات میں ایسا ہوا بھی ہے، لیکن اس میڈیا سے وابستہ ہر شخص کی بھی ذمے داری ہے کہ وہ خود ایسا مواد پوسٹ اور شیئر کرے، نہ اس قسم کے دل آزاری پر مبنی کمنٹس کرے۔ اس طرح کا مواد ویب سائٹس سے ہٹوانے کے لیے ان کا اپنا اپنا طریقہ کار بھی موجود ہے، جس پر عمل کرکے یہ فریضہ ادا کیا جاسکتا ہے۔

