جنسی زیادتی کا نشانہ لڑکا بنے یا لڑکی، دونوں کی شخصیت ٹوٹ پھوٹ جاتی ہے، لیکن حیرت اور افسوس کا مقام ہے کہ لڑکوں پر ہونے والے اس ظلم کو قانوناً ریپ سمجھا ہی نہیں جاتا۔ تفصیل میں جانے سے پہلے میں اس معاملے کے کچھ پہلوؤں پر بات کرنا چاہوں گی۔ لڑکوں کا ریپ کرنے والے یا تو ’گے‘ ہوتے ہیں جنھیں صرف مردوں میں دل چسپی ہوتی ہے یا پھر ہو وہ مرد ہوتے ہیں جو کہ مرد اور عورت دونوں سے ہی اپنی جنسی خواہش کی تکمیل میں تسکین محسوس کرتے ہیں۔
یہ نہایت تشویش کی بات ہے کہ ہم اب بھی مردوں کے سیکچول ابیوز پر بات نہیں کرتے اور نہ ہی اس حوالے سے ہمارے ملک میں خاطر خواہ قوانین موجود ہیں جن کی بنیاد پر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا جاسکے۔
ہمارے آس پاس کتنے ہی ایسے معزز افراد شرافت کا چولا پہنے موجود ہیں جو اس قبیح فعل میں ملوث ہیں لیکن وہ یہ جانتے ہیں کہ لڑکوں کے معاملے میں غیرت کا پہلو اتنا اہم نہیں لہٰذا ایسا کرنے میں انھیں کوئی دقت محسوس نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ ایسے گھناؤنے فعل کو گناہ گردانتے اور شرمندہ ہوتے ہیں۔
عموماً دیکھا گیا ہے کہ جو مرد ریپ کا شکار ہوتے ہیں وہ اس بات سے انکار کرتے ہیں اور اپنے آپ کو دنیا کے سامنے نہیں آنے دیتے۔ ہاں اگر ایسی صورت حال میں جب کوئی بری طرح زخمی ہوجائے تب ہی طبی مدد لی جاتی ہے۔ گھر والوں کے علم میں اگر یہ بات آبھی جائے تو اسے چھپایا جاتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ کوئی اقدام کرنا مقصود ہی ہوتو متاثرہ لڑکے کو اس شخص سے دور کردیا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ لڑکا اس حالت میں پہنچا ہے۔
Read more