ناراض بلوچوں سے مکالمہ۔ ایک اچھی ابتدا

وزیراعظم عمران خان نے کچھ روز قبل گوادر میں مقامی عمائدین، طلباء اور کاروباری شخصیات سے خطاب کرتے ہوئے جب یہ کہا کہ وہ بلوچستان کے ”ناراض لوگوں“ سے بات کرنے کا سوچ رہے ہیں، تو ان کا یہ کہنا ہر اس شخص کے لیے، چاہے وہ بلوچستان کا باسی ہو یا ملک کے کسی بھی دوسرے حصے میں رہتا ہو، خوشی اور امید کا پیغام تھا جو بلوچستان میں امن دیکھنے کا خواہاں ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے اس

Read more

پاکستان میں ہم جنس پرست لڑکیوں کی سرگرمیاں

”میں آپ کے شو دیکھتی ہوں ٹی وی پر“
”اچھا، شکریہ“
جواب دے کر میں اپنی خریداری میں پھر مصروف ہوگئی۔
”میں سوشل میڈیا پر بھی آپ کو فالو کرتی ہوں۔ آپ کا گیٹ اپ مجھے بہت اپیل کرتا ہے۔ “
وہ ایک بار پھر مجھ سے مخاطب ہوئی۔ میں نے مسکرا کر اسے دیکھا۔ اس کی عمر چھبیس ستائیس کے قریب ہوگی، میں جس شاپنگ سینٹر میں موجود تھی وہ کراچی کے ایک پوش علاقے میں واقع ہے۔ میں کاسمٹکس خرید رہی تھی، لہٰذا غور سے ہر چیز پر لکھی تحریر پڑھتی جارہی تھی۔ اتنے میں وہ اچانک میرے قریب آکر مخاطب ہوگئی۔ اس کا لباس کافی ماڈرن تھا۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اس نے بڑی مشکل سے خود کو لباس میں پھنسا رکھا تھا، ایسے میں اس کا کہنا کہ آپ کا گیٹ اپ مجھے اپیل کرتا ہے، میرے لیے حیرت کی بات تھی۔

Read more

جب لڑکوں کا ریپ ہوتا ہے

جنسی زیادتی کا نشانہ لڑکا بنے یا لڑکی، دونوں کی شخصیت ٹوٹ پھوٹ جاتی ہے، لیکن حیرت اور افسوس کا مقام ہے کہ لڑکوں پر ہونے والے اس ظلم کو قانوناً ریپ سمجھا ہی نہیں جاتا۔ تفصیل میں جانے سے پہلے میں اس معاملے کے کچھ پہلوؤں پر بات کرنا چاہوں گی۔ لڑکوں کا ریپ کرنے والے یا تو ’گے‘ ہوتے ہیں جنھیں صرف مردوں میں دل چسپی ہوتی ہے یا پھر ہو وہ مرد ہوتے ہیں جو کہ مرد

Read more

لڑکوں سے زیادتی ”ریپ“ کیوں نہیں؟

بچپن میں تشدد سہنا، ناگوار سلوک برداشت کرنا اور ہتک آمیز رویے جھیلنا ہی کسی فرد کی شخصیت میں توڑ پھوڑ کے لیے کافی ہیں، لیکن جنسی زیادتی تو وہ عمل ہے جس میں یہ سارے افعال یکجا ہو کر بچے کی روح اور احساسات کو کچل ڈالتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں بچوں سے زیادتی کے واقعات جس افراط سے اور تواتر کے ساتھ ہو رہے ہیں اسے دیکھتے ہوئے میں خوف سے لرز جاتی ہوں کہ ہم

Read more

ذہنی امراض اور ہمارے رویے

ہمارا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنی جسمانی امراض اور تکالیف کے بارے میں تو بہت حساس ہوتے ہیں اور کسی بیماری کے آثار نمودار ہوتے ہی یا ذرا سی تکلیف ہونے پر ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں، بلکہ اکثر خود ہی اپنے معالج بن کر دوائیں استعمال کرنے لگتے ہیں۔ دوسری طرف ذہنی امراض کے حوالے سے ہمارا رویہ بالکل برعکس ہے۔ ہم خود سے بھی اس حقیقت کا اعتراف کرتے ہوئے کتراتے ہیں کہ ہمارے بہت

Read more

سیاست کے گر ہی نہیں اخلاق بھی سیکھیں

بجٹ ملک کی اہم ترین دستاویزات میں سے ایک ہے۔ اس کے ذریعے حکومت کے معاشی اہداف کا تعین کیا جاتا ہے، اور پورے سال کے لیے منصوبے تشکیل دیے اور پیش کیے جاتے ہیں۔ بجٹ کا آنا ایک ایسا موقع ہوتا ہے جب عوام، تاجر و صنعت کار، زراعت پیشہ افراد، سرکاری ملازمین غرض یہ کہ سب جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے لیے اس میزانیے میں کیا ہے، اور جو ہے وہ کس حد تک فائدہ مند یا

Read more

بحریہ ٹاؤن کا واقعہ۔ حقیقت کیا ہے؟

ہمارے ملک میں اسٹیٹس سمبلز بدلتے رہتے ہیں، کبھی پجارو نہایت دولت مند ہونے کی نشانی تھی، پھر موبائل فون آیا اور وہ امارت کا نشان بن گیا، گھڑیاں، لباسوں کے برانڈز اور بہت سے دیگر تعیشات اس حقیقت کے عکاس بن کے سامنے آتے رہے کہ ان کا استعمال کرنے والے پر ہن برسا رہا ہے۔ جہاں تک رہائش کا تعلق ہے تو کبھی کراچی میں ڈیفنس اور کلفٹن جیسی آبادیاں اور ملک کے دیگر شہروں کی وسیع و

Read more

بھارت میں جاری ”ہولوکاسٹ“

”ہمارے بچوں کو کلاس میں پچھلی نشستوں پر بٹھایا جاتا ہے“ بھارت سے تعلق رکھنے والی مسلمان خاتون کی یہ بات میرے لیے ایک افسوس ناک انکشاف تھی، اس کے باوجود کہ پڑوسی ملک میں مسلمانوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں سے بدسلوکی کوئی راز نہیں اور وہاں خاص طور پر مسلمانوں سے کیے جانے والے سلوک سے میں اچھی طرح واقف ہوں، مجھے حیرت تھی کہ سیکولرازم کا دعویٰ کرنے والا ملک اور معاشرہ اس حد تک بھی جا سکتے ہیں کہ درسگاہوں میں معصوم بچوں کو امتیاز کا نشانہ بنانے لگیں؟ ان خاتون کے درد سے واقف ہو کر میری سمجھ میں آیا کہ بھارت میں مذہبی اقلیتوں خاص کر مسلمانوں کے ساتھ اس سے کہیں زیادہ ناروا اور متعصبانہ سلوک کیا جا رہا ہے جتنا ہم جانتے ہیں۔

Read more

بالوں بھری” عورت“

کچھ ماہ قبل میرا چہرہ کھانا پکاتے ہوئے جلدبازی کے باعث پریشر ککر کی اسٹیم سے جھلس گیا۔ تکلیف تو جو تھی سو تھی لیکن شدید گرمی میں اور تمام تر مصروفیات کے باوجود ڈاکٹر کے پاس بار بار حاضری میرے لیے ایک جھنجھٹ تھا۔ ڈاکٹر میرے پرانے واقف کار بھی ہیں سو ان سے مختلف موضوعات خاص طور پر ان کے پیشے سے متعلق گفتگو رہتی۔ وہاں جا کر مجھے ایسے ایسے کیسز دیکھنے اور سننے کو ملتے کہ جن پر میں ایک کتاب لکھنا چاہوں تو شاید وہ بھی کم ہو۔

بہرحال، اس روز میں ان ڈاکٹر صاحب کے کلینک میں بیٹھی تھی۔ یہ کلینک ایک مشہور بیوٹی سیلون کا حصہ ہے، جہاں مرد و خواتین مختلف طرح کی ٹریٹمنٹ کے لیے آیا کرتے ہیں۔ کلینک میں مردوں کے لیے الگ اور عورتوں کے لیے الگ دروازہ تھا۔ اس روز میں اپنی باری کے انتظار میں بیٹھی تھی کہ عورتوں کے دروازے سے ایک برقع پوش خاتون اندر داخل ہوئیں۔ کچھ ہی دیر بعد انھیں نشست گاہ سے ملحق کمرے میں بلا لیا گیا۔ میری نشست اس کمرے کے ساتھ ہی تھی۔

Read more

بھارت کی اسرائیل نوازی

ایسے وقت میں جب دنیا بھر کے انسان دوست، جن میں لاتعداد امریکی اور خود یہودی بھی شامل ہیں، غزہ پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کر رہے تھے، بھارت کے ہندو انتہا پسند اسرائیل سے کندھے سے کندھا ملائے کھڑے تھے۔ مسلم دشمنی نے ان مودی سرکار کے حامی اور ہندوتوا کے پیروکاروں کو یوں اندھا کر دیا کہ انھیں اسرائیلی فوج کی بمباری میں جان سے جانے والے ننھے ننھے بچوں کی لاشیں بھی نظر نہ آئیں۔ جتنے دن

Read more

اسرائیل کی ”ضاہیہ ڈاکٹرائن“ کیا ہے؟

دنیا کے ہر باضمیر شخص کے لیے اسرائیل ظلم، استحصال، جھوٹ اور مکر کی علامت ہے۔ صہیونی ریاست انھی بنیادوں پر قائم ہوئی اور انھی ستونوں پر کھڑی ہے۔ اسرائیل کی افواج جب بھی مظلوم اور نہتے فلسطینیوں پر دھاوا بولتی ہیں اسرائیل اور اس کے سرپرست و دوست ہم آواز ہو کر ان ظالمانہ کارروائیوں کو ردعمل اور ”سیلف ڈیفینس“ قرار دینے لگتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ فلسطینی ریاست تسلیم کرنا تو دور کی بات اسرائیل فلسطینیوں

Read more

بھارت میں کورونا کی قیامت

اس وقت بھارت میں عام لوگوں کی حالت اور ان کی بے بسی دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ کورونا کی تیسری لہر نے ہمارے پڑوسی ملک میں جو تباہی اور افراتفری مچا رکھی ہے اس نے ساری دنیا کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ بھارت کے مختلف علاقوں میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد کم ہونے کے بجائے روزبروز بڑھتی چلی جا رہی ہے اور بھارت دنیا میں کورونا کے پھیلاؤ کا نیا مرکز بن رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ صرف ایک دن میں یعنی جمعرات بائیس اپریل کو کووڈ 19 سے 3 لاکھ 8 سو 35 بھارتی شہری متاثر ہوئے اور یہ ایک ہی دن میں اس وبا سے متاثر ہونے والوں کی دنیا کے کسی بھی ملک میں سب سے بڑی تعداد ہے۔ یہ تعداد حکومت کی جانب سے بتائی گئی ہے، لیکن متاثرین اور ہلاک شدگان کی صحیح تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ ٹیسٹ کی سہولیات ضرورت کے مقابلے میں بہت کم ہیں اور اسپتالوں میں گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے کتنے ہی متاثرین گھروں میں جان دے رہے ہیں۔

Read more

سیاسی مطلع کیا کہتا ہے

اگر حزب اختلاف یعنی پی ڈی ایم کی بات کریں تو وہ اب صرف دو بڑی جماعتوں مسلم لیگ نون اور جمیعت علمائے اسلام فضل الرحمان گروپ پر مشتمل رہ گیا ہے۔ اب یہ امکان واضح ہوتا جا رہا ہے کہ عنقریب ایک نیا سیاسی اتحاد جنم لے گا، یوں ملک تین سیاسی فریقوں کے درمیان جنگ کا اکھاڑہ بن جائے گا۔ یعنی حکومت، پی ڈی ایم اور نیا سیاسی اتحاد۔ یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ پیپلز پارٹی پی ڈی ایم سے راستے جدا کر لینے کے بعد نئے سیاسی اتحاد کے قیام کے لیے کوششیں تیز کر چکی ہے۔

Read more

اور پی ڈی ایم کی کشتی ڈوب گئی

لگ رہا تھا کہ جوش وجذبے سے بھری پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ یا پی ڈی ایم ایسا طوفان اٹھانے والی ہے کہ حکومت کا سنبھلنا مشکل ہو جائے گا، طوفان تو اٹھا لیکن پی ڈی ایم کے اندر ہی، جس کی وجہ سے پی ڈی ایم کی کشتی بھنور میں پھنسی اور ڈوبتی نظر آتی ہے۔ یہ تو وقت بتائے گا کہ پاکستان تحریک انصاف کے خلاف قائم ہونے والے اس سیاسی اتحاد کا مستقبل کیا ہے، لیکن اس کا جو

Read more

بھارت، افغانستان کا دوست نما دشمن

یہ امر تو طے شدہ ہے کہ عالمی تعلقات اور ممالک کے رشتے دوستی، خلوص اور محبت نہیں مفاد کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں، کابل میں امریکا کے سہارے بیٹھے حکمران اور بھارت کے باہمی تعلق کی بات کی جائے تو ’مفاد‘ کی جگہ ’منافقت‘ کا لفظ زیادہ مناسب لگتا ہے۔ بھارت نے گزشتہ مہینے افغانستان کو کووڈ 19 کی ویکسین فراہم کی، جسے ظاہر ہے قابل ستائش ہی کہا جاسکتا ہے۔ ویکسین کے تحفے پر افغانستان کے صدراشرف

Read more

فطرت سے جنگ کراچی کو تباہ کر رہی ہے

فطرت سے لڑنے کا ایک بھیانک انجام کورونا وبا کی صورت میں پوری دنیا کے سامنے ہے، جس کے اثرات ایک اندازے کے مطابق 2022 تک رہیں گے۔ بڑے بڑے شہر بنانے کے خواب سے انڈسٹریز تک ماحولیات کو نقصان پہچانے میں خدا کے نائب کہے جانے والی مخلوق نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ آج بڑے بڑے شہر فقط کنکریٹ کے جنگل ہیں، جن کی آلودگی اور بڑھتی ہوئی آبادیاں قدرت کے خزانوں کو نگلتی اور تباہ کرتی جا رہی

Read more

مقبوضہ کشمیر میں بچھی بارودی سرنگیں

مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا سب سے بڑا قید خانہ کہنا بھی غلط ہو گا، کیوں کہ قیدیوں کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں، جو مجروح کیے جائیں تو مہذب دنیا میں شور مچ جاتا ہے۔ لیکن مقبوضہ کشمیر اور کشمیری وہ بدنصیب قیدی ہیں جنھیں ہر حق سے محروم کر دیا گیا ہے۔ آج جب دنیا اکیسویں صدی میں کھڑی انسانی حقوق اور انسانی مساوات کا راگ الاپ رہی ہے، غلامی کے خاتمے کا دعویٰ زور و شور سے

Read more

”حقوق نسواں“ کا مطلب، کیا ہے، کیا سمجھا گیا؟

کیا آپ اپنی بیٹی بہن کو تعلیم دلوانے کے حق میں ہیں؟ کیا آپ چاہتے ہیں کہ اسے صحت کا حق دیا جائے کیا؟ آپ چاہتے ہیں کہ اس کی زندگی کے فیصلوں میں اس کی مرضی شامل ہو؟ کیا آپ ایسا سوچتے ہیں کہ حکومتی ایوانوں میں خواتین کی نمائندگی ضروری ہے؟ کیا آپ کے خیال میں خواتین کا جنسی استحصال ظلم ہے؟ کیا آپ اس بات کے حق میں ہیں کہ برسرروزگار خواتین کو مردوں کے مساوی معاوضہ

Read more

دشا روی: مودی سرکار کا نیا شکار

بھارت کی ہندو انتہاپسند حکومت بالکل ویسی ہے جیسی اس طرز اور فکر کی حکومتیں ہوتی ہیں، یعنی اپنی سوچ اور نظریے کو مسلط کرنے کی دھن میں مگن، ہر مخالف آواز دبانے کے لیے کوشاں، اپنے امیج کی خاطر جھوٹ، فریب، تشدد سمیت ہر حربہ استعمال کرنے کو تیار۔ مگر مودی سرکار کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ وہ اپنے مظالم، جھوٹ اور مکاریوں پر پردہ ڈالنے کی لاکھ کوشش کرے اسے منہ کی کھانی پڑتی ہے۔ پاکستان پر

Read more

بھارت میں ہنسنا بھی منع ہے

بھارت بڑی شان سے خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیتا ہے۔ یہ ڈھنڈورا اس قدر پیٹا گیا کہ مہذب دنیا کو اس پر یقین آ گیا۔ بھارت کا سیکولرازم تو خیر کب کا دھوکا اور فریب ثابت ہو چکا ہے، لیکن بھارتی جمہوریت ایک ایسا جھوٹ تھا جس پر مغرب تو مغرب ہم پاکستانی بھی یقین کیے بیٹھے تھے، خاص کر جب اپنے اپنے ملک میں جمہوریت سے کھلواڑ کے مناظر دیکھتے تو ہم بھارتی جمہوریت پر رشک کرتے تھے، لیکن اب یہ جھوٹ بھی بے نقاب ہو چکا ہے۔

Read more

وہ حاملہ تھی۔ اس کا مطلب یہ تو دو لاشیں تھیں

اس معاملے کو کافی دن گزر گئے لیکن مجھ میں ہمت نہیں تھی کہ اس موضوع پر کچھ لکھ سکوں۔ یہ واقعہ ایسا تھا کہ قلم لرزنے لگا، ذہن منتشر ہوتا گیا خیال در خیال سوالوں کے دائرے بنتے چلے گئے۔ وہ معصوم اسقاط حمل کی تکلیف سے موت کی بازی ہاری ہوگی؟ پہلی دفعہ ایک نئے وجود کی آہٹ کا احساس اس کے لیے کتنا تکلیف دہ ہوگا؟ وہ خوش ہوئی ہوگی؟ لیکن نہیں کوئی راستہ اس کے سامنے نہ تھا اگر ہوتا تو وہ کبھی بھی اس خوشی کو اپنے لیے گناہ اور گندگی تصور کرتے ہوئے خود سے الگ کرنے کی کوشش نہ کرتی۔ اسے اس خوشی سے گھن آتی ہوگی؟ وہ کتنی اذیت میں ہوگی ذہنی اذیت۔ ہاں وہ تو ہے لیکن۔ ۔ ۔

میں بھی تو عورت ہوں پہلی دفعہ ماں بننے کے احساس کو میں نے محسوس کیا تھا۔ میں نے بھی درد سہ کر بچہ پیدا کیا تھا۔ اور وہ درد بھی مجھے یاد ہے جب ڈاکٹر نے مجھے کہا کہ بے احتیاطی کی وجہ اسقاط حمل ضروری ہو گیا ہے۔ اف میرے خدا! کتنا مشکل مرحلہ تھا، ایسے جیسے کسی جلے ہوئے برتن سے کھانے کو کھرچ کر نکالا جائے۔ وہ درد بچہ پیدا کرنے سے کہیں زیادہ تھا۔ اب بھی کبھی وہ سب کچھ یاد آتا ہے تو روح کانپ جاتی ہے۔ ماں جب درد سے بچہ پیدا کرتی ہے اس وقت حال یہ ہوتا ہے کہ جیسے ابھی موت کا فرشتہ سامنے کھڑا ہے اور اب سانس رک جائے گی لیکن جیسے ہی ننھے وجود کے رونے کی آواز کانوں میں گونجتی ہے سارا درد یوں غائب ہوجاتا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔

Read more

ہشت نگر میں کیا ہوا تھا؟

بھارت کے سکھ کسان عزیمت کی ایک نئی تاریخ رقم کر رہے ہیں۔ مودی سرکار انھیں دبانے کے لیے دلاسے، دباؤ اور دھمکی سمیت ہر حربہ استعمال کر رہی ہے، اسے خدشہ ہے کہ سکھ دہقانوں کی یہ تحریک جو خالصتاً طبقاتی اور معاشی بنیاد پر استوار ہے، کہیں پورے ملک میں نہ پھیل جائے، اگر ایسا ہوا تو کندھے سے کندھا جوڑے مختلف مذاہب کے حامل اور الگ الگ زبانیں بولنے والے کسان ایک طرف بھارتیہ جنتا پارٹی کی

Read more

جبری گمشدگیاں؛ آئین اور قانون کی پابندی ضروری ہے

ملک کا آئین ہر شہری کے حقوق کا ضامن ہوتا ہے اور پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 9 اس چیز کا ضامن ہے کہ وہ اپنے زندگی قانونی دائرے میں رہتے ہوئے مکمل آزادی سے گزار سکتا ہے جبکہ آرٹیکل 10 آئین پاکستان کا کہتا ہے کہ کسی بھی شہری کو بغیر کسی وجہ کے حراست میں نہیں لیا جاسکتا اور اگر حراست میں لیا جاتا ہے تو چوبیس گھنٹے کے اندر اندر اس شہری کو متعلقہ مجسٹریٹ کے سامنے

Read more

این آر او کا راستہ صاف کیا جا رہا ہے

این آر او کے کالعدم قانون پر سب سے زیادہ تسلی پاکستانی عوام کو اس بات پر ہوتی ہے کہ یہ کم از کم خالص میڈ ان پاکستان قانون بنایا گیا۔ باضمیر دانش ور گلہ پھاڑ پھاڑ کر چلاتے رہے کہ این آر او کا چور راستہ دنیا کی تاریخ میں کبھی نہیں اپنایا گیا جسے ہمارے قابل پاکستانی سیاست دان اختیار کرنے میں سب سے زیادہ سکون و عافیت سمجھتے ہیں، لیکن دھت ترے کی، اس معاملے میں بھی ہم پیچھے رہ گئے۔ دراصل این آر او بھی مغرب کی ہی ایجاد ہے۔

یہ مفاہمت کا ہتھکنڈہ جنوبی افریقا کی سیاست سے مستعار لیا گیا ہے، جس میں سیاہ فام حکومت نے سابق گورے حکم رانوں کے ظلم معاف کردیے۔ جنرل پرویز مشرف بھی بظاہر اپنے آپ کو صلح کا دیوتا منوانے کا کھیل کھیلتے ہوئے اُس وقت اپنے خلاف ملکی اور بین الا اقوامی سیاسی منجھدار سے اپنی کشتی سے نکالنے کے چکر میں بینظیر بھٹو صاحبہ کو ملکی سیاست میں واپس لانا چاہتے تھے

Read more

جب مائیں بچوں کو قتل کرنے لگیں

ساحلِ سمندر پر جانا میرے لئے بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی مزار پر عقیدت سے سر جھکانا۔ صبح سے شام ہوتی ہے تھکن سے چور جسم سمندر کی لہروں کو دیکھ کر ایک عجیب روحانی سکون پاتا ہے۔ اور کم و بیش انسانوں کے اس جنگل جسے ہم کراچی کہتے ہیں میں رہنے والے ہر باسی کی کچھ یہی کہانی ہوگی، جہاں ذہن کام کے قابل نہ رہا وہاں اس شہر کے ساحل نے اِسے سکون کی آغوش دی۔

Read more

نوماہ، تین بجٹ اور عوام

حکمران اتنے فاسٹ ہیں کہ نو ماہ میں تین ڈیلوریاں کردی پہلے بجٹ ڈیلوری اپریل میں 2018 / 2019 کے بجٹ کی صورت میں مسلم لیگ نون نے کی اس مہنگائی کے دور میں ابھی عوام اس نومولود کو سنبھالنے میں رات دن ایک کر رہے تھے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے ستمبر 2018 میں منی بجٹ کی صورت میں عوام کی گود میں ایک اور مہنگائی کا چننا ڈال دیا بات یہاں ختم ہو جاتی تو بھی خیر تھی 23 جنوری کو ایک نیا مننا آگیا اور اس کا نام ریفارمز پیکچ بھی رکھ دیا۔ خیر یہ اچھا ہے کہ نام خود ہی رکھ لیا ورنہ ایسی ان وانٹڈ کنڈیشنر کو عوام لعنت خباثت اور اور ۔ ۔ ۔  یار جانے دیں نا گفتنی ہے جیسے اعلی ناموں سے پکارتے ہیں۔

پاکستان کے لاکھوں عوام گذشتہ ستر برس سے ایسی قیادت کو ترس رہے ہیں جو ان کے مسائل کا مداوا کرسکے لیکن لگتا ہے کہ اب تک جو بھی تجربات ہوئے ہیں اس میں کبھی بھی غریب عوام اوران کے مسائل، ترجیحات میں شامل نہیں رہے ہیں فوجی ہو یا سویلین حکمران ان سب نے ہی کسی نہ کسی شکل میں عوام کو لوٹا ہے اور ایسی پالیسیاں بنائیں جس کے باعث ان کی زندگی جہنم سے قریب تر ہوتی جارہی ہے اوریوں ہر جانے والا حکمران پہلے سے بہتر دکھائی دینے لگتا ہے۔

Read more

بدصورتی کی کشش – میری ڈائری سے

معاشرے کی بدصورتی پر لکھو تو ذات پر وہ کیچڑ اچھالا جاتا ہے کہ اپنے آپ سے بو آنے لگے۔ بالکل ایسے کہ جیسے چہرہ مسخ ہو اور آئینہ پہچانے سے انکار کردے۔ پر عورت تو ہے ہی فتنہ اور اس کا قلم اس سے بڑا فتنہ۔ آزادی کا شعور اگر ایک قلم کار عورت میں آگیا تو بڑے ترقی یافتہ اذہان جو سامنے واہ واہ کے پل باندھتے نہیں تھکتے، وہ بھی خوف کھانے لگے ہیں کہ کہیں اس کے لفظوں کا سایہ ہمارے گھر ہی اثرات نہ چھوڑ جائے، کہیں ہماری بیٹی بیوی، محبوبہ ترقی کا راگ الاپتی ہوئی ہمارے ہاتھوں سے نکل گئیں، پھر کیا ہو گا۔

سو چوری چوری کہتے ہیں ”بی بی بات تو آپ کی سو ٹکا درست ہے، لیکن احتیاط سے آپ کے آگے بھی بچیاں ہیں اب زنانیوں کو وہ پاٹ بھی ناں پڑھائیں کہ ہماری آزادی سلب ہوجائے۔ “
ہیں ں ں ں ں ں کیسی آزادی؟

”بس ہوتے ہیں کچھ معاملات زندگی کے۔ اب مرد کھل کر تو نہیں بولے گا ناں۔ “
ہاں جیسے آپ ابھی پرائیویٹ پیغام کی صورت میں ایک زنانی کو لفظوں کا خوف دلاکر اپنی پوری مردانگی ظاہر کرنے میں جتے ہوئے ہیں۔ یہی آزادی نا؟

”سیکچول موضوعات، ہراساں کرنا، بچوں کے ساتھ زیادتی، لڑکوں کے ساتھ بدفعلی، کسی معاشرے میں اسلام کا نام استعمال کرتے ہوئے خواتین کا استحصال، نوجوان لڑکیوں کو من پسند شوہر کا انتخاب کرنے کی آزادی۔ یہ موضوع خواتین کے لکھنے کے قابل نہیں۔ صرف آپ سانس نہیں لیتیں یقیناً آپ کے بچے بھی ہیں، ان کو آگے چل کر آپ کے لفظوں کا طعنہ ملے گا پھر کیا جواب دیں گی آپ۔ وہ دیکھا آپ نے خواتین کی ہم جنس پرستی پر لکھی گئی آپ کی تحریر پر کیسے ٹھٹھا ہوا۔

Read more

آپ کا کیا ہوگا جنابِ عالی؟زرداری صاحب ذرا بچ کے

کیا کہا سونامی؟ جی ہاں آچکا۔ نہیں اس سونامی سے مراد عمران خان صاحب کا اقتدار میں آنا نہیں۔ قصہ مختصر یہ ہے کہ پاکستان اس وقت سیاسی سونامی کی لپٹ میں ہے جو تمام سیاسی جماعتوں کی مرکزی قیادت کو بہاکر لے جائے گا۔ پی ٹی آئی کی حکومت کا عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ کے ساتھ کرپشن پر زیرو ٹالرنس پر کام جاری ہے شاید یہ جانتے ہیں کہ جنرل مشرف نے این آر او کیا تھا جس

Read more

صحافیوں کی غیر منصفانہ برطرفیاں، پسِ پردہ حقائق کیا ہیں

ملک میں ”تبدیلی حکومت“ کے ساتھ جہاں سب کچھ تبدیل ہوا وہاں میڈیا انڈسٹری کے حالات میں بھی تبدیلی رونما ہوئی۔ مشرف دور میں کھمبیوں کی طرح اُگنے والے نیوز چینلزکوخوش آمدید کہا گیا۔ لیکن پھر مشرف کے خلاف چلنے والی تحریک اور اس میں میڈیا کا کردارکسی سے ڈھکاچھپانہیں ہے۔ شاید اس وقت ہی اسٹیبلیشمنٹ نے فیصلہ کرلیا تھا کہ اب میڈیا کو مزید آزادی دینے کی ضرورت نہیں۔ لیکن نواز شریف اور زرداری کی حکومتوں کے باعث بعض نئے چینلز کی آمد اور کچھ کا بند ہونے کا سلسلہ جاری رہا۔ دوہزارآٹھ کے انتخابات اور میڈیا ہاؤسز کی پالیسی کی واضح تقسیم کے بعدیہ طے کرلیا گیاتھا کہ اب میڈیا ہاؤسز کی ضرورت نہیں ہے وجہ صاف تھی کہ کافی کام تو اعلی عدلیہ سے ہی نکال لیا جائے گا۔

Read more

کراچی کا سیاسی وارث کون؟ ہے کوئی؟

کراچی کی سیاست ہمیشہ سے ہی مزاحمتی اور پاکستان کے دوسروں میٹروپولٹن شہروں سے الگ رہی۔ ایوب خان ا ور ضیاء الحق کی آمرانہ حکومتوں کے خلاف جدوجہد میں قائدانہ کردار رہا۔ لیکن شہر میں لسانی اور فرقہ ورانہ تقسیم کو بھرپور انداز میں سیاسی طریقے سے استعمال کیا اور شہر کی ترقی کو الٹا گئیر لگادیا گیا۔ شہر کی تباہی کی ایک لمبی کہانی ہے۔ لیکن آج بات ہے 2018 کے عام انتخابات اور ایم کیو ایم لندن کی سیاست سے چھٹی کے بعد کراچی کی جب سیاست کا ایک نیا چہرہ سامنے آیا ہے۔

Read more

اسرائیل کی طرف سے حماس کے کمانڈروں کی ٹارگٹ کلنک کا سلسلہ

غزہ کی چھوٹی سی پٹی اور اس پر بسنے والے چند لاکھ افراد ہر کچھ عرصہ بعد آگ اور خون میں نہا جاتے ہیں۔ انسانیت کی بھیانک تصویر پیش کرتے فلسطینیوں کے درندہ صفت دشمن اپنے نوکیلے ناخنوں سے لاشے تک نوچ لیتے ہیں۔ غزہ میں رواں سال تین مارچ سے شروع ہونے والے مظاہروں میں اب تک ایک سو بارہ فلسطینی شہید اور تقریباً تیرہ ہزار زخمی ہوئے ہیں اور ان میں شہید ہونے والے تیرہ، اور زخمی ہونے والے اکیس سو بچے ہیں۔ یہ ہلاکتیں زیادہ تر سرحد پر ان کی جانب سے آبائی علاقوں میں لوٹنے کے حق کے لیے کیے جانے والے احتجاج کی وجہ سے کی جا رہی ہیں۔ صہیونیت کی ڈائن، مادر شکم میں سانس لیتے بچوں کو بھی چبا جاتی ہے۔ ایسے حالت میں ہماری قومی اسمبلی میں دبے لفظوں میں اسرائیل کے حق میں بیان آنا شرمناک ہے۔

اسرائیل کی حالیہ وحشیانہ کارروائیوں میں خاص طور پر حماس کے کمانڈروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ حالیہ مہینوں اسرائیلی فوج کی حماس اور حماس کی ذیلی تنظیموں کے درمیان میں دوطرفہ کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔

Read more

وہ سائٹس جو ڈاکٹروں کے لیے سودمند ثابت ہوسکتی ہیں

سوشل میڈیا ہر شعبہ زندگی سے وابستہ افراد کے لیے وسیع تر امکانات رکھتا ہے۔ اس حوالے سے اگر شعبہ طب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بات کی جائے تو ہمارا مشاہدہ ہے کہ اکثر ڈاکٹر اس فکر میں مبتلا نظر آتے ہیں کہ سوشل میڈیا کو کس طرح اپنی پریکٹس کے سلسلے میں سودمند طریقے سے استعمال کیا جائے۔ دوسری طرف ڈاکٹروں کو اس پریشانی کا سامنا رہتا ہے کہ امراض میں مبتلا افراد اور دیگر لوگ فرصت کے لمحات میں بھی انھیں چین نہیں لینے دیتے۔

ایسے لوگ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر ڈاکٹروں کو میسیج کرکے اور اپنے صحت کے مسائل سے متعلق سوالات کرکر کے ڈاکٹروں کا ناک میں دم کردیتے ہیں۔ یہاں ہم ڈاکٹروں کی سہولت کے لیے کچھ قاعدے اور ضابطے تحریر کر رہے ہیں، جن پر عمل کرکے وہ سوشل میڈیا کو پیشہ ورانہ طور پر اپنے لیے سودمند بناسکیں گے اور خود کو ہونے والی پریشانی سے نجات دلاسکیں گے۔ ان مشوروں اور تجاویز پر عمل کرنے سے مختلف امراض میں مبتلا افراد کو بھی فائدہ ہوگا۔

Read more

سوشل میڈیا کا شہرِطلسم

اکیسیویں صدی میں ہم سوشل ویب سائٹس کے شہرِ طلسم میں جی رہے ہیں۔ ہم روز بروز سماجی ویب سائٹس کے سحر میں جکڑے چلے جارہے ہیں اور غیرمحسوس طور پر ان کی ذہنی غلامی میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ سوشل ویب سائٹس جہاں لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لائی ہیں، وہیں یہ ایسی زمینیوں کی صورت اختیار کرگئی ہیں جن پر نفرتوں کے بیج بوئے اور تعصب کی فصلیں اگائی جارہی ہیں۔ ظاہر ہے اس بوائی اور کاشت سے

Read more

بھارتی فوج میں خواتین کی بطور سیکس ورکر بھرتی کا انکشاف

مقبوضہ کشمیر میں ستمبر 2009 میں جب بھارتی فوجیوں میں خودکشی کرنے والوں کی تعداد میں خطرناک اضافہ ہوا تو ”را“ کی طرف سے ایک شیطانی پلان ترتیب دیا گیا، جس کے تحت بھارتی فوج میں خاتون فوجیوں کو بڑی تعداد میں بھرتی کیا گیا، جنھیں سرحدی گارڈوں کے طور پر نوکری دی گئی۔

افسوس کا مقام یہ ہے کہ ان خواتین کو بھارت سرکار کی فوجی ضرورتوں کے تحت نہیں بلکہ سیکس ورکر کے طور پر بھرتی کیا گیا تھا، جس کا مقصد کشمیر میں موجود فوجیوں کو تفریح فراہم تھا۔ سوچنے کا مقام یہ ہے کہ جس معاشرے میں عورت کو نحس وجود تصور کیا جاتا ہو وہ ملک اچانک ایک بڑی تعداد میں خاتون فوجیوں کو کیسے بھرتی کرسکتا تھا۔ معاملہ یونہی چلتا رہتا لیکن صورتحال اس وقت ابتر ہوگئی جب ایک خاتون فوجی جنسی زیادتی کے بعد حاملہ ہوگئی اور حمل ضائع کرنے کی سہولیات سے محروم ہونے کے باعث اسے اسی حالت میں ڈیوٹی انجام دیتے ہوئے پایا گیا، جس کے بعد معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا گیا اور اس کے نتیجے میں یہ دل دہلانے والی حقیقت سامنے آئی کہ بارڈر پر اپنے فرائض انجام دیتی 178 خاتون فوجیوں میں سے 63 غیر محفوظ جنسی سرگرمیوں کی وجہ سے سنگین طبی مسائل کا شکار ہیں۔

لیفٹیننٹ جرنل راج کمار اس کمیٹی کے ہیڈ تھے جس کی سفارشات کے نتیجے میں فوجی خواتین کو سیکس ورکر کے طور پر فورس میں تعینات کیا گیا تھا، تاکہ وہاں موجود مرد فوجیوں کو خوش کیا جاسکے۔ اس سارے منصوبہ کو سابق آرمی چیف دیپک کمار کی سرپرستی حاصل تھی۔ اس حوالے سے انھوں نے وزیردفاع سے مشاورت کو بھی ضروری ن سمجھا۔ اس انسانیت سوز اقدام کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ 2008 میں فوجیوں کی خودکشی اور اپنے ساتھیوں پر تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے باعث اب تک 151 خودکشی کے واقعات سامنے آچکے ہیں۔

Read more

مولانا سمیع الحق کا قتل۔ کس کی سازش؟

میں نوحہ کیسے لکھوں کہ لفظ میرا ساتھ نہیں دے رہے۔ یوں تو پورا پاکستان ہی دہشت اور وحشت کے ہرکاروں کی زد میں ہے، اس پر یہ سانحوں کا سلسلہ ہے کہ ختم ہونے ہی میں نہیں آتا۔ المیے ہیں کہ رکنے کا نام ہی نہیں لیتے۔ دہشت گردی کے عفریت نے ہمارے ملک میں یوں پنجے گاڑے ہیں کہ خون پہنے کا سلسلہ رکتا ہی نہیں۔ اس بار اس عفریت نے مولانا سمیع الحق کو نشانہ بنایا۔ مولانا

Read more

جب لڑکوں کا ریپ ہوتا ہے

جنسی زیادتی کا نشانہ لڑکا بنے یا لڑکی، دونوں کی شخصیت ٹوٹ پھوٹ جاتی ہے، لیکن حیرت اور افسوس کا مقام ہے کہ لڑکوں پر ہونے والے اس ظلم کو قانوناً ریپ سمجھا ہی نہیں جاتا۔ تفصیل میں جانے سے پہلے میں اس معاملے کے کچھ پہلوؤں پر بات کرنا چاہوں گی۔ لڑکوں کا ریپ کرنے والے یا تو ’گے‘ ہوتے ہیں جنھیں صرف مردوں میں دل چسپی ہوتی ہے یا پھر ہو وہ مرد ہوتے ہیں جو کہ مرد اور عورت دونوں سے ہی اپنی جنسی خواہش کی تکمیل میں تسکین محسوس کرتے ہیں۔

یہ نہایت تشویش کی بات ہے کہ ہم اب بھی مردوں کے سیکچول ابیوز پر بات نہیں کرتے اور نہ ہی اس حوالے سے ہمارے ملک میں خاطر خواہ قوانین موجود ہیں جن کی بنیاد پر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا جاسکے۔

ہمارے آس پاس کتنے ہی ایسے معزز افراد شرافت کا چولا پہنے موجود ہیں جو اس قبیح فعل میں ملوث ہیں لیکن وہ یہ جانتے ہیں کہ لڑکوں کے معاملے میں غیرت کا پہلو اتنا اہم نہیں لہٰذا ایسا کرنے میں انھیں کوئی دقت محسوس نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ ایسے گھناؤنے فعل کو گناہ گردانتے اور شرمندہ ہوتے ہیں۔

عموماً دیکھا گیا ہے کہ جو مرد ریپ کا شکار ہوتے ہیں وہ اس بات سے انکار کرتے ہیں اور اپنے آپ کو دنیا کے سامنے نہیں آنے دیتے۔ ہاں اگر ایسی صورت حال میں جب کوئی بری طرح زخمی ہوجائے تب ہی طبی مدد لی جاتی ہے۔ گھر والوں کے علم میں اگر یہ بات آبھی جائے تو اسے چھپایا جاتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ کوئی اقدام کرنا مقصود ہی ہوتو متاثرہ لڑکے کو اس شخص سے دور کردیا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ لڑکا اس حالت میں پہنچا ہے۔

Read more

غریب بچے جن رہا ہے یا غلام

بس غلاموں کی منڈیاں نہیں لگ رہیں، ورنہ کمسن غلاموں اور لونڈیوں کی خریدوفروخت آج بھی جاری ہے۔ جہاں چند ٹکوں کے عوض ان کی زندگیاں خرید لی جاتی ہیں ان کے جسم پر حکومت کرکے آقا بننے کے شوقین نفسیاتی مریض خوراک کے نام پر چند ٹکڑے ان کے سامنے پھینکتے ہیں۔ اپنی تمام حاجات بشمول جنسی خواہشات بھی ان ننھے غلاموں سے پوری کی جاتی ہیں۔ اور یہ خواہش صرف مرد نہیں عورت کا روپ لئے ڈائنیں بھی

Read more

آزادیِ اظہار کا قتل

تاریخ گواہ ہے کہ عوام کے جاننے اور اظہارِ کے حق پر پاپندی سے معاشرے ذہنی طور پر مفلوج ہو جاتے ہیں۔ اگر عوام سے حکومت کے اقدامات اور سرگرمیوں کی آگاہی چھین لی جائے تو معاشرے میں ان کا کردار منجمد ہوجاتا ہے۔ لیکن بد قسمتی سے جمہوری معاشرہ ہو یا بادشاہی نظام حکومت، حکومتی افسران و اہلکا، ر اطلاعات کو اپنی ملکیت تصور کرتے ہیں اور جو کوئی اس راہ میں رکاوٹ بنے اسے سخت سے سخت سزا

Read more

اسلامی اتحاد کا پول کھل گیا

سعودی عرب اور امریکہ دوستی ارینج میرج کی طرح ہے، نظریہ ضرورت کو مدِنظر رکھتے ہوئے پہلے تعلقات قائمکیے گئے اور پھر باقاعدہ معاہدوں کی صورت میں اِسے جائز نام دے دیا گیا۔ اب دونوں کا ایک دوسرے کو بھگتا مجبوری کے سواء کچھ نہیں۔ سعودی عرب اور امریکہ اپنے اپنے مفادات کے لئے جس حد تک یہ رشتہ نبھا پائے نبھائیں گے۔ نوک جھونک ایک دوسرے کو ڈرانے دھمکانے سے زیادہ آگے جانے کا امکان نہیں۔ یہی وجہ ہے

Read more

وہ ”پال“ رہے ہیں یا خود اب تک ”پالنے“ میں ہیں

میرے دادا شہاب الدین غوری قیامِ پاکستان کے وقت مسلم لیگ کے اہم رہنما تھے۔ انہوں نے پاکستان حاصل کرنے کی جدوجہد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ پاکستان سے محبت کا عجیب عالم تھا۔ سب کچھ اپنے وطن پر قربان کردیا۔ پاکستان کے قیام کے وقت اپنی جائیداد چھوڑ کر اپنے ملک کی محبت میں دیوانہ وار بھارت کے شہر احمدآباد کو چھوڑا اور کراچی کا رُخ کیا۔ راستے میں کتنے ہی مصائب جھیلے، اپنے خاندان کی عزت و

Read more

رومی، یونانی، ایرانی اور ہندی تہذیبوں میں عورت کی غلامی

حسینہ ایک عام سی گھروں میں کام کرنے والی عورت ہے۔ جس کی زبان میٹھی سرائیکی بولی بولتی ہے۔ پہلے اپنی ایک سال کی بیٹی کو ساتھ لے کر گھر سے کام کرنے نکلتی تھی۔ اب اُس کی وہ بیٹی اُس کے شوہر کی پہلی بیوی کے ساتھ گھر میں رہتی ہے کیوں کہ حسینہ کی گود میں اب ایک ماہ کا بیٹا بھی آگیا ہے۔ جو بہت مشکلوں سے بڑے آپریشن کے بعد حسینہ کی گود میں آیا۔ آپریشن

Read more

کراچی دنیا کے ناقابلِ رہائش شہروں میں چوتھے نمبر پر ہے

ہم اب تک اس فخر میں مبتلا تھے کہ ہم شہرقائد کے مکین ہیں، اس خوب صورت احساس سے سرشار تھے کہ ہم جس شہر میں رہتے ہیں وہ پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی اور تجارتی شہر ہے جو ہر آنے والے کو روزی دیتا ہے، ہمیں یہ خیال مسرور رکھتا تھا کہ ہم منی پاکستان میں بستے ہیں جہاں ملک کے ہر علاقے سے تعلق رکھنے والا بستا ہے، مگر آج پتا چلا کہ ہم تو اس شہر

Read more

افغانستان میں دولتِ اسلامیہ کی موجودگی اور پاکستان کے لئے خطرات

پاکستان میں جمہوریت کے تسلسل کے بعد نئی آنے والی حکومت کو جہاں ملک میں موجود بہت سے مسائل جن میں کرپشن، بے روزگاری، تعلیم کی سہولیات کا فقدان، اداروں میں بے ضابطگیاں، مجرموں کو کیفر کرادار تک پہچانا اور ملک کی دولت کو جیسے غیر قانونی طریقوں سے ملک سے باہر بھجا گیاکو واپس لانا، عدالتوں میں انصاف کی فراہمی کو فوری اور یقینی بنانا شامل ہے وہی امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانا سب سے بڑا

Read more

نوکری پیشہ خواتین یا پبلک پراپرٹی؟

میرے دیس میں معاشی مسائل جس تیزی سے بڑھ رہے ہیں وہاں ایک فرد کمائے اور دس لوگ کھائیں یہ ممکن نہیں رہا۔ لہذا فکرِ معاش کے لیے خواتین کا گھر سے باہر نکلنا ایک عام بات ہے۔ ہمارا معاشرہ یہ بات جانتا ہے کہ عورت کا نوکری کرنا اب ضروری ہوگیا ہے لیکن اب بھی اس بات کو دل سے تسلیم نہیں کیا جاتا۔ نوکری کرنے والی خواتین کو اکثر شب و روز نازیبا رویوں کو سامنا رہتا ہے۔

Read more

ہمارا تعلیمی نصاب

”سر! یہ اتنے سارے لوگ کون ہیں؟ اور زور زور سے کیا کہہ رہے ہیں؟ “ ”اور وہ جو بینر انھوں نے اٹھایا ہے دھاندلی دھاندلی“ ”نبیل، شارق!کھڑکی بند کرو۔ سب بچے اپنی کتابیں کھولیں۔ آج ہم تحریکِ پاکستان کے بارے میں پڑھیں گے۔ “ کھڑکی بند ہوگئی، جس کے اُس طرف الیکشن دھاندلی کے خلاف مظاہرہ ہورہا تھا اور اِس طرف کلاس روم میں حال کی بابت سوال اٹھاتے بچے ماضی کا سبق پڑھنے لگے۔ ہم نے اپنی درس

Read more

برابری کا خواب لیکن سیٹیں؟

ووٹر۔ وہ چیونٹی جس کے انتخابات کے موسم میں پَر نکل آتے ہیں اور پھر یہ چیونٹی کسی ہاتھی کی موت کا باعث بھی بن سکتی ہے۔ عوام کو بے وقوف سمجھنے والے کب تک اپنی طاقت کے زعم میں رہیں گے۔ الیکشن کی گہماگہمی عروج پر ہے۔ لیکن ٹھہریے، گہماگہمی صرف ان کے لیے جنھیں کسی حملے کا خطرہ نہیں۔ باقی تو وہ سیاسی جماعتیں ہیں جو پچھلے پانچ سال میں حکومت کا حصہ رہی ہیں یا یوں کہیے

Read more

13 جولائی 2018 مستونگ سانحہ

نہ یہ فلسطین ہے ،نہ غزہ،نہ شام ،نہ برما،افغانستان اور عراق بھی نہیں ۔یہ مملکتِ خداد پاکستان ہے جہاں وحشت کا یہ عالم ہے جیسے سب پُل صراط پر چلنے کے لئے کمربستہ ہوں۔ مستونگ 200 افراد دوبارہ زندگی ملنے کی صورت میں بھی اب عمر بھرزندگی سے دور ہوگئے ۔جسم سے جان جدا ہوتی تو شاید یہ ایک دفعہ کی تکلیف ہوتی لیکن یہ لوگ جسمانی معذوری کی صورت جب تک سانسیں باقی ہیں اپنے جسم کے بوجھ کو

Read more

ذرائع ابلاغ الیکشن کی زد میں

الیکشن کی سنسنی خیزی پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہے۔ سوچتی ہوں اگر ہمارا برقی ذریعہ ابلاغ اتنا برق رفتار نہ ہوتا جتنا ان دنوں اپنی ذمے داری نبھا رہا ہے تو کیا ’الیکشن‘ کے اثرات گھر بیٹھے ناظرین پر اتنے گہرے مرتب ہوتے؟ یہ سوال ذہن میں گردش کرتے ہوئے سوالات اور خیالات کے کتنے ہی دائرے بنا رہا ہے۔ جن دنوں میں صحافت کی تعلیم حاصل کر رہی تھی، مجھے یاد ہے میں نے صحافت کے اصولوں پر

Read more

بلاول بھٹو زرداری اور بے نظیر کی پیپلزپارٹی

جمہوریت بہترین انتقام ہے۔ اور جمہوریت نے انتقام لے لیا۔ المیہ یہ ہے کہ بے نظیر بھٹو کے اس مقولے کا نشانہ ان کی اپنی جماعت بنی ہے۔زرداری صاحب کی کرپٹ حکومت کے بعد اگر لیاری کی مشتعل عوام بلاول کے قافلے پر حملہ کرتی ہے تو اس میں کوئی اچھنبے کی بات نہیں ۔چنا بو کر گندم کی خواہش کرنا بیوقوفی ہے۔ 2013 کے انتخابات نے پیپلز پارٹی کو سندھ تک محدود کردیا ہے۔ اور حادثے سے بڑا سانحہ

Read more

لیڈر کون ہوتا ہے؟

کوئی افراتفری سی افراتفری ہے، ہمارے ملک میں سیاست، مفادات کے لئے جوڑتوڑ اور تضادات کے اشتراک کا دوسرا نام ہے۔ یہ تو بہت نرم لفظوں میں کی گئی تعریف ہے۔ ورنہ، میں اور آپ سب جانتے ہیں کہ ہماری سیاست کی تعریف کیسے کیسے گُفتی اور ناگُفتی لفظوں کے ساتھ کی جاتی ہے۔ اور جب ایسے حالات ہوں تو ایک مخلص لیڈر کے سامنے آنے کی توقع کرنا عبث ہے۔ لیڈر وہ ہوتا ہے جو زمان شناس ہو، علم

Read more

شناخت ہی نہیں تو ووٹ کیسا؟

‘اس دفعہ میں تبدیلی لاؤں گا۔ انقلاب کوئی لائے نہ لائے میں اپنا ووٹ دے کر انقلاب ضرور لاؤں گا۔ میرا ووٹ تم دیکھو گے کتنا اہم ہے۔ اب چاہے بلا ہو کہ شیر، تیر ہو کہ ترازوں، کتاب ہو کہ لالٹین، قلم دوات ہو کہ پتنگ سب میرے ووٹ کے محتاج ہیں اور وہ سونامی خان وہ بھی۔ لوگ کہتے ہیں کہ کرکٹ کا بزرگ اور سیاست کا نابالغ کچھ تو کرے گا۔ لیکن دیکھو! آج میں کتنا اہم

Read more

کشن گنگا ڈیم

ہمارے حکمرانوں میں وہ طاقت کہاں کے ہندوستان سے اپنا حق لے سکیں۔اقتدار کے نشے میں چور ہمارے سیاست دان ملک کی فکر کیا کریں گے انھیں تو اپنی کرسی کی فکر لازم ہوجاتی ہے۔بھارت کے پاس پاکستان پر سب سے بڑا وار کرنے کے لیے پانی کی دھمکی کے سواکچھ نہیں۔ آپ نے میٹرو بسیس بنائی آپ نے اورنج ٹرنیں بناڈالی یہ بھی ملک کی ترقی کے لیے ضروری تھا لیکن جو ضرورت پاکستان کی عوام کو تھی اسے

Read more

بھارت سرکار سن لے

دنیا کی سب سے بڑی جمہوریہ بھارت درحقیت جمہوریت کی گھناونی اور بد ترین شکل لئے نہایت ڈھٹائی سے دنیا کے سامنے ہے۔ جھوٹ، مکرو فریب اور نفرت و عداوت پر مبنی بھارت سرکار اپنے گھناونے فیصلوں سے اپنی ریاست میں جمہوریت کا پول کھول رہی ہے۔ نریندر مودی اپنے ملک کی ریاستوں کو تو سنبھال نہیں پا رہے تو کشمیر کو کیا سنبھالے گے۔ بہتر یہی ہے کے مودی سرکارپنڈتوں کے ساتھ پوجا پاٹ کرنے پر دھیان دیں۔ کشمیرکی

Read more

ہماری زمین کی تباہی

اس وسیع وعریض کائنات کی وسعت انسانی عقل کو دنگ کیے ہوئے ہے، جس کا حیرت انگیز توازن اور اس کے حوالے سے سامنے آنے والے حیرت انگیز حقائق اس کے خالق کی عظمت کے سامنے ہمارا سر جھکا دیتے ہیں اور اس کے ساتھ ہمارا سارا علم، عقل وشعور بھی سربہ سجود ہوجاتے ہیں۔ اس حیرتوں سے بھری کائنات کا سب سے حیران کُن حصہ یہ کرہء ارض ہے جس پر زندگی سانس لیتی ہے۔ جی ہاں، یہ زمین

Read more

پھکڑپن اور بے ہودگی کے کارخانے

جو آواز میرے کانوں کو چھورہی تھی، وہ کس پروگرام کی ہے؟ اَس پر میں کچھ کہہ نہیں سکتی تھی، کیوں کہ وہ آواز دور رکھے ٹیلی ویژن کے ذریعے مجھ تک پہنچ رہی تھی، لیکن ہاں اس آواز پر کان دھرنے کی وجہ کچھ یہ تھی کہ جو لفظ ادا کیے اور جو زبان بولی جارہی تھی وہ قطعاً اس قابل نہیں تھی کہ کسی مہذب اور اخلاقی اقدار پر یقین رکھنے والے گھرانے میں یہ پروگرام دیکھا جاسکے۔

Read more

ہم انتہاؤں میں الجھ گئے ہیں

شور ہر طرف سنائی دے رہا ہے کہیں آزادی کے حق میں نعرے لگائے جارہے ہیں کہیں آزادی پر قدغن لگانے کی بات ہو رہی ہے۔ سیکولرازم کو معاشرے اور ریاست کی سطح پر نافذ کرنے کے لیے لبرل ازم کے راستے کو اپنایا جاتا ہے۔ لبرل ازم میں شخصی آزادی کا پہلو سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ یہاں مذہب کے پیروکار یہ تصور کرتے ہیں (ہوشیار! مذہب سے مراد فقط مذہب ِاسلام نہیں ہے تمام مذاہب کی بات کی

Read more