پاکستان میں ہم جنس پرست لڑکیوں کی سرگرمیاں

”میں آپ کے شو دیکھتی ہوں ٹی وی پر“
”اچھا، شکریہ“
جواب دے کر میں اپنی خریداری میں پھر مصروف ہوگئی۔
”میں سوشل میڈیا پر بھی آپ کو فالو کرتی ہوں۔ آپ کا گیٹ اپ مجھے بہت اپیل کرتا ہے۔ “
وہ ایک بار پھر مجھ سے مخاطب ہوئی۔ میں نے مسکرا کر اسے دیکھا۔ اس کی عمر چھبیس ستائیس کے قریب ہوگی، میں جس شاپنگ سینٹر میں موجود تھی وہ کراچی کے ایک پوش علاقے میں واقع ہے۔ میں کاسمٹکس خرید رہی تھی، لہٰذا غور سے ہر چیز پر لکھی تحریر پڑھتی جارہی تھی۔ اتنے میں وہ اچانک میرے قریب آکر مخاطب ہوگئی۔ اس کا لباس کافی ماڈرن تھا۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اس نے بڑی مشکل سے خود کو لباس میں پھنسا رکھا تھا، ایسے میں اس کا کہنا کہ آپ کا گیٹ اپ مجھے اپیل کرتا ہے، میرے لیے حیرت کی بات تھی۔

Read more

جبری گمشدگیاں؛ آئین اور قانون کی پابندی ضروری ہے

ملک کا آئین ہر شہری کے حقوق کا ضامن ہوتا ہے اور پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 9 اس چیز کا ضامن ہے کہ وہ اپنے زندگی قانونی دائرے میں رہتے ہوئے مکمل آزادی سے گزار سکتا ہے جبکہ آرٹیکل 10 آئین پاکستان کا کہتا ہے کہ کسی بھی شہری کو بغیر کسی وجہ کے…

Read more

این آر او کا راستہ صاف کیا جا رہا ہے

این آر او کے کالعدم قانون پر سب سے زیادہ تسلی پاکستانی عوام کو اس بات پر ہوتی ہے کہ یہ کم از کم خالص میڈ ان پاکستان قانون بنایا گیا۔ باضمیر دانش ور گلہ پھاڑ پھاڑ کر چلاتے رہے کہ این آر او کا چور راستہ دنیا کی تاریخ میں کبھی نہیں اپنایا گیا جسے ہمارے قابل پاکستانی سیاست دان اختیار کرنے میں سب سے زیادہ سکون و عافیت سمجھتے ہیں، لیکن دھت ترے کی، اس معاملے میں بھی ہم پیچھے رہ گئے۔ دراصل این آر او بھی مغرب کی ہی ایجاد ہے۔

یہ مفاہمت کا ہتھکنڈہ جنوبی افریقا کی سیاست سے مستعار لیا گیا ہے، جس میں سیاہ فام حکومت نے سابق گورے حکم رانوں کے ظلم معاف کردیے۔ جنرل پرویز مشرف بھی بظاہر اپنے آپ کو صلح کا دیوتا منوانے کا کھیل کھیلتے ہوئے اُس وقت اپنے خلاف ملکی اور بین الا اقوامی سیاسی منجھدار سے اپنی کشتی سے نکالنے کے چکر میں بینظیر بھٹو صاحبہ کو ملکی سیاست میں واپس لانا چاہتے تھے

Read more

جب مائیں بچوں کو قتل کرنے لگیں

ساحلِ سمندر پر جانا میرے لئے بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی مزار پر عقیدت سے سر جھکانا۔ صبح سے شام ہوتی ہے تھکن سے چور جسم سمندر کی لہروں کو دیکھ کر ایک عجیب روحانی سکون پاتا ہے۔ اور کم و بیش انسانوں کے اس جنگل جسے ہم کراچی کہتے ہیں میں رہنے والے…

Read more

نوماہ، تین بجٹ اور عوام

حکمران اتنے فاسٹ ہیں کہ نو ماہ میں تین ڈیلوریاں کردی پہلے بجٹ ڈیلوری اپریل میں 2018 / 2019 کے بجٹ کی صورت میں مسلم لیگ نون نے کی اس مہنگائی کے دور میں ابھی عوام اس نومولود کو سنبھالنے میں رات دن ایک کر رہے تھے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے ستمبر 2018 میں منی بجٹ کی صورت میں عوام کی گود میں ایک اور مہنگائی کا چننا ڈال دیا بات یہاں ختم ہو جاتی تو بھی خیر تھی 23 جنوری کو ایک نیا مننا آگیا اور اس کا نام ریفارمز پیکچ بھی رکھ دیا۔ خیر یہ اچھا ہے کہ نام خود ہی رکھ لیا ورنہ ایسی ان وانٹڈ کنڈیشنر کو عوام لعنت خباثت اور اور ۔ ۔ ۔  یار جانے دیں نا گفتنی ہے جیسے اعلی ناموں سے پکارتے ہیں۔

پاکستان کے لاکھوں عوام گذشتہ ستر برس سے ایسی قیادت کو ترس رہے ہیں جو ان کے مسائل کا مداوا کرسکے لیکن لگتا ہے کہ اب تک جو بھی تجربات ہوئے ہیں اس میں کبھی بھی غریب عوام اوران کے مسائل، ترجیحات میں شامل نہیں رہے ہیں فوجی ہو یا سویلین حکمران ان سب نے ہی کسی نہ کسی شکل میں عوام کو لوٹا ہے اور ایسی پالیسیاں بنائیں جس کے باعث ان کی زندگی جہنم سے قریب تر ہوتی جارہی ہے اوریوں ہر جانے والا حکمران پہلے سے بہتر دکھائی دینے لگتا ہے۔

Read more

بدصورتی کی کشش – میری ڈائری سے

معاشرے کی بدصورتی پر لکھو تو ذات پر وہ کیچڑ اچھالا جاتا ہے کہ اپنے آپ سے بو آنے لگے۔ بالکل ایسے کہ جیسے چہرہ مسخ ہو اور آئینہ پہچانے سے انکار کردے۔ پر عورت تو ہے ہی فتنہ اور اس کا قلم اس سے بڑا فتنہ۔ آزادی کا شعور اگر ایک قلم کار عورت میں آگیا تو بڑے ترقی یافتہ اذہان جو سامنے واہ واہ کے پل باندھتے نہیں تھکتے، وہ بھی خوف کھانے لگے ہیں کہ کہیں اس کے لفظوں کا سایہ ہمارے گھر ہی اثرات نہ چھوڑ جائے، کہیں ہماری بیٹی بیوی، محبوبہ ترقی کا راگ الاپتی ہوئی ہمارے ہاتھوں سے نکل گئیں، پھر کیا ہو گا۔

سو چوری چوری کہتے ہیں ”بی بی بات تو آپ کی سو ٹکا درست ہے، لیکن احتیاط سے آپ کے آگے بھی بچیاں ہیں اب زنانیوں کو وہ پاٹ بھی ناں پڑھائیں کہ ہماری آزادی سلب ہوجائے۔ “
ہیں ں ں ں ں ں کیسی آزادی؟

”بس ہوتے ہیں کچھ معاملات زندگی کے۔ اب مرد کھل کر تو نہیں بولے گا ناں۔ “
ہاں جیسے آپ ابھی پرائیویٹ پیغام کی صورت میں ایک زنانی کو لفظوں کا خوف دلاکر اپنی پوری مردانگی ظاہر کرنے میں جتے ہوئے ہیں۔ یہی آزادی نا؟

”سیکچول موضوعات، ہراساں کرنا، بچوں کے ساتھ زیادتی، لڑکوں کے ساتھ بدفعلی، کسی معاشرے میں اسلام کا نام استعمال کرتے ہوئے خواتین کا استحصال، نوجوان لڑکیوں کو من پسند شوہر کا انتخاب کرنے کی آزادی۔ یہ موضوع خواتین کے لکھنے کے قابل نہیں۔ صرف آپ سانس نہیں لیتیں یقیناً آپ کے بچے بھی ہیں، ان کو آگے چل کر آپ کے لفظوں کا طعنہ ملے گا پھر کیا جواب دیں گی آپ۔ وہ دیکھا آپ نے خواتین کی ہم جنس پرستی پر لکھی گئی آپ کی تحریر پر کیسے ٹھٹھا ہوا۔

Read more

آپ کا کیا ہوگا جنابِ عالی؟زرداری صاحب ذرا بچ کے

کیا کہا سونامی؟ جی ہاں آچکا۔ نہیں اس سونامی سے مراد عمران خان صاحب کا اقتدار میں آنا نہیں۔ قصہ مختصر یہ ہے کہ پاکستان اس وقت سیاسی سونامی کی لپٹ میں ہے جو تمام سیاسی جماعتوں کی مرکزی قیادت کو بہاکر لے جائے گا۔ پی ٹی آئی کی حکومت کا عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کی…

Read more

صحافیوں کی غیر منصفانہ برطرفیاں، پسِ پردہ حقائق کیا ہیں

ملک میں ”تبدیلی حکومت“ کے ساتھ جہاں سب کچھ تبدیل ہوا وہاں میڈیا انڈسٹری کے حالات میں بھی تبدیلی رونما ہوئی۔ مشرف دور میں کھمبیوں کی طرح اُگنے والے نیوز چینلزکوخوش آمدید کہا گیا۔ لیکن پھر مشرف کے خلاف چلنے والی تحریک اور اس میں میڈیا کا کردارکسی سے ڈھکاچھپانہیں ہے۔ شاید اس وقت ہی اسٹیبلیشمنٹ نے فیصلہ کرلیا تھا کہ اب میڈیا کو مزید آزادی دینے کی ضرورت نہیں۔ لیکن نواز شریف اور زرداری کی حکومتوں کے باعث بعض نئے چینلز کی آمد اور کچھ کا بند ہونے کا سلسلہ جاری رہا۔ دوہزارآٹھ کے انتخابات اور میڈیا ہاؤسز کی پالیسی کی واضح تقسیم کے بعدیہ طے کرلیا گیاتھا کہ اب میڈیا ہاؤسز کی ضرورت نہیں ہے وجہ صاف تھی کہ کافی کام تو اعلی عدلیہ سے ہی نکال لیا جائے گا۔

Read more

کراچی کا سیاسی وارث کون؟ ہے کوئی؟

کراچی کی سیاست ہمیشہ سے ہی مزاحمتی اور پاکستان کے دوسروں میٹروپولٹن شہروں سے الگ رہی۔ ایوب خان ا ور ضیاء الحق کی آمرانہ حکومتوں کے خلاف جدوجہد میں قائدانہ کردار رہا۔ لیکن شہر میں لسانی اور فرقہ ورانہ تقسیم کو بھرپور انداز میں سیاسی طریقے سے استعمال کیا اور شہر کی ترقی کو الٹا گئیر لگادیا گیا۔ شہر کی تباہی کی ایک لمبی کہانی ہے۔ لیکن آج بات ہے 2018 کے عام انتخابات اور ایم کیو ایم لندن کی سیاست سے چھٹی کے بعد کراچی کی جب سیاست کا ایک نیا چہرہ سامنے آیا ہے۔

Read more

اسرائیل کی طرف سے حماس کے کمانڈروں کی ٹارگٹ کلنک کا سلسلہ

غزہ کی چھوٹی سی پٹی اور اس پر بسنے والے چند لاکھ افراد ہر کچھ عرصہ بعد آگ اور خون میں نہا جاتے ہیں۔ انسانیت کی بھیانک تصویر پیش کرتے فلسطینیوں کے درندہ صفت دشمن اپنے نوکیلے ناخنوں سے لاشے تک نوچ لیتے ہیں۔ غزہ میں رواں سال تین مارچ سے شروع ہونے والے مظاہروں میں اب تک ایک سو بارہ فلسطینی شہید اور تقریباً تیرہ ہزار زخمی ہوئے ہیں اور ان میں شہید ہونے والے تیرہ، اور زخمی ہونے والے اکیس سو بچے ہیں۔ یہ ہلاکتیں زیادہ تر سرحد پر ان کی جانب سے آبائی علاقوں میں لوٹنے کے حق کے لیے کیے جانے والے احتجاج کی وجہ سے کی جا رہی ہیں۔ صہیونیت کی ڈائن، مادر شکم میں سانس لیتے بچوں کو بھی چبا جاتی ہے۔ ایسے حالت میں ہماری قومی اسمبلی میں دبے لفظوں میں اسرائیل کے حق میں بیان آنا شرمناک ہے۔

اسرائیل کی حالیہ وحشیانہ کارروائیوں میں خاص طور پر حماس کے کمانڈروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ حالیہ مہینوں اسرائیلی فوج کی حماس اور حماس کی ذیلی تنظیموں کے درمیان میں دوطرفہ کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔

Read more