نیب نے نواز شریف کو ٹھیک سزا تو سنائی ہے
نیب کا قانون یہی ہے نا کہ وزیراعظم کے رشتے داروں کی دوسرے ملک میں ایسی جائیداد نکلے جس کی منی ٹریل نہ ہو تو ذمہ دار وزیراعظم ہوتا ہے اور اس کی کرپشن میں کوئی شبہ نہیں رہتا۔ نیب کا قانون بالکل واضح ہے کہ اگر عوامی عہدے پر فائز کسی شخص بشمول وزیر اعظم کے اگر کسی رشتے دار کے نام پر کوئی نامی یا بے نامی جائیداد ہو، خواہ ایسی جائیداد پاکستان میں ہو یا باہر، جس کی قانونی کے مطابق ادائیگی کی وہ کوئی قابل قبول وضاحت پیش نہ کر سکے، تو اسے کرپشن شمار کیا جائے گا اور اس پر چودہ برس تک قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔ ایسی جائیداد کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس شخص کے ذرائع آمدنی سے مطابقت رکھتی ہو ورنہ وہ کرپشن کا نتیجہ قرار دے کر ضبط کی جا سکتی ہے۔
قانون یہی ہے تو نواز شریف کو بالکل ٹھیک نا اہل کیا گیا ہے۔ اس پر کیوں شور مچایا جا رہا ہے؟ اب وہ لاکھ کہیں کہ میرے بچوں کو کیا خود مجھے بھی ابا جی کے کاروبار سے وظیفہ ملا کرتا تھا اور وہ اربوں کے کاروبار کے مالک تھے جس سے میرا تعلق نہیں رہا، لیکن حقیقت تو یہی ہے کہ جائیداد وزیراعظم کے بچوں کے نام پر ہے۔ اب کسی غیر ملک میں پاکستانی وزیراعظم کے رشتے داروں کے نام پر جائیداد ہو، اور وہ رشتے دار کوئی قانونی طور پر ثابت شدہ کام دھندا نہ کرتے ہوں، تو ظاہر ہے کہ یہ جائیداد کرپشن کا نتیجہ ہی ہو گی۔
جہاں تک ان رشتے داروں کا یہ دعوی ہے کہ جی ہم نے تو ادھر باہر کوئی کاروبار کیا تھا اور اس کے منافع سے جائیداد خریدی ہے، تو اس کاروبار کا ثبوت تو دیں۔ اس کاروبار کے لیے پیسہ کہاں سے آیا تھا؟ کیا وہ کاروبار اب بھی جاری ہے اور انکم ٹیکس ریٹرن میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے؟ کیا ہر سال اس نامعلوم کاروبار سے مزید جائیدادیں پیدا ہوتی رہیں گی؟ کیا اس کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ٹیکس ریٹرن میں ذکر نہیں ہو گا؟
اب ایون فیلڈ میں نواز شریف پر نیب نے بالکل ٹھیک الزام لگائے ہیں جن پر سزا ہوئی ہے۔ نیب نے کہا ہے کہ ”ملزم میاں محمد نواز شریف عوامی عہدے پر فائز تھے اور ان کے اہل خانہ بیرون ملک کے فلیٹوں کے مالک و قابض ہیں اور یہ فلیٹس کئی برس سے ان کے اور ان کے اہل خانہ کے قبضہ میں ہیں۔ مذکورہ جائیداد کی خریداری کے لئے سرمائے کا ذریعہ بننے والے کاروبار کی ملکیت کا جواز درست نہیں۔ ملزم میاں محمد نواز شریف، مریم نواز اور مفرور ملزمان حسین نواز اور حسن نواز مذکورہ جائیداد کی خریداری کے ذرائع بتانے میں ناکام رہے۔ “
اب ظاہر ہے کہ وزیراعظم کے اہل خانہ اگر اس طرح بیرون ملک جائیداد خریدتے ہیں اور ان کے کوئی معلوم ذرائع آمدنی نہیں ہیں تو نیب نے ان کو بخشنا تو نہیں ہے۔ یہ کہنا تو کافی نہیں ہے کہ جی ہمارا جدی پشتی کاروبار ہے یا نیا کاروبار شروع کیا تھا۔ کاروبار شروع کیا تھا تو پیسہ کہاں سے آیا جس سے کروڑوں کی آمدنی ہوئی؟ کون پارٹنر تھا؟ پیسہ کرپشن کا نہیں تھا تو رسیدیں نکالیں۔ نیب عدالت کے اس بے مثال فیصلے کے بعد اب ہر وزیراعظم کو اپنے رشتے داروں کے کاروباروں، جائیدادوں اور ان کے نتیجے میں ثابت ہونے والی کرپشن اور نا اہلی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کچھ کو جلد، کچھ کو دیر سے۔


