داتا صاحب کے رنگ

(داتا صاحب کے عرس کے حوالے سے میری خصوصی تحریر)

میں گورنمنٹ کالج کے نیو ہاسٹل میں رہتا ہوں۔ نیو ہاسٹل کے شرقی کمروں میں سے درمیان والا کمرہ میرا ہے۔ کمرہ نمبر 98۔ میرے کمرے کی کھڑکی لوئر مال روڈ پر کھلتی ہے جہاں سے میں ہر وقت گورنمنٹ کالج کی زیارت بھی کر سکتا ہوں اور میٹرو بس کا دیدار بھی۔ ایک طرف ناصر باغ پھیلا ہوا ہے اور دوسری طرف سے کچہری کی بدبودار دیواروں کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔ دن کو تو خیر یونیورسٹی ہوتا ہوں مگر رات کو بڑی مالدار گاڑیوں کی گھن گرج سے ذہن میں ایک شور سا برپا رہتا ہے۔

ذرا سا کوئی ٹائر پھٹے یا کوئی ہنگامی صورتحال ہو، مجھے سب سے پہلے خبر ہوتی ہے اور میری خواہش بھی یہی ہوتی ہے کہ دنیا میں کوئی بھی کام ہو سب سے پہلے مجھے ہی خبر ہو۔ اسی لیے مجھے لاہور کے عین مرکز میں واقع جگہ پر قیام کی سہولت میسر ہے۔ اسے کچہری چوک کہتے ہیں اور یہ بہت خطرناک ہے کیونکہ چاروں طرف سے گاڑیوں کا ایک سیلاب امنڈ آتا ہے اور پیدل چلنے والوں کے لیے زیبرا کراسنگ بھی نہیں حالانکہ ساتھ گورنمنٹ کالج، سلیم ماڈل اور سنٹرل ماڈل ہائی سکول جیسے اعلی تعلیمی ادارے اور بے تحاشا ہاسٹلز ہیں۔

لہذا اس چوک میں گاڑیوں کے شور سے مجھے مرکزی شہر کی صورتحال سے آگاہی رہتی ہے مثلاً پل بھر کے لیے شور کم ہوا تو کھڑکی سے دیکھنے پر معلوم ہوا کہ آگے رستہ بند کر دیا گیا کیونکہ آگے گامے شاہ اور داتا دربار جیسے اہم مقامات ہیں یا پھر یک دم ایمبولینسز کی تعداد بڑھنے سے کسی حادثے کی اطلاع ملتی ہے۔ نیند سے بیدار ہوتے ہی اگر شور زیادہ ہو تو اس کا مطلب ہے دن چڑھ چکا اور اگر کم ہو تو گویا فجر کا وقت ہے۔

پچھلے کچھ دنوں سے یہاں عجب رنگ دیکھنے کو ملے۔ گاڑیوں کے شور کو ڈھول کی تھاپ نے مدہم کر ڈالا۔ داتا صاحب کی طرف جانے والی سڑکیں کنٹینرز رکھ کر بند کر دی گئیں اور سکیورٹی کا زبردست حصار قائم کر دیا گیا۔ لوگ لڈیاں ڈالتے، کھاتے پیتے، ناچتے گاتے، داتا جی کے راگ الاپتے چلے جا رہے ہیں۔ جگہ جگہ دودھ، شربت کی سبیلیں اور طرح طرح کے لنگر سجے ہیں۔ مصطفے ویلفئیر ٹرسٹ کی طرف سے لگائے گئے مصطفائی لنگر کے زبردست اور صاف ستھرے انتظامات نے دل موہ لیا۔

ملک میں آئینی بحران اور سیاست میں بھونچال کی کیفیت ہے مگر زندہ دل لاہوریے ہر طرح کی فکر سے آزاد داتا صاحب کے نغمے گاتے سرمست ہواؤں میں رقص کناں ہیں۔ ذات پات، برادری، نسل اور کلاس سسٹم کی تفریق سے بالاتر چھوٹے بڑے، بوڑھے اور جوان کھنچے چلے آتے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے اسرافیل نے صور پھونک دیا ہو اور مخلوقِ خدا حشر بپا ہوتا دیکھنے کی جلدی میں ہے۔ لوگ سڑکوں پر ہی چلتے پھرتے طرح طرح کی چیزیں کھا رہے ہیں۔

بڑی بڑی جیپوں اور کاروں میں بیٹھے لوگ بنا دیکھے اور بغیر کسی جھجھک کے تقسیم کیے چلے جاتے ہیں۔ فٹ پاتھوں پر کھلے آسمان تھلے سونے والے پیٹ بھر کر کھانا کھا رہے تھے بلکہ میں نے تو جب بھی دیکھا، کھائے چلے جا رہے تھے۔ شاید وہ بھوک کو جڑ سے مٹانا چاہ رہے تھے۔ نصرت کی قوالیوں اور سموگ نے لاہور کی فضا میں رومانس کی کیفیت جما رکھی تھی۔ گویا ہر طرف عید کا سماں تھا۔ ایک ٹولی ڈھول بجاتی گزری تو ساتھ ہی دوسری، دوسری گزری نہیں کہ تیسری اور اسی طرح چوتھی۔

الغرض سارا دن دنیا جہان کی فکروں سے آزاد یہ لوگ ایک ان دیکھی خوشی سے سرشار تھے۔ ہمارے میس ملازمین مستعدی سے کھانا پیش کر رہے تھے، انہیں بھی بس یہی جلدی تھی کہ کسی طرح یہاں سے فارغ ہوں اور عرس کی تقریبات میں شامل ہوں۔ مجھے بڑی خوشگوار حیرت ہوئی جب تمام فرقوں کے لوگ لنگر لینے کی قطاروں میں برابری میں کھڑے تھے اور حیرت کے جھٹکے تو تب لگے جب مختلف مکاتبِ فکر کے لوگوں کو لنگر تقسیم کرنے والی گاڑیوں میں لنگر تقسیم کرتے دیکھا۔

یہ بھی اللہ کے رنگ ہیں کہ ایک بزرگ کی یاد میں سب مسلمان اکٹھے کھڑے ہو گئے۔ میں پاکستان ریڈ کریسنٹ کی ٹیم کے ساتھ رضاکار کے طور پہ تھا کہ ہماری ایمبولینس کے پاس بھی لنگر دینے والے آ گئے۔ عجب بات ہے کوئی دیتے ہوئے اوپر نہیں دیکھتا، ایک دفعہ مانگ کے دوسری دفعہ مانگو، تیسری دفعہ مانگو، کوئی برا بھلا نہیں کہتا، خاموشی سے اپنا سا چہرہ لیے یوں کھانا بانٹتے چلے جا رہے ہیں جیسے یہ انسان نہیں رزق بانٹنے والے خدائی فرشتے ہوں۔ خیر میرے ہاتھ بھی لنگر لگا، سائنس کا طالب علم ہونے کے باعث تھوڑی سی ہچکچاہٹ کا شکار ہونا میرا فطری ردِ عمل تھا مگر جب میں نے دماغ کے ان احتجاج کرتے حصوں پہ قابو پایا تو کیا دیکھتا ہوں صاف ستھرا اور انتہائی لذیذ لنگر، تھوڑا سا کھانے پر میرا پیٹ بھر گیا۔

اب کی بار تو میرے حالات بہت اچھے ہیں، سٹوڈنٹ ہونے کے باوجود آخری دنوں تک پیسوں کی ریل پیل رہتی ہے مگر 2015 ء میں جب ابھی میرا داخلہ نیو ہاسٹل میں نہیں ہوا تھا تو میں سنت نگر میں رہا کرتا تھا۔ وہاں بڑے اخراجات تھے، صبح، دوپہر، شام کھانے اور چائے کے بل ادا کرنے پڑتے تھے اور یونیورسٹی سے آنے جانے کا کرایہ الگ سے۔ تب بھی داتا صاحب کا عرس ہوا تھا اور اس وقت جو مسرت کا عالم تھا، ناقابلِ بیان ہے۔ ہر وقت مفت کا معیاری کھانا دستیاب رہتا۔

سنت نگر، کرشن نگر اور گردونواح کے لوگ اسی عقیدت اور محبت کے جذبے سے سرشار ہوا کرتے تھے جس کا نظارہ میں نے اس دفعہ بھی کیا۔ لاہوریوں کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ ہمیشہ خوش رہتے ہیں اور ہر موقعے کو بھرپور انداز میں مناتے ہیں۔ لاہوریوں میں صرف والڈ سٹی کے لوگ ہی شامل نہیں ہوتے بلکہ ہر خطے اور ہر علاقے سے آنے والے لوگ لاہور میں داخل ہوتے ہیں لاہوریوں کے رنگ میں رنگے جاتے ہیں۔

برصغیر کے قدیم باشندے ازل سے ناچ گانے اور موسیقی کے دلدادہ ہیں اور ان کے جینوم اس طرح کے ہیں کہ چاہے جتنے بھی مہذب بن جائیں، جہاں کہیں موسیقی یا ڈھول کی تاپ سنیں گے، رقص کرنے لگیں گے۔ اسی لیے جب یہاں اسلام کی آمد ہوئی تو ذات پات میں بٹے لوگ بزرگانِ دین کا محبت کا درس لینے ان کے پاس دوڑے چلے آئے۔ پھر آہستہ آہستہ جب دیکھا گیا کہ یہ لوگ موسیقی پر اکٹھے کیے جا سکتے ہیں تو بزرگوں نے قوالی جیسی بدعتِ حسنہ کا آغاز کر کے انہیں موسیقی سننے کا جواز دیا۔

اسی طرح موسیقی کو آلہءِ کار کے طور پر استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو اکٹھا کیا جاتا اور پھر اسلام کی تعلیمات ان کے گوش گزار کی جاتیں۔ بعد میں آنے والے اولیاءاللہ نے اپنے شیریں کلام کے ذریعے اسی رغبت کو بڑھانے کا اہتمام کیا۔ امیر خسرو کا کلام ہو یا غلام فرید کی ملتانی کافیاں، شاہ عبدالطیف بھٹائی کی پرتلذذ شاعری ہو یا پھر سلطان باہو اور بابا بلھے شاہ کا دل چھو لینے والا کلام، برصغیر کے لوگوں کے لیے سونے پر سہاگہ ثابت ہوا۔

انہوں نے اپنے باپ دادا کے مذہب چھوڑے اور دینِ اسلام پر ایسے نافذ ہوئے کہ پھر قادیان سے اٹھنے والا فتنہ بھی ان کا کچھ نہ بگاڑ سکا۔ جب قادیان سے فتنہ برپا ہوا تو حضرت پیر سید مہر علی شاہ رح اس کے خلاف سینہ سِپر ہو گئے۔ اسی طرح ہر دور میں اٹھنے والے شر کے خلاف اس دور کے بزرگوں نے سیسہ پلائی دیوار کا کام کیا اور امتِ مسلمہ کو پیار، محبت اور امن کا درس دیتے رہے۔ یہ تو انگریزوں نے آ کر ایسی کاری ضرب لگائی کہ ہزار سال کی تہذیب کا پانسہ ہی پلٹ کر رکھ دیا۔

انگریزی زبان لاگو کرنے سے ہندوستانی اقوام نہ صرف تاحیات غلامی کا شکار ہوئیں بلکہ ہزارہا سال کے ادب اور آرٹ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محروم بھی ہو گئیں۔ جو لوگ فرنگیوں سے پہلے کے دور کو دورِ جہالت سے تعبیر کرتے ہیں، انہیں سوچنا چاہیے کہ کیا 635 ریاستوں کو یکجا رکھنا اور ایک ہزار سال تک ان پر حکمرانی کرنا جاہلوں کا کام ہے، خود تو انہوں نے سو سال بھی بمشکل پورے کیے۔ پورے برصغیر میں سڑکوں کے جال بچھانے والے شیر شاہ سوری کے نقشے اس قدر عمدہ تھے کہ انگریزوں نے بھی انہیں تبدیل کرنے سے گریز کیا۔ مری کی پہاڑیوں پر سے گزر کر کشمیر تک جانے والی سڑک بھی شیر شاہ سوری کا ہی کارنامہ ہے۔

بہرحال آریاؤں کے پیدا کردہ طبقاتی نظام کو بری طرح شکست دینے والے بزرگانِ اسلام کے پیغامِ امن و محبت نے یہاں کے باسیوں کے دلوں میں گھر کر لیا اور وہ نسل در نسل وہی پیغامِ امن و محبت لیے شادمانی کے ساتھ ہر سال دور دراز علاقوں سے اس مرکزِ امن و محبت کی طرف ننگے پاؤں چل کر آنے کو بھی تیار رہتے ہیں۔ برصغیر کے قدیم دراوڑی باشندوں پر جب وسط ایشیاء سے آئے آریاؤں نے برہمن زادوں کا راج قائم کر کے معاشرے میں ذات پات اور نسل برادری کے نظام کو ترویج دی تو سب سے پہلے مہاتما بدھ نے اس تفریق کے خلاف سب سے موثر آواز بلند کی۔

نتیجہ کیا ہوا برہمنوں نے بدھوں کو ایسے مار بھگایا کہ کوئی تبت جا بسا تو کوئی برما میں۔ اس کے بعد اسلام نے پوری طاقت سے اس طبقاتی نظام کو جھنجھوڑا تو وہی برہمن زادے اس کے دشمن بن گئے۔ اب وہ مسلمانوں کو بھی بدھ سمجھے بیٹھے ہیں مگر جب تک برصغیر پاک و ہند میں بزرگانِ دین کے ہاں اس طرح کی تقاریب منعقد ہوتی رہیں گی کہ جہاں رنگ، نسل، ذات پات اور برادری کی تفریق کے بغیر لوگ آتے ہیں، تو وہ اپنے مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔

ہند میں موجود حضرت نظام الدین اولیاء رح ہوں یا اجمیر شریف میں خواجہ معین الدین چشتی رح، سندھ میں لعل شہباز قلندر ہوں یا لاہور میں داتا صاحب، لوگ بلا تفریقِ مذہب و فرقہ آپس میں ملتے جلتے رہیں گے اور اکٹھے بیٹھ کر کھاتے پیتے رہیں گے۔ یہی ہماری تہذیب تھی یہی ہماری ثقافت تھی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہم اپنی ہی ثقافت کا نظارہ سال میں کبھی کبھی کرتے ہیں۔

گنج بخشِ فیضِ عالم مظہرِ نورِ خدا
ناقصاں را پیرِ کامل، کاملاں را راہنما

Comments - User is solely responsible for his/her words