ثقافت، تہذیب، کلچر میں سے کوئی دائمی نہیں

یہ دنیا کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ زمین کا یہ گولہ جس تیزی کے ساتھ دو تین مداروں میں گھوم رہا ہے اسی تیزی سے تغیر کا پہیہ بھی حرکت میں ہے۔ یہاں رواج بدلتے ہیں رسمیں ختم ہوتی ہیں، نئی جنم لیتی ہیں۔ ہر آنے والی تبدیلی پچھلی صورتحال پر اثرانداز ہوتی ہے اور اس تبدیلی کے خلاف مزاحمت بھی ہوتی ہے جو ظاہری سی بات ہے، ایک مخصوص دورانیے کے بعد ختم ہونا ہی ہوتی ہے۔ کیونکہ تغیر نے اپنا جھنڈا سربلند رکھنا ہی ہوتا ہے۔

Read more

آغا سلمان باقر کے ساتھ مکالماتی نشست

استاذِ مکرم ڈاکٹر سفیر حیدر نے جب سے مجلسِ اقبال کا بیڑہ اٹھایا ہے، مجلس سے وابستہ لوگوں میں نئی تازگی اور نئے ولولے کا سا احساس ابھر آیا ہے۔ گو کہ حلقہ اربابِ ذوق جیسے نامور ادبی اکٹھ کا آغاز بھی مجلسِ اقبال کی تنقیدی نشستوں کی روایات کو دیکھتے ہی ہوا تھا اور…

Read more

ریڈ کراس کی دوروزہ ہیومینیڑین بلاگنگ ورکشاپ

وطن عزیز کی تاریخ میں پہلی مرتبہ انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کے تعاون سے سنٹر آف ایکسیلینس اِن جرنلزم IBA کراچی میں ہیومینٹیرین بلاگنگ کے حوالے سے دو روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر سے چیدہ چیدہ بلاگرز اورڈیجیٹل رپورٹرز کو مدعو کیا گیا۔ اس ورکشاپ کا بنیادی مقصدنمائندہ لکھاریوں کی توجہ انسانی مسائل اوران کے حل کی جانب مبذول کرانا تھا۔ اس مقصد کے حصول کے لئے انٹر نیشنل کمیٹی آ ف ریڈ کراس کے نمائندے فرنود عالم، رمشہ قریشی اور یٰسین کامران مستعدی کے ساتھ دونوں دن کام کرتے نظر آئے۔

Read more

سندھ یاترا – مکلی کا قبرستان

ان کے دور کی اپنی چھاپ ان کے مقبروں پر نظر آتی ہے۔ ترخانوں کے بعد اس سرزمین پہ مغلوں کا تسلط قائم ہوا جو 1592 ء سے 1739 ء تک قائم رہا۔ تعمیراتی ڈیزائن اور مقبرہ مصوری مغلیہ دورِ حکومت میں اپنے معراج پہ پہنچے۔ ہر دور کے دانشوروں، اولیا، امرا، راجاؤں اور رانیوں کے مقبروں کو اپنی اپنی شان کے مطابق وسیع اور ہیبت ناک مقبروں میں دفن کیا گیا۔ ترخانوں کے پہلے بادشاہ عیسیٰ خان کا مقبرہ اس قدر بلند و بالا اور فنی اعتبار سے شاہکار ہے کہ دیکھنے والا مرعوب ہوئے بنا نہیں رہ سکتا۔

مقبرہ کیا ہے ایک محل ہے جو اس کی قبر پر تعمیر کیا گیا ہے مگر اس کی قبر تک جانے کا کوئی رستہ نہیں ہے۔ یہ سب مقبرے اینٹوں اور پتھروں سے تعمیر کیے گئے ہیں اور اینٹیں بھی ایسی ہیں کہ توڑنے پر شیشے کی کرچیوں کی طرح بکھر جاتی ہیں۔ یہ اب تک کے پاکستان میں فنِ تعمیر اور فنِ خطاطی کے حسین امتزاج کے سب سے بڑے آثار ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق یہاں پانچ لاکھ کے لگ بھگ قبریں ہیں۔ بعض روایات کے مطابق یہ قبرستان چھ مربع میل جبکہ بعض کے مطابق نو مربع میل تک پھیلا ہوا ہے۔

Read more

سندھ یاترا: حاضری مزارِ قائد پہ

رات کے چار بج رہے تھے۔ میں بڑے انہماک سے آلوچے کے چھلکے اتار رہا تھا۔ پہلے آلوچے کا پھل بھورے رنگ کا تھا اور میٹھا تھا مگر دوسرا سبز رنگ اور بے مزہ تھا۔ خدا ہی بہتر جانتا ہے پہلا آلوچہ صحت مند تھا یا دوسرا، میں تو بھئی یہ تجربہ پہلی دفعہ کر رہا تھا۔ بائیس برس بیت گئے، زندگی میں کبھی آلوچہ نہ کھایا، اس بات کا افسوس تب ہوا جب میرے دوست بلال نے کراچی کی پنجاب کالونی اور دہلی کالونی کی سڑکوں پر موٹر سائیکل دوڑاتے ہوئے اس کے فیوض و برکات گنوائے۔ ہم نے اکٹھے کسٹرڈ ایپل بھی کافی تلاش کیا مگر شاید اس کا موسم نکل چکا تھا بہرحال اسی تلاش کے بہانے کراچی کے بہت سے علاقوں کی سیر ہو گئی۔

پچھلی رات کی بات ہے بلال میاں ہمیں گرینڈ پورٹ لے گئے، انہیں وہاں افغانی چائے والوں کی کشمیری چائے بہت پسند تھی، میرے لیے بھی وہی کہہ ڈالی، ظالم کو نہیں معلوم تھا کہ کشمیری چائے صنف کے اعتبار سے چائے نہیں ہوتی بلکہ گرم شربت ہوتا ہے۔ میں نے فوراً جا کر آرڈر کینسل کرایا اور کڑک چائے کہی۔ سمندر کنارے چائے کا انتظار کرنے لگے۔ دور نیوی والوں کے بحری جہاز لنگرانداز تھے۔ وہیں کہیں ایک سامان بردار ریل بھی آ دھمکی تھی۔

Read more

کوٹ ڈیجی کا قلعہ

لاڑکانہ میں ہمارے میزبان ڈاکٹر خالد محمود سومرو کے صاحبزادے اور ہمارے رفیقِ خاص شفیق سومرو اور ان کے بڑے بھائی تھے۔ انہوں نے لاڑکانہ اور نواح میں موجود تاریخی و ثقافتی اور مذہبی مقامات کی سیر کے لیے ہمارے لیے خصوصی اہتمام کیا۔ صبح دم ایک گاڑی، ڈرائیور اور دو رہبر مہیا کیے تا…

Read more

سکھر کا لینس ڈاؤن پل

سندھ یاترا کا آغاز تب ہوا جب ہمیں خان پور میں ایک عزیز دوست مرزا حبیب کی بھیجی گئی بریانی سے فراغت ملی، دراصل تب تک سیروسیاحت کی بجائے پیٹ کے لالے پڑے تھے، صبح ہلکا سا ناشتہ کیا تھا اور ٹرین کے سفر میں ہچکولے کھا کھا وہ بھی نجانے کب کا ہضم ہو چکا تھا۔ خان پور سٹیشن پہ جب طعام و حمام سے نپٹ لیے تو جاننے، دیکھنے اور سیکھنے کی حِسّیں متحرک ہو گئیں۔ پنجاب کے آخری علاقوں سے گزرتے ہم سندھ کی حدود میں داخل ہوئے۔

ڈھرکی، گھوٹکی اور خیرپور میتھیلیا سے گزر کر روہڑی جنکشن جا اترے۔ روہڑی جنکشن پاکستان ریلوے کے بڑے اور معروف ریلوے جنکشنز میں شمار ہوتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ جنکشن پہاڑوں اور میدانی علاقوں پہ مشتمل ایک انتہائی خوبصورت لوکیشن پہ واقع ہے مگر یہاں کے پہاڑ عجیب ساخت کے تھے جیسے وہ چونے کے پتھر اور خاص قسم کی مٹی کی چٹانیں ہوں۔ جنکشن کے کسی بلند مقام پہ کھڑے ہو کر دیکھنے سے مختلف نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں جن میں قریب واقع وسیع قبرستان، بلندی پر موجود خوبصورت مساجد، ہلکے پھلکے کاروباری مراکز اور دور پیچھے آسمان کو چھوتا لینس ڈاؤن پُل بمعہ ایوب آرک۔

Read more

داتا صاحب کے رنگ

(داتا صاحب کے عرس کے حوالے سے میری خصوصی تحریر) میں گورنمنٹ کالج کے نیو ہاسٹل میں رہتا ہوں۔ نیو ہاسٹل کے شرقی کمروں میں سے درمیان والا کمرہ میرا ہے۔ کمرہ نمبر 98۔ میرے کمرے کی کھڑکی لوئر مال روڈ پر کھلتی ہے جہاں سے میں ہر وقت گورنمنٹ کالج کی زیارت بھی کر…

Read more

انٹرنیشنل ٹرانسلیشن ڈے

ہر سال 30/ستمبر کو دنیا بھر میں ٹرانسلیشن ڈے منایا جاتا ہے، اس دن مختلف تعلیمی و نشریاتی اداروں میں ترجمہ کی اہمیت و ضرورت کو اجاگر کرنے کے لیے پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں جن میں ترجمہ کی تکنیک و مسائل پر گفتگو کی جاتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر یوم الترجمہ منانے کی…

Read more

قربانی کی کھال کے لئے حفاظتی تدابیر

بڑی عید کی آمد آمد ہے۔ ہر طرف خوشیوں بھرے اس تہوار کے انتظار میں گن گن کر دن گزارے جا رہے ہیں۔ وہ لوگ جو فیکٹریوں میں سارا سارا دن مزدوری کرنے کے باوجود بھی مہینہ مہینہ اپنے بال بچوں کے بھرپور طعام کا بندوبست کرنے سے قاصر رہتے ہیں، اس خوشگوار احساس سے…

Read more