”گُڈ مارننگ پاکستان“۔ روشن پاکستان کا زبردست چہرہ

یہ 2017 ء کی بات ہے جب ہم نے گرمیوں کی چھٹیوں میں ”ہمارا خواب، پڑھا لکھا چکوال“ نامی تنظیم کی بنیاد ڈالی اور چکوال آرٹس کونسل میں پہلے سالانہ کیرئیر کونسلنگ سیمینار کا اہتمام کیا۔ اس روز چکوال آرٹس کونسل کے دو اور مہمانوں نے ہماری اس کاوش کو سراہنے کے لیے ہمارا ساتھ…

Read more

متنوع رنگوں کا سیلانی۔ باونی کا بانی

باونی تاریخ، روایت، لوک کہانیوں، ذاتی کیفیات و واردات، بیابانوں، ساحلوں، جنگلوں، باغوں، دشت وصحراؤں کے احوال اور سفر کی روئیداد کا خوبصورت مرقع ہے جسے سفر سے والہانہ عشق کرنے والے ہر مسافر کے پاس ہر حال میں ہونا چاہیے۔ عرفان شہود مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے سفرانچہ جیسی ایک نئی اور…

Read more

ڈاکٹرز کی زندگی میں انقلاب برپا کر دینے والا سافٹ وئیر

انسٹا کئیر کے متعارف کردہ سافٹ وئیر نے ڈاکٹروں اور خاص کر دندان ساز ڈاکٹروں کے لیے اپنے مصروف ترین شیڈول کو ترتیب دینے اور زیارہ سے زیادہ سہولیات سے استفادہ کرنا آسان تر بنا دیا ہے۔ اب ایک ہی سافٹ وئیر انسٹال کرنے کے بعد ڈاکٹرز اپنے مریضوں کے ساتھ آن لائن رابطہ کر…

Read more

یونیورسٹیوں میں ایم فل کے داخلہ کے لیے جی اے ٹی ٹیسٹ ضروری کیوں؟

گزشتہ ہفتے کی بات ہے، میں ایک معروف جامعہ میں ایم فل کے داخلہ ٹیسٹ کے لیے کمرہ امتحان میں بیٹھا تھا۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن پاکستان سے منظور شدہ تمام جامعات میں ایم فل کے لیے صرف بی ایس آنرز یا ایم اے کی ڈگری کافی نہیں ہوتی بلکہ ایم فل کا داخلہ ٹیسٹ بھی…

Read more

ثقافت، تہذیب، کلچر میں سے کوئی دائمی نہیں

یہ دنیا کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ زمین کا یہ گولہ جس تیزی کے ساتھ دو تین مداروں میں گھوم رہا ہے اسی تیزی سے تغیر کا پہیہ بھی حرکت میں ہے۔ یہاں رواج بدلتے ہیں رسمیں ختم ہوتی ہیں، نئی جنم لیتی ہیں۔ ہر آنے والی تبدیلی پچھلی صورتحال پر اثرانداز ہوتی ہے اور اس تبدیلی کے خلاف مزاحمت بھی ہوتی ہے جو ظاہری سی بات ہے، ایک مخصوص دورانیے کے بعد ختم ہونا ہی ہوتی ہے۔ کیونکہ تغیر نے اپنا جھنڈا سربلند رکھنا ہی ہوتا ہے۔

Read more

آغا سلمان باقر کے ساتھ مکالماتی نشست

استاذِ مکرم ڈاکٹر سفیر حیدر نے جب سے مجلسِ اقبال کا بیڑہ اٹھایا ہے، مجلس سے وابستہ لوگوں میں نئی تازگی اور نئے ولولے کا سا احساس ابھر آیا ہے۔ گو کہ حلقہ اربابِ ذوق جیسے نامور ادبی اکٹھ کا آغاز بھی مجلسِ اقبال کی تنقیدی نشستوں کی روایات کو دیکھتے ہی ہوا تھا اور…

Read more

ریڈ کراس کی دوروزہ ہیومینیڑین بلاگنگ ورکشاپ

وطن عزیز کی تاریخ میں پہلی مرتبہ انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کے تعاون سے سنٹر آف ایکسیلینس اِن جرنلزم IBA کراچی میں ہیومینٹیرین بلاگنگ کے حوالے سے دو روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک بھر سے چیدہ چیدہ بلاگرز اورڈیجیٹل رپورٹرز کو مدعو کیا گیا۔ اس ورکشاپ کا بنیادی مقصدنمائندہ لکھاریوں کی توجہ انسانی مسائل اوران کے حل کی جانب مبذول کرانا تھا۔ اس مقصد کے حصول کے لئے انٹر نیشنل کمیٹی آ ف ریڈ کراس کے نمائندے فرنود عالم، رمشہ قریشی اور یٰسین کامران مستعدی کے ساتھ دونوں دن کام کرتے نظر آئے۔

Read more

سندھ یاترا – مکلی کا قبرستان

ان کے دور کی اپنی چھاپ ان کے مقبروں پر نظر آتی ہے۔ ترخانوں کے بعد اس سرزمین پہ مغلوں کا تسلط قائم ہوا جو 1592 ء سے 1739 ء تک قائم رہا۔ تعمیراتی ڈیزائن اور مقبرہ مصوری مغلیہ دورِ حکومت میں اپنے معراج پہ پہنچے۔ ہر دور کے دانشوروں، اولیا، امرا، راجاؤں اور رانیوں کے مقبروں کو اپنی اپنی شان کے مطابق وسیع اور ہیبت ناک مقبروں میں دفن کیا گیا۔ ترخانوں کے پہلے بادشاہ عیسیٰ خان کا مقبرہ اس قدر بلند و بالا اور فنی اعتبار سے شاہکار ہے کہ دیکھنے والا مرعوب ہوئے بنا نہیں رہ سکتا۔

مقبرہ کیا ہے ایک محل ہے جو اس کی قبر پر تعمیر کیا گیا ہے مگر اس کی قبر تک جانے کا کوئی رستہ نہیں ہے۔ یہ سب مقبرے اینٹوں اور پتھروں سے تعمیر کیے گئے ہیں اور اینٹیں بھی ایسی ہیں کہ توڑنے پر شیشے کی کرچیوں کی طرح بکھر جاتی ہیں۔ یہ اب تک کے پاکستان میں فنِ تعمیر اور فنِ خطاطی کے حسین امتزاج کے سب سے بڑے آثار ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق یہاں پانچ لاکھ کے لگ بھگ قبریں ہیں۔ بعض روایات کے مطابق یہ قبرستان چھ مربع میل جبکہ بعض کے مطابق نو مربع میل تک پھیلا ہوا ہے۔

Read more

سندھ یاترا: حاضری مزارِ قائد پہ

رات کے چار بج رہے تھے۔ میں بڑے انہماک سے آلوچے کے چھلکے اتار رہا تھا۔ پہلے آلوچے کا پھل بھورے رنگ کا تھا اور میٹھا تھا مگر دوسرا سبز رنگ اور بے مزہ تھا۔ خدا ہی بہتر جانتا ہے پہلا آلوچہ صحت مند تھا یا دوسرا، میں تو بھئی یہ تجربہ پہلی دفعہ کر رہا تھا۔ بائیس برس بیت گئے، زندگی میں کبھی آلوچہ نہ کھایا، اس بات کا افسوس تب ہوا جب میرے دوست بلال نے کراچی کی پنجاب کالونی اور دہلی کالونی کی سڑکوں پر موٹر سائیکل دوڑاتے ہوئے اس کے فیوض و برکات گنوائے۔ ہم نے اکٹھے کسٹرڈ ایپل بھی کافی تلاش کیا مگر شاید اس کا موسم نکل چکا تھا بہرحال اسی تلاش کے بہانے کراچی کے بہت سے علاقوں کی سیر ہو گئی۔

پچھلی رات کی بات ہے بلال میاں ہمیں گرینڈ پورٹ لے گئے، انہیں وہاں افغانی چائے والوں کی کشمیری چائے بہت پسند تھی، میرے لیے بھی وہی کہہ ڈالی، ظالم کو نہیں معلوم تھا کہ کشمیری چائے صنف کے اعتبار سے چائے نہیں ہوتی بلکہ گرم شربت ہوتا ہے۔ میں نے فوراً جا کر آرڈر کینسل کرایا اور کڑک چائے کہی۔ سمندر کنارے چائے کا انتظار کرنے لگے۔ دور نیوی والوں کے بحری جہاز لنگرانداز تھے۔ وہیں کہیں ایک سامان بردار ریل بھی آ دھمکی تھی۔

Read more

کوٹ ڈیجی کا قلعہ

لاڑکانہ میں ہمارے میزبان ڈاکٹر خالد محمود سومرو کے صاحبزادے اور ہمارے رفیقِ خاص شفیق سومرو اور ان کے بڑے بھائی تھے۔ انہوں نے لاڑکانہ اور نواح میں موجود تاریخی و ثقافتی اور مذہبی مقامات کی سیر کے لیے ہمارے لیے خصوصی اہتمام کیا۔ صبح دم ایک گاڑی، ڈرائیور اور دو رہبر مہیا کیے تا…

Read more