معذوروں کی خاموش اور اندھیری دنیا میں روشنی کا مینارہ۔ ہیلن کیلر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مہینہ تھا مارچ کا اور سال 1887۔ ہیلن کیلر کو اپنے گھر میں عام دنوں سے زیادہ گہما گہمی محسوس ہو رہی تھی۔ باورچی خانہ سے مزے دار کھانے کی خوشبو آ رہی تھی۔ اس کی ماں نے بھی اچھے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ شاید کوئی آ رہا ہے، کوئی مہمان۔ اتنی دیر میں گھوڑے کے ٹاپوں اور ویگن کے رکنے کی آواز آئی۔ کون آ رہا ہے؟ ہیلن نے سوچا۔ اس کو پتہ نہیں تھا کہ آج آنے والی مہمان اس کی زندگی کا سب سے اہم حصہ بن جائے گی۔ اس کی ٹیچر مس اینی فیس فیلڈ سیلیون جو پرکنسن انسٹی ٹیوشن فار بلائنڈ ان بوسٹن کے ڈائریکٹر کی فرم سے ہیلن کو پڑھانے کے لئے بھیجی گئی تھی۔ چھ سالہ ہیلن جو نابینا ہونے کے ساتھ ساتھ سننے اور بولنے سے بھی معذور تھی۔

ہیلن کیلر 27 جون 1880 کو امریکہ کی ریاست البانہ کیشہر ٹس کیا میں پیدا ہوئی۔ وہ کیپٹن آرتھر اور کیلر کی پہلی بیٹی تھی۔ سنہری بالوں اور نیلی روشن آنکھوں والی ہیلن بہت زیادہ ذہین اور چونچال تھی۔ صرف چھ ماہ کی عمر سے ہی اس نے چھوٹے چھوٹے الفاظ کہنے شروع کر دیے تھے۔ چائے کے لئے ٹی اور پیاسی ہوتی تو پانی کو وا۔ وا۔ (واٹر) کہتی۔ اپنی پہلی سالگرہ پر اس نے چلنا بھی شروع کر دیا تھا۔

فروری 1882 میں ہیلن کو بہت تیز بخار چڑھا جو کافی دنوں رہا۔ بخار کے ساتھ اس کے سر میں شدید درد ہوا جس کی وجہ سے اس کی گردن اکڑ گئی تھی۔ اس کی حالت کافی خراب تھی۔ ڈاکٹر مایوس تھے۔ تب اچانک اس کی طبیعت بہتر ہونے لگی اور بخار اتر گیا۔ ماں باپ بہت خوش تھے۔ لیکن جلد ہی انہیں احساس ہوا کہ ہیلن نہ اب سن سکتی ہے اور نہ ہی دیکھ سکتی ہے۔ پھر جلد ہی ہیلن بولنا بھی بھول گئی۔ اب اس کی دنیا اندھیری اور خاموش تھی۔

اس جیسی ذہین بچی کے لئے یہ بات سخت تکلیف اور بے چینی کا سبب تھی کہ وہ اظہار تک نہیں کر سکتی تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ بے چینی، غصہ اور بدتمیزی میں بدل گئی۔ جو لوگ اس کو سمجھ نہیں سکتے تھے۔ ان کے لئے وہ وحشی جانور تھی۔ لیکن اس کے ماں باپ کو اپنی بیٹی کی اس حالت کی وجہ پتہ تھی۔ وہ اس کی مدد کرنا چاہتے تھے۔ اور یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اس کی تعلیم کا انتظام کرنے کا سوچا۔

یہ وہ زمانہ تھا کہ جب دیکھنے سے معذور بچوں کو گھر والے بوجھ سمجھتے تھے۔ تعلیم تو دور کی بات وہ دوسروں سے اپنے معذور بچوں کو چھپاتے اور شرمسار ہوتے۔ عام طور پر لوگ ایسے بچوں کو گھورتے، رحم کھاتے، ایک طرف دھکیل دیتے یا خوفزدہ ہوتے۔ بہت سے ریسٹورنٹ میں معذور لوگوں کا آنا منع تھا۔ انہیں ڈر تھا کہ ایسے گاھکوں کی وجہ سے ان کی تجارت میں فرق پڑے گا لیکن ہیلن کے والدین کے لئے اپنی معذور بچی کی تعلیم بہت اہم تھی۔

ایک ڈاکٹر نے ہیلن کے والد کو الیگزینڈر گراہم بیل کے پاس جانے کا مشورہ دیا۔ جو ٹیلی فون کے موجد ہونے کی وجہ سے مشہور تھے۔ اور سماعت سے محروم بچوں کو پڑھاتے بھی تھے۔ خود ان کی ماں اور بیوی بھی سننے سے معذور تھیں۔ ہیلن کی عمر اس وقت چھ سال تھی۔ گراہم بیل نے انہیں مائیکل اینگونس کو خط لکھنے کا کہا۔ جو پرکنسن انسٹی ٹیوٹ فار دی بلائنڈ کے سرپرست تھے۔ ہیلن کے والد نے اپنے خط میں ایک ٹیوٹر کی درخواست کی جو ان کی بیٹی کو گھر آ کر پڑھائے۔ ادارے کی طرف سے وہاں کی سابق بیس سالہ اینی سیلیون کو بھیجا گیا۔ جو بچپن میں نابینا ہوتے ہوتے بچی تھی۔ موتیا کے آپریشن کے بعد اس کی بینائی کافی بہتر ہو گئی تھی۔ لیکن وہ اپنے ذاتی تجربہ کی وجہ سے ہیلن کی بے چینی، بدتمیزی اور بدزبانی کو سمجھ سکتی تھی۔

ہیلن کو پڑھاتے ہوئے اینی کو اندازہ ہوا کہ اس کے والدین کی بے جا ہمدردی اور محبت کی وجہ سے ہیلن کی ضد، غصہ اور بدتمیزیوں پر قابو پانا مشکل ہے۔ اس نے اس کے والدین سے درخواست کی کہ اسے ہیلن کیلر کے ساتھ دو، کمرے کے کاٹیج میں رہنے دیا جائے۔ تاکہ وہ کسی فرد کی مداخلت کے بغیر تعلیم و تربیت کر سکے۔ اس طرح ہیلن کو کسی طرفداری کے بغیر اپنے رویہ پر قابو پانے کی عادت ہونے لگی۔ یہ مختصر سا علیحدہ کاٹیج یا گھر دراصل بڑے مکان کا ہی الگ حصہ تھا جہاں رہتے ہوئے ہیلن کو اندازہ ہوا کہ اسے صرف اس لئے من مانی کی اجازت نہیں مل سکتی کہ وہ معذور ہے۔

اینی نے ہیلن کی ہتھیلی پر اپنی انگلیوں کی مختلف شکلوں کی مدد سے چیزوں کے نام کے ہجے کرنا سکھائے۔ وہ پہلے ہیلن کا ہاتھ پکڑ کر اس چیز کو محسوس کرواتی اور پھر اس کی ہتھیلی پر ہجے کرتی۔ گو اپنی ذہانت کی وجہ سے اس نے کئی الفاط سیکھ لئے تھے۔ لیکن یہ اس کے لئے نقالی زیادہ تھی۔ ابھی بھی اسے ہجے کا چیزوں سے تعلق نہیں سمجھ میں آیا تھا۔

ایک دن ماہ اپریل میں جب ہیلن اینی کے ساتھ باہر چہل قدمی کر رہی تھی۔ کچھ ایسا ہوا کہ جس نے ہیلن کی پوری زندگی کو بدل دیا۔ ہینڈ پمپ کے قریب سے گزرتے ہوئے اینی نے ہیلن کا ہاتھ پمپ سے نکلتے ہوئے پانی کے نیچے رکھ دیا اور ساتھ ہی اس کے دوسرے ہاتھ پر لفظ پانی کے ہجے دہراتی رہی۔ اور تب اچانک ہی پہلی بار ہیلن نے اپنے بچپن کے سیکھے ہوئے لفظ وا۔ وا۔ یعنی واٹر کا تعلق اس بہتی ہوئی ٹھنڈی چیز سے کیا۔ ہر چیز کا ایک نام ہوتا ہے۔

اس نے سوچا۔ وہ دن اس کی زندگی کا اہم اور یادگار دن تھا۔ جب اس نے ماں، باپ، بہن، ٹیچر اور خود اپنے نام کے ہجے کیے۔ اس دن وہ چیزوں کو چھوتی اور ان کے ہجے کرتی رہی۔ سب بہت خوش تھے۔ اس کی ماں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔ وہ پہلا دن تھا کہ جب رات سونے سے پہلے ہیلن نے اپنی ٹیچر کو پیار کیا۔ اب وہ ایک ایسی شخص تھی کہ جو لوگوں کو سمجھ سکتی تھی اور انہیں بتا سکتی تھی کہ وہ کون ہے۔ اس دن مجھے لگا کہ میرا دل خوشی سے پھٹ جائے گا۔ ہیلن نے اعتراف کیا۔

ایک ماہ کے اندر ہیلن نے کئی سو الفاظ سیکھ لئے تھے۔ وہ ہر چیز کا نام جاننا چاہتی تھی۔ اس سال گرمیوں کے موسم میں ہر صبح ہیلن اپنی ٹیچر کے ساتھ تعلیمی سبق کے لئے باہر نکل جاتی۔ اینی نے اس کو مٹی سے پہاڑ، دریا، براعظم بنا کر ان کی شکلیں محسوس کروائیں۔ درختوں اور پھولوں کے نام اور قسموں میں فرق بتایا۔ پودوں کا بڑھنا، چڑیوں کا گھونسلا بنانا بتایا۔ ہیلن نے ہاتھ میں مرغی کا انڈا پکڑ کر چوزے کا نکلنا محسوس کیا۔ اپنی ہتھیلی میں پانی لے کر مینڈک کے بچوں کا اپنی انگلی کی مدد سے تیرنے کا تجربہ کیا۔ اس میں ہر علم کو سیکھنے کی پیاس تھی۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •