ایک دیوانی لڑکی فروا اور بیوی
فروا ابھی تک وہیں کونے میں سر جھکائے ہوئے کھڑی تھی۔ اس کا رونا اب سسکیوں میں تبدیل ہو چکا تھا اور آنسو بہہ بہہ کر اس کے گالوں پر خشک ہو چکے تھے۔ مجھ سے دیکھا نہ گیا۔ میں نے جا کر اسے اس کے کاندھوں سے تھام لیا۔ اس کا جسم ابھی تک لرز رہا تھا۔ میں نے اسے ٹھوڑی سے پکڑ کر اس کے چہرے کو اوپر کی جانب اٹھایا اور اس کی آنکھوں میں جھانکنا چاہا۔ بالکل ویسے ہی جیسے میں نے گزرے ہوئے کسی پل میں تمنا کی تھی۔ مگر وہ تمنا آج یہاں اس طرح پوری ہو گی میں نے کبھی سوچا نہ تھا۔
فروا کی پلکیں اٹھیں اور اس نے اپنی گہری شہد رنگ آنکھوں سے میری آنکھوں میں جھانکا۔ وہ نظریں جنھوں نے کبھی میرے دل کو دھڑکایا تھا اسے محبت اور شوق کے کئی عنوان دیے تھے آج ان میں ایسا کٹیلا درد تھا جو میرے پورے وجود کو چیرتا ہوا گزر گیا تھا۔ لگا جیسے کسی نے دکھتے ہوئے زخم پر ٹھوکر مار دی ہو۔ فروا کی نگاہوں میں کچھ ایسا تھا کہ تھوڑی دیر کو میں بھی اسی کی طرح زمان و مکان کے بندھنوں سے آزاد ہو گیا۔ میں نے اسے بھینچ کر اپنے سینے سے لگا لیا اور وہ میری بانہوں میں ایسے سما گئی جیسے اس نے عمر بھر بس یہی آرزو کی ہو۔
فروا کو اپنے سینے سے لپٹائے ہوئے کتنا وقت گزر گیا مجھے اس کا احساس تک نہ ہوا۔ اس کے جسم کی لرزش اب ختم ہو چکی تھی اور وہ کافی حد تک پرسکون تھی۔ میں نے اسے واپس صوفے پر لا کر بٹھا دیا۔ اور ایک ٹک اسے دیکھنے لگا۔ میرے اندر کا بائیس سالہ نوجوان اس دیوانی عورت میں اپنا محبوب چہرہ تلاش کر رہا تھا جو اب وہاں نہیں تھا۔ اس کے وہ آتشیں گلابی لب جن پر کبھی میں نے اپنے لبوں سے دستک دینے کی آرزو کی تھی اب خشک اور زردی مائل ہو چکے تھے۔
اس کی خوبصورت ستواں ناک کے دونوں اطراف ابھرے ہوئے گلابی رخساروں کی جگہ اب محض پیلی جلد منڈھی ہوئی تھی۔ گالوں کی ہڈیاں نمایاں ہو چکی تھیں۔ اس کی سرخی مائل سیاہ ریشمیں زلفوں میں اب کوئی کشش نہ رہی تھی۔ چاندی رنگ مٹیالے بالوں کی بس ایک مٹھی تھی جسے اس نے ربر بینڈ سے سر کے پیچھے باندھ رکھا تھا۔ اس کا نازک دلکش سراپا اب محض ایک گھسٹتا ہوا بیمار وجود تھا۔ فروا۔ میری پہلی چاہت۔ جسے اپنانا میری جوانی کا اولین خواب تھا۔ آج وہ میرے قریب تھی۔ اتنی قریب کے میں اسے چھو سکتا تھا لیکن اتنی دور کہ میں اسے پا نہ سکتا تھا۔ میرے دل میں اس کی چاہت گزرے ہوئے دس برسوں میں ذرا بھی کم نہ ہوئی تھی لیکن وہ خود اب ہر جذبے اور ہر خواہش سے ماورا ہو چکی تھی۔ اسے میری محبت کی اب کوئی حاجت نہ رہی تھی۔
میں نے ٹشو پیپر سے فروا کے گالوں اور آنکھوں کو پونچھ کر صاف کیا تو وہ مسکرا دی۔ ایک دم مجھے اپنے ہونٹوں کے کناروں پر نمکین نمی سی محسوس ہوئی۔ میں نے اپنے گالوں پر ہاتھ پھیرا تو یہ جان کر حیران رہ گیا کہ میرے دو آنسو پتہ نہیں کب میری اجازت کے بغیر میری آنکھوں سے نکل کر گالوں پر بہہ چکے تھے۔ بڑے سرکش اور نافرمان ہوتے ہیں یہ آنسو۔ ہمیشہ اپنی مرضی کرتے ہیں۔
فروا کھڑکی کے باہر کسی پرندے کو دیکھ کر ہاتھ ہلا رہی تھی جب میں نے پیار سے اس کی پیشانی سے بال ہٹاتے ہوئے پوچھا۔ ”فروا بھوک لگی ہے؟ کچھ کھاؤ گی؟“
فروا نے بچوں کی سی معصومانہ خوشی سے سر ہلادیا۔ میں نے فرج کھولا تو بلیک فارسٹ کیک پڑا نظر آیا جسے پچھلی شام عاشی نے فرمائش کر کے منگوایا تھا اور جس کی گولائی میں سے ایک بڑی تکون کاٹ کرہم دونوں نے کھائی تھی۔ میں نے کیک کی پلیٹ اور چمچ فروا کے آگے رکھ دیا۔ اس کی باچھیں کھل گئیں۔ وہ جلدی جلدی کھانے لگی۔ شاید وہ واقعی بہت بھوکی تھی۔ میں ایک ناقابل بیان مسرت کے عالم میں اسے کیک کھاتے ہوئے دیکھتا رہا اور اس کے ہونٹوں کے کناروں پر لگی کریم صاف کرتا رہا۔ ذرا سی دیر میں اس نے پلیٹ خالی کر دی۔ لیکن آخری نوالہ لیتے ہی ایک دم جانے کیا ہوا کہ وہ گبھرا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔
”کیا ہوا فروا؟“ میں نے پوچھا۔
” زین میں نے تمہارا کیک کھا لیا عاشی مجھے مارے گی۔ مجھے کہیں چھپا دو زین۔ مجھے کہیں چھپا دو پلیز“
” ارے عاشی تمہیں نہیں مارے گی ڈرو نہیں۔“ ۔ میں نے اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا جسے اس نے اپنی استخوانی انگلیوں سے کس کر پکڑ لیا۔ ”میں ہوں نا تمہارے پاس۔ عاشی کچھ نہیں کہے گی تمہیں بیٹھ جاؤ۔“ وہ صوفے پر بیٹھ گئی لیکن میرا ہاتھ سختی سے تھامے رکھا۔ کچھ دیر تک وہ گھر کے دیوار و در کو بغور دیکھتی رہی جیسے پہچاننے کی کوشش کر رہی ہو۔ پھر ایک دم میرا ہاتھ چھوڑا اور پھر سے اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔
” اب کیا ہوا؟ میں نے پوچھا۔
” ہائے زین میں بھی کتنی پاگل ہوں یہاں بیٹھ ہی گئی۔ اشعر اٹھ گئے ہوں گے۔ میں نے ان کو ناشتہ بھی بنا کر دینا ہے ابھی“ اس نے جلدی سے اپنے سوٹ کیس اٹھائے اور دروازے کا رخ کیا۔ پھر مڑی۔ ”زین تم مجھے گھر چھوڑ دو گے پلیز۔ مجھے اکیلے ڈر لگتا ہے۔“ اس نے ایسی لجاجت سے کہا کہ میرے پاس انکار کی گنجائش نہ رہی۔
” اچھا رکو۔ میں چلتا ہوں۔“ میں نے فرج کے اوپر رکھی ہوئی بیرونی دروازے کی چابی اٹھائی۔ ”لاؤ یہ سوٹ کیس مجھے دے دو۔ تم تھک جاؤ گی۔“ اس نے شرما کر سوٹ کیس مجھے تھما دیے۔ دونوں ہی خالی تھے۔ میں نے اندر سے دروازے کا کھٹکا دبایا۔ باہر آ کر دروازہ بند کیا تو وہ لاک ہو گیا۔ میں سوٹ کیس اٹھا کر سیڑھیاں اتر رہا تھا اور فروا میرے پیچھے پیچھے بے معنی انداز سے سیڑھیوں کو گنتی ہوئی چلی آ رہی تھی۔ ”چوبیس۔ پچیس۔ چھبیس۔“ چھٹی کا دن تھا خلق خدا ابھی تک سوئی پڑی تھی۔ ہمیں راستے میں کوئی نہ ملا۔ سوسائٹی گیٹ کے پاس پٹھان چوکیدار مسواک چبا رہا تھا۔ اس نے بھی ہمیں دیکھ کر منہ پھیر لیا۔
اب ہم مین روڈ کے کنارے پر چل رہے تھے۔ میں آگے تھا اور فروا چڑیوں کووں سے باتیں کرتی اور گنگناتی ہوئی میرے پیچھے آ رہی تھی۔ اس کی آواز میں جو خوشی جھلک رہی تھی اسے نظر انداز کرنا ممکن نہ تھا۔ ایک دم دھوپ غائب ہو گئی اور بادلوں نے سورج کو پوری طرح ڈھانپ لیا۔ سمندر کی جانب سے ٹھنڈی ہوا کا ایک تند جھونکا آیا اور مجھ سے ٹکرایا۔ دن کے اس حصے میں سڑکیں بھی خالی تھیں۔ ہمارے دائیں طرف سے ایک کار تیزی سے آئی اور زوم کی آواز پیدا کرتی ہوئی پاس سے گزر گئی۔
اگلی چورنگی سے بائیں ہاتھ پر فروا کا فلیٹ تھا۔ ہم موڑ مڑے ہی تھے کہ سامنے مین گیٹ پر کھڑے فروا کے والد نے ہمیں دیکھ لیا۔ وہ تقریبا دوڑتے ہوئے ہماری طرف آئے۔ فروا ایسے ان کے سینے سے لپٹ گئی جیسے بہت دنوں بعد ملاقات ہوئی ہو۔ پھر مجھے دیکھا اور مسکرائی۔ فروا کے والد نے سوٹ کیس میرے ہاتھ سے لے لیے اور مجھے سینے سے لگا لیا۔ ”تمہارا بہت بہت شکریہ زین بیٹا۔ اللہ تمہیں بہت اجر دے۔ میں پریشان تو تھا لیکن دل کہتا تھا کہ تمہاری طرف ہی گئی ہو گی۔“
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

