ایک دیوانی لڑکی فروا اور بیوی


اتوار کی صبح میری آنکھ کال بیل کی آواز سے کھلی تھی۔

کمرے میں دن کی روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ میں نے کمبل میں سے ہاتھ نکال کر سائیڈ ٹیبل پر رکھی گھڑی کو اپنی طرف کیا۔ ساڑھے نو بج چکے تھے۔ میں نے مڑ کر عاشی کی طرف دیکھا۔ وہ مدہوش سوئی پڑی تھی۔ حسب عادت اس نے ایک تکیہ سر کے نیچے اور دوسرا اوپر رکھا ہوا تھا جہاں سے اس کے مدھم خراٹے برآمد ہو رہے تھے۔ اس کے جسم کا جتنا حصہ کمبل سے باہر تھا اسے اس کی طویل سیاہ گھنیری زلفوں نے ڈھانپ رکھا تھا۔

”کون آ گیا چھٹی والے دن۔ صبح ہی صبح“ میں دل میں نامعلوم ملاقاتی کو کوستا ہوا سلیپرز پاوں میں اڑائے پھسٹ پھسٹ کرتا دروازے تک پہنچا اور دروازہ کھولا۔
سامنے وہ کھڑی تھی۔

میری آنکھیں چوپٹ کھل گئیں۔ میں نے نیچے سے اوپر تک اسے دیکھا۔ اس نے آج بھی اپنے پسندیدہ نیلے اور سرخ رنگ کے کپڑے پہن رکھے تھے اور لپ اسٹک بھی سرخ لگائی ہوئی تھی۔ سالخوردہ گوٹے والا دوپٹہ کندھے پر ایک جانب پڑا تھا۔ ۔ پیروں میں سلور کلر کے ہیل والے سینڈل تھے جن کا چاندی رنگ بھر بھرا ہو کر اتر رہا تھا اور سٹریپس واضح طور پر گلی ہوئی تھیں۔ اس نے اپنے ہاتھوں میں دو سوٹ کیس اٹھا رکھے تھے جیسے کسی لمبے سفر پر نکلی ہوئی ہو۔ اس کی داہنی کلائی میں کانچ کی چوڑیاں اور بائیں ہاتھ کی چوتھی انگلی میں چاندی کی ایک سیاہی مائل انگوٹھی بھی نظر آ رہی تھی۔

” فروا۔ تم“ میرے منہ سے نکلا۔ میں نے بے اختیار پیچھے گھوم کر گھر کے اندر دیکھنا چاہا جہاں سے میں ابھی ابھی آیا تھا۔ وہاں مکمل خاموشی کا راج تھا۔

” ہاں زین۔ میں ہوں فروا۔“ وہ مسکرائی۔ ”پتہ ہے میں اور اشعر ہنی مون پر گئے تھے۔ آج ہی واپس آئے ہیں۔ یہ دیکھو اشعر نے مجھے چوڑیاں لے کر دی ہیں اور انگوٹھی بھی۔“ اس نے سوٹ کیسوں کو ہوا میں ذرا اوپر اٹھا کر مجھے اپنی کانچ کی چوڑیاں اور میل کھائی انگوٹھی دکھائی۔

” میں اندر آجاوں کیا۔ سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے میں تو تھک ہی گئی بالکل۔“ اس نے یہ کہا اور میرے جواب کا انتظار کیے بغیر مجھے اپنے سوٹ کیسوں کے ساتھ دھکیلتے ہوئے اندر داخل ہو گئی۔
میں ایک بار پھر چاہتے ہوئے بھی اسے اپنے گھر میں داخل ہونے سے نہ روک پایا تھا۔ آنے والے لمحات کا سوچ کر میرے دل میں خوف کی ایک لہر اٹھی۔ عاشی ابھی بیڈ روم میں ہی تھی۔

میں نے دروازے کو بے آواز طریقے سے بند کیا اور واپس پلٹا۔ فروا بہت اطمینان کے ساتھ ٹی وی لاونج کے صوفے پر نیم دراز ہو چکی ہے۔
” پیاس لگی ہے“ وہ صوفے کی پشت سے ٹیک لگائے بولی۔

میں نے فرج میں سے جوس کی بوتل نکال کر اسے دی۔ اس نے غٹ غٹ کر کے جوس پیا اور چند سانسوں میں بوتل خالی کر کے مجھے واپس پکڑادی اورمسکرائی۔ میری نظر ایک دفعہ پھر بیڈ روم کی جانب اٹھی جس کا دروازہ ذرا سا کھلا تھا۔ پریشانی کی لہر ایک بار پھر میرے معدے سے اٹھی اور گلے تک پہنچی۔

” اشعر آئے نہیں ابھی تک پتہ نہیں کہاں رہ گئے۔“ فروا خود کلامی کرتے ہوئے بڑبڑائی۔ ”اور زین تمہاری بیوی کہاں ہے؟ َ سوئی ہوئی ہے کیا ابھی تک؟ میں اٹھاتی ہوں۔“ یہ کہہ کر وہ صوفے سے اٹھی۔ میں لپک کر آگے بڑھا اس کے دونوں کاندھوں پر ہاتھ رکھ کر اسے واپس صوفے پر بٹھا دیا۔ وہ حیرت سے مجھے دیکھنے لگی۔ میں نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا تو اس نے بھی میری نقل میں اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھی اور پھر آپی آپ ہنس دی۔

چند لمحات خاموشی رہی تھی کہ بیڈ روم میں حرکت کے آثار محسوس ہوئے۔ یقینا عاشی جاگ چکی تھی۔ میری آنکھیں ہی نہیں تمام حسیات اس کے نمودار ہونے کی منتظر تھیں۔ آخر بیڈ روم کا دروازہ کھلا اور مہین گلابی نائٹی میں عاشی کی سرو قامت اور گداز سراپا ظاہر ہوا۔ اس کی بڑی بڑی سیاہ آنکھیں اب بھی نیند کے خمار سے بوجھل تھیں۔ وہ دونوں ہاتھوں سے اپنی طویل زلفوں کو مروڑ کر سر کے پیچھے باندھتی ہوئی چلی آرہی تھی۔ جیسے ہی وہ لاونج کے سرے پر پہنچی اس کی نظر پہلے مجھ پر اور پھر فروا پر پڑی جو بڑے ذوق و شوق سے اسے تک رہی تھی۔ عاشی کو ہزار وولٹ کا جھٹکا لگا۔

” تم۔ تم پھر آ گئی ہو یہاں؟“ وہ آواز کی پوری پچ کے ساتھ فروا کے ٹھیک سر پر کھڑے ہو کر چلائی۔ اس کے دونوْن ہاتھ اس کے کولہوں پر تھے اور آنکھیں طیش کے ماری ابلی پڑ رہی تھیں۔ ”میں نے تمہیں منع کیا تھا نا؟“

فروا کی بالکل سٹی گم ہو گئی۔ وہ سہم کر صوفے سے اٹھی اور لڑکھڑاتی ہوئی پیچھے کو ہٹی۔

” عاشی پلیز“ میں نے بیچ بچاؤ کی کوشش کی۔
” زین یہ کریک یہاں کیوں آئی ہے دوبارہ؟ میں نے تمہیں کہا تھا کہ یہ دوبارہ نہ آئے اس گھر میں۔ کہا تھا نا میں نے؟“ اس نے پہلے مجھ پر اور پھر فروا پر آنکھیں نکاتے ہوئے کہا۔

میں نے جلدی سے آگے بڑھ کر عاشی کو کندھے اور بازو سے پکڑا اور اپنی جانب کھینچا کہ وہ کہیں فروا پر حملہ ہی نہ کر دے۔
” عاشی جان پلیز۔ یہ بچاری بے قصور ہے۔ اسے تو۔“

” بے قصور۔ مائی فٹ۔“ عاشی نے میرا جملہ بیچ میں ہی کاٹ دیا اور پھر فروا کی طرف لپکی ”چلو نکلو تم یہاں سے۔ ابھی اسی وقت۔ فورا۔ بھاگ جاؤ اپنے اشعر کے پاس۔“ ساتھ ہی اس نے ایک زوردار ٹھوکر اس کے سوٹ کیس کو لگائی جو اپنے کمزور پہیوں پر چرچراتا ہواپیچھے کی طرف لڑھکا اور دروازے سے ٹکرا کر دھپ کی آواز سے زمین پر آ رہا۔ فروا کے منہ سے ایک چیخ نکلی اور وہ بھاگ کر دور کونے میں جا کھڑی ہوئی۔ وہ بری طرح رو رہی تھی اور اس کا پورا وجود چڑیا کے کمزور بوٹ کی طرح کانپ رہا تھا۔

” عاشی کچھ خدا کا خوف کرو۔“ میں نے بمشکل عاشی کو قابو کرتے ہوئے کہا جو میری گرفت سے نکلنے کے لیے زور لگا رہی تھی اور کونے میں کھڑی لرزتی کانپتی ہوئی فروا پر حملہ کرنے کے لیے بے تاب تھی۔ ”ایسے نہیں کرتے۔ اس بچاری کو اپنے حواس پر قابو نہیں ہے“ ۔

” تمھیں تو ہے نا“ عاشی نے پلٹ کر مجھ سے کہا۔ اس کے لہجے میں بہت کاٹ تھی مگر میں یہ کڑوا زہر بھی پی گیا۔
” عاشی پلیز۔ فار گاڈ سیک۔ خود کو کنٹرول کرو۔ یہ جیسے آئی تھی ویسے ہی خود بخود چلی بھی جائے گی۔ تم چھوڑ دو اسے۔“ میں نے عاشی کے سامنے تقریبا ہاتھ جوڑ دیے۔

” او کے تو ٹھیک ہے پھر“ وہ بولی۔ ”تم یہاں بیٹھو اپنی کچھ لگتی کے پاس میں چلی جاتی ہوں۔ بلکہ ایسا کرو کہ میری ٹکٹ کروا دو میں امی کے پاس چلی جاتی ہوں تم رکھو اس مینٹل کیس کو گھر میں۔“

عاشی غصے میں پھنکارتی ہوئی بیڈ روم میں واپس چلی گئی۔ اس کے پیچھے دروازہ ایک دھڑاکے سے بند ہوا اور چٹخنی چڑھائے جانے کی آواز آئی۔ اس کے بعد کئی منٹ تک اندر سے عاشی کی بلند آہنگ سسکیاں اور اس کے ساتھ جو کچھ وہ بڑبڑا رہی تھی سنائی دیتا رہا۔ پھر خاموشی چھا گئی۔

میں صبح سویرے نیند سے جاگتے ہی اس قسم کی صورت حال کا سامنا کرنے کے لیے بالکل تیار نہ تھا۔ کئی منٹ تک اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھامے وہیں صوفے پر بیٹھا رہا۔ پھر یک بیک مجھے جیسے ہوش آ گیا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3