ایک دیوانی لڑکی فروا اور بیوی


میں نے دیکھا کہ فروا کے والد بہت بوڑھے لگنے لگے تھے۔ سارے بال سفید ہو چکے تھے۔ عینک کے شیشوں کی موٹائی بڑھ گئی تھی۔ انہوں نے داڑھی بھی رکھ لی تھی جو تمام سفید گالا ہو رہی تھی۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ان کی آواز میں سے اب وہ رعب اور طنطنہ غائب تھا جس کے لئے وہ کبھی مشہور تھے۔

چند لمحات کی خاموشی کے بعد وہ جھجھکتے ہوئے بولے۔ ”زین بیٹا تمہیں اور تمہاری بیوی کو تکلیف تو بہت ہوئی ہو گی۔ میں اس کے لیے شرمندہ۔“
” ارے نہیں انکل کیسی بات کر رہے ہیں آپ۔“ میں نے کہا۔ ”یہ تو ہمارا انسانی فرض ہے۔ اور پھر میں اور عاشی کوئی غیر تھوڑی ہیں۔ آپ کے اپنے بچوں کی طرح ہیں۔“

شکست خوردہ بوڑھے آدمی کی آنکھیں بھر آئیں۔ ”تم کیسے ماں باپ کی اولاد ہو زین بیٹا۔ میں نے تمھارے ساتھ کیا کیا اور تم آج بھی۔“ اس سے آگے وہ کچھ کہہ نہ پائے آواز بھرا گئی۔

” کوئی بات نہیں انکل۔ کوئی بات نہیں“ ۔ میں نے ان کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی اور اپنا چہرہ دوسری جانب پھیر لیا۔ فروا کے والد نے ایک بار پھر میرا شکریہ ادا کیا اور مصافحہ کر کے چلے گئے۔ میں نے دیکھا کہ وہ سوٹ کیس اٹھائے ہوئے جارہے تھے اور فروا ان کے کاندھے پر ہاتھ رکھے ہوئے ان کے پیچھے پیچھے چل رہی تھی۔ زینے کی تاریکی میں گم ہونے سے ایک لمحہ پہلے فروا نے مڑ کر مجھے دیکھا، مسکرائی اور ہاتھ ہلایا۔ وقت کے گھور اندھیروں میں اس کی پرانی محبت بھری جوانی کی مسکراہٹ فلیش لائیٹ کی طرح لمحے بھر کو چمکی اور بجھ گئی۔ میرا ایک قدم بے اختیار آگے کو بڑھا اور رک گیا۔ وہ تاریکی میں گم ہو چکی تھی۔

میں سر جھکائے ہو ئے سست رو قدموں سے واپس آ رہا تھا اور میرے ذہن کے پردے پر گزری ہوئی زندگی کے مناظر فاسٹ فارورڈ میں چل رہے تھے۔ وہ فروا کے روئے تاباں کی پہلی جھلک۔ وہ لمحہ جب پہلی بار نظر سے نظر ملی تھی اور دو دل ایک ساتھ دھڑکے تھے۔ اس کی وہ من موہنی مسکراہٹ جو روشن دن کی طرح پور پور میں اجالا کرتی تھی۔ وہ ٹیلی فون پر چوری چوری اس سے باتیں۔ پھر اس سے پہلی ملاقات۔ وہ اس کی جھکتی اٹھتی نگاہیں۔ پھر وہ لمحہ اقرار وہ پیمان وعدے اور ارادے۔

اپنوں اور غیروں کی سازشیں اور پھر جدائی ہجر اور فراق کے وہ تکلیف دہ لمحات جن کو دوبارہ ذین میں دہرانے کی بھی ہمت نہ تھی۔ اور پھر وہ سارے دکھ جو فروا کو شادی کے بعد اپنے شوہر کی بے رخی بے وفائی اور آخر کار مستقل علیحدگی اور اولاد کے چھن جانے کی صورت میں اٹھانے پڑے تھے اور جن دکھوں کے تازیانے سہتے سہتے وہ آخر ایک دن ہوش و خرد کی دنیا سے بیگانہ ہو گئی تھی۔

انہی سوچوں میں گم جب میں اپنے فلیٹ کی سیڑھیاں چڑھ کر اوپر پہنچا تو بادل چھٹ چکے تھے اور چمکدار دھوپ پھر سے نکل آئی تھی۔ دودھ کی بوتلیں دروازے کے پاس دھری تھیں اور تازہ اخبار سلنڈر کی شکل میں لپٹا دروازے کے ہینڈل میں ٹھسا ہوا تھا۔ میں نے دودھ کی بوتلیں اٹھائیں چابی لگا کر دروازہ کھولا۔ ہینڈل میں اڑسا ہوا اخبار نکالا اور اندر آ کر دروازے کو پوری احتیاط سے بند کر دیا۔ گھر کا سناٹا بالکل ویسا ہی تھا جیسا میں چھوڑ کر گیا تھا۔ عاشی ابھی تک بیڈ روم کے اندر تھی۔ میں نے دودھ کی بوتلیں فرج میں رکھیں اخبار کو صوفے پر اچھال دیا۔ بیڈ روم کے دروازے پر دستک دی مگر اندر سے کوئی جواب نہ ملا۔

” عاشی۔ عاشی جان میں ہوں زین۔ دروازہ کھولو۔ پلیز۔“ میں نے ایک بار پھر دستک دی۔ لیکن اندر سے خاموشی کے سوا کوئی صدا نہ آئی۔
” وہ چلی گئی ہے۔ میں خود چھوڑ کر آیا ہوں۔ دیکھو اب غصہ جانے دو۔“ جواب ندارد۔

” اف۔ تمھیں پتہ تو ہے بچاری کی حالت کا۔ ایسی کو آدمی کہے بھی تو کیا کہے۔ اب کھولو دروازہ“ ۔ پھر خاموشی۔
” یار عاشی بس بھی کر دو اب۔ کب سے کھڑا ہوا ہوں میں باہر۔“

خاموشی کا ایک طویل اور صبر آزما وقفہ اور آیا۔ بالآخر اندر سے حرکت کا اشارہ ہوا۔ وہ اٹھی تھی۔ دروازے کی چٹخنی اندر سے کھلی تو میں داخل ہو گیا۔ عاشی پلٹ رہی تھی۔ میں نے آگے بڑھ کر اس کی کمر میں ہاتھ ڈالا اور اسے اپنی طرف کھینچنا چاہا لیکن اس نے ایک طاقتور جھٹکے سے میرا بازو پرے کر دیا اور پھر سے بستر پر گر گئی۔ الٹے منہ۔

میں تکیے پر کہنی ٹکا کر اس کے قریب لیٹ گیا اور دھیرے دھیرے اس کی نرم زلفوں میں اپنی انگلیاں پھیرنے لگا۔

” دیکھو میں نے اسے دعوت دے کر تو نہیں بلایا تھا نا۔ جھلی ہے بے چاری۔ اسے خود پتہ نہیں کہ وہ کیا کر رہی ہے۔ پھر غصہ کس بات کا اور مجھ سے ناراضگی کیسی؟“
” پر وہ تمہارے ہی پاس کیوں آتی ہے آخر۔“ عاشی نے پلٹ کر تیکھے لہجے میں پوچھا۔ رو رو کر اس کی ناک سرخ ہو چکی تھی۔

میں ایک ٹھنڈی سانس بھر کر رہ گیا ”یہ تم اسی سے پوچھ لینا۔ اگر وہ یہاں کبھی دوبارہ آئی تو۔ چلو اٹھو اب۔ یہ رونا دھونا بند کرو اور ناشتہ بناو، بھوک لگی ہے۔“

عاشی اٹھ کر کچن میں چلی گئی اور میں وہیں لیٹا کھڑکی کے شیشے سے چھن کر آتی ہوئی خوشگوار دھوپ کا مزہ لیتا رہا۔ کچن میں سے برتنوں کی کھڑ بڑ اور پانی گرنے کی آواز آتی رہی۔
” زین۔“ کچن میں سے عاشی پکاری۔ ”ذرا بالکنی میں ٹیبل تو لگانا۔ میں ناشتہ لا رہی ہوں۔“
” اچھا۔ ابھی لگاتا ہوں۔“ میں اٹھا۔

اتوار کے دن بالکنی میں بیٹھ کر ناشتہ کرنا عاشی کو بہت پسند تھا۔ میں نے دیکھا کہ اس نے میرے فیورٹ فرنچ ٹوسٹ بنائے تھے۔ سردیوں اس کی اس نرم گرم روشن صبح میں ہم دونوں میاں بیوی گرم چائے کے ساتھ لذیذ فرنچ ٹوسٹ کے نوالے حلق سے اتار رہے تھے۔ عاشی ساتھ ساتھ اخبار میں اپنا پسندیدہ فیشن اور سٹائل والا صفحہ بھی دیکھ رہی تھی اور میں چائے کے گھونٹ لیتے ہوئے دور افق پر سمندر کے چمکتے ہوئے فیروزی فروغ کو اپنی نظروں میں بھر رہا تھا۔

اچانک میری نگاہ نیچے سڑک پر پڑی۔ فروا کے والد ایک ہاتھ میں سبزی کی ٹوکری اٹھائے اور دوسرے ہاتھ میں فروا کی کلائی تھامے اپنے گھر کی طرف چلے جا رہے تھے۔ فروا کسی کمسن بچی کی طرح بلا مقصد ادھر ادھر دیکھتی اور خود سے باتیں کرتی ہوئی چلی جا رہی تھی۔ دنیا اور ما فیہا سے قطعاً بے خبر۔ میں کچھ دور تک باپ بیٹی کو جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔ پھر نظریں ہٹا لیں۔

” لانا بھئی ذرا اخبار دکھانا۔ آ ج کی تازہ خبر کیا ہے۔“ میں نے اپنی بیوی سے کہا۔

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3