ذیابیطس کے مریض‌ کو کون سی ویکسین لگوانی چاہئیں؟


پچھلے ہفتے ہسپتال میں‌ ذیابیطس کا میلہ تھا جس میں‌ ذیابیطس سے متعلق تعلیم، آلات، دوائیں، انشورنس کمپنیاں، زخموں کے علاج کے سینٹر اور ذیابیطس کے میدان میں‌ ریسرچ کی کمپنیوں کے اسٹال تھے۔ میں‌ باری باری سب پر گئی۔ ہماری مینیجر نے مجھے اور ڈاکٹر فیم کو کہا تھا کہ کلینک کے بعد آکر کم از کم چہرہ دکھا دیں۔ ذیابیطس کے میدان میں‌ مسلسل کام ہورہا ہے۔ لن اسنٹیٹوٹ میں‌ ان دنوں‌ جو کلینکل ٹرائل چل رہے ہیں ہم لوگ منہ سے لی جانے والی انسولین پر ریسرچ کررہے ہیں۔ ابھی تک انسولین صرف انجکشن سے دی جاسکتی ہے یا پھر سانس کے ذرئعیے۔ منہ سے لی جانے والی انسولین اس وقت مارکیٹ میں‌ موجود نہیں‌ ہے۔
ذیابیطس ایک سنجیدہ بیماری ہے جس میں‌ اگر شوگر کو قابو میں‌ نہ رکھا جائے تو اس کی پیچیدگیاں‌ پیدا ہوتی ہیں۔ ذیابیطس کے مریضوں‌ میں‌ چھوت کی بیماریاں‌ ہونے کا خطرہ ان لوگوں‌ سے بڑھ کر تو نہیں‌ جن کو ذیابیطس نہیں ہو لیکن اگر ذیابیطس کے مریض کو کسی قسم کی وائرل یا بیکٹیریل انفکشن ہوجائے تو وہ شدید بیمار ہوسکتے ہیں اور یہ بیماری دیگر افراد کے مقابلے میں‌ زیادہ طویل ہوسکتی ہے۔ اگر ان مریضوں کو فلو یا نمونیا ہوجائے تو ذیابیطس کے کنٹرول میں‌ نہ ہونے سے کافی بگڑ سکتا ہے۔ ہر سال کافی مریض، خاص طور پر بوڑھے افراد سردیوں‌ کے موسم میں‌ نمونیا سے مر جاتے ہیں۔
پچھلے مضامین جو ویکسین سے متعلق تھے، پڑھنے کے بعد کچھ افراد نے سوال کیا کہ ذیابیطس کے مریض‌ کو کون سی ویکسینیں لگوانی چاہئیں؟
ذیابیطس کی کئی اقسام ہیں جن میں‌ دو زیادہ عام ہیں۔ ٹائپ ون اور ٹائپ ٹو۔ ٹائپ ون ذیابیطس کے زیادہ تر مریض کم عمر ہوتے ہیں۔ ذیابیطس ٹائپ ون ہونے کی اوسطا” عمر 12 سال ہے۔ ٹائپ ٹو ذیابیطس زیادہ عمر کے افراد میں ہوجاتی ہے۔ جیسے جیسے مٹاپا دنیا میں‌ بڑھ رہا ہے، ٹائپ ٹو ذیابیطس کے مریض کم عمر ہوتے جارہے ہیں۔
ذیابیطس کے مریضوں‌ کے لیے یہ بات عام افراد سے زیادہ اہم ہے کہ وہ تمام ضروری ویکسینیں‌ لگوائیں۔ ٹائپ ون ذیابیطس کے مریضوں‌ کو وہ تمام ویکسینیں‌ لگوانے کی ضرورت ہے جو سب بچوں‌ کو لگائی جاتی ہیں۔ یہاں‌ پر یہ سمجھا جارہا ہے کہ ذیابیطس کے بالغ افراد کو بچپن میں‌ تمام ضروری ویکسینیں‌ لگ چکی تھیں۔ ذیابیطس کے مریضوں کو مندرجہ زیل ویکسینوں‌ کی ضرورت ہوگی۔
1- فلو ویکسین۔ ذیابیطس کے تمام مریضوں‌ کو سال میں‌ ایک مرتبہ فلو ویکسین لگوانے کی ضرورت ہے۔ فلو کو معمولی بیماری نہیں سمجھنا چاہئیے۔ 1918 کے اسپینش فلو سے دنیا میں‌ لاکھوں‌ لوگ مر گئے تھے۔ فلو سے آج بھی بوڑھے، بچے اور ایسے مریض مرجاتے ہیں جن کا مدافعتی نظام کمزور ہو۔ فلو کا وائرس ارتقاء کے عمل سے ہر سال بدل جاتا ہے اس لیے ہر سال اس کی ویکسین کی مختلف ہوتی ہے جس کے لیے مسلسل تحقیق کی ضرورت ہے۔
2- ٹیٹینس، خناق اور کالی کھانسی کی ویکسین۔ یہ ویکسین ہر دس سال میں‌ ایک مرتبہ سب بالغ افراد کو لگوانی چاہئیے۔ جو ذیابیطس کی مریضائیں‌ حمل سے ہوں، ان میں ہر حمل کے دوران اس ویکسین کی ضرورت ہوگی۔ حمل کے 27 ویں سے 36 ویں‌ ہفتے میں‌ یہ ویکسین لگوانی چاہئیے۔
3- چکن پاکس ویکسین۔ جن لوگوں‌ کو بچپن میں‌ چکن پاکس نہ ہوئی ہو ان کو چکن پاکس کی ویکسین لگوانی چاہئیے۔ جب ہم بچے تھے تب یہ ویکسین ایجاد نہیں‌ ہوئی تھی لیکن اب ہے۔ بالغ افراد میں‌ چکن پاکس ہوجائے تو اس کی شدت بچوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اگر ان کو ذیابیطس بھی ہو تو یہ مریض شدید بیمار پڑسکتے ہیں۔
4- شنگلز یا زوسٹر کی ویکسین۔ 50 سال سے زیادہ عمر کے افراد کو یہ ویکسین ضرور لگوا لینی چاہئیے۔ ایک مرتبہ شنگلز ہوجائے تو جسم کے جس حصے پر بھی ہو وہاں پوسٹ ہرپیٹک نیورالجیا کا درد بیٹھ جاتا ہے جو تمام عمر نہیں‌ جاتا۔ ہر وقت درد محسوس کرنے سے انسان چڑچڑا ہوجاتا ہے اور اس کی زندگی کے ہر حصے پر منفی اثر پڑتا ہے۔ یہ ویکسین حاملہ خواتین یا ایسے افراد میں‌ ممنوع ہے جن کا مدافعتی نظام درست طریقے سے کام نہ کررہا ہو۔
5- ایچ پی وی یا ہیومن پیپیلوما ویکسین۔ یہ ویکسین نسبتا” نئی ہے۔ اسے 26 سال کی عمر سے پہلے لگوا لینا چاہئیے۔ ایچ پی وی جنسی تعلق سے پھیلنے والی وائرل بیماری ہے جس سے خواتین میں‌ سرویکل کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
6- نمونیا کی ویکسین۔ 18 سال سے لیکر 65 سال کی عمر تک کے افراد کو یہ ویکسین لگوانی چاہئیے اور 65 سال کی عمر کے بعد ایک اور انجکشن لگوانے کی ضرورت ہو گی۔
7- ہیپاٹائٹس اے اور بی ویکسین۔ جو ذیابیطس کے مریض سفر پر جانے والے ہوں‌، ان کو ہیپاٹائٹس اے کی ویکسین لگوانی چاہئیے۔ ذیابیطس کے تمام مریضوں‌ کو ہیپاٹائٹس بی کی ویکسین لگوانی چاہئیے۔ ہیپاٹائٹس بی جنوب ایشیائی ممالک میں‌ کافی عام ہے کیونکہ نائی اپنے اوزار اچھی طرح‌ صاف نہیں کرتے اور ایک آدمی سے دوسرے آدمی میں‌ یہ بیماری منتقل کرتے ہیں۔ ہیپاٹائٹس بی اور اے سے ہر سال ہزاروں‌ اموات واقع ہوتی ہیں۔ میرے سسر کو ہیپاٹائٹس بی کی وجہ سے جگر کا کینسر ہوگیا تھا جس کی وجہ سے ان کی وفات ہوئی۔ وہ ایک اچھے آدمی تھے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ مضمون پڑھ کر کوئی ہیپاٹائٹس کی ویکسین لگوالے۔
8- گردن توڑ بخار کی ویکسین بھی گردن توڑ بخار سے بہتر ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں