کون، کس سے انتقام لے رہا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انتقام ۔۔ اب تو یہ لفظ ہے زبان زدِ عام ۔ اور وجہ ہے سیاسی، اخلاقی اور سماجی سطح پر اس کا بے دریغ استعمال۔ پہلے پہل گالم گلوچ، طعن و تشنیع تو درکنارزبان کو لگام دینے کا کہنا بھی ایک بڑی بات سمجھی جاتی تھی ۔ یہ وہ دور تھا جب سب کے دکھ سکھ سانجھے ہوتے تھے، ایک ہی میز کے گرد چارپائیاں ڈال کر بڑے بوڑھے سب کے مسائل حل کیے دیتے تھے، بڑوں کی عزت ہوتی ہے، خواتین کا احترام ہوتا تھا، بچے محفوظ ہوتے تھے، جوانوں کا جوش ایمانی اور حب الوطنی ہر وقت عروج پر ہوتا تھا، صلہ رحمی، خوش اخلاقی، دوسروں کی مدد، خدمت خلق، ملک وقوم سے محبت ہوتی تھی ۔ وقت کے ساتھ ساتھ سب ناپید ہوتا گیا، ملک وقوم کے مفاد نے اجتماعی اور پھر ذاتی مفاد نے جگہ لے لی ۔
بنیادی طور پر انتقام ہوتا کیا ہے؟
انتقام بدلہ لینے کا شدید ترین جذبہ ہے، اور اس کی صورتیں ہیں بہت گھناؤنی۔
اب درج ذیل شعر سے انتقام کی شدت کا اندازہ لگالیں۔
عجب جنون ہے یہ انتقام کا جذبہ
شکست کھا کے وہ پانی میں زہر ڈال آیا
کہتے ہیں انتقام کا جذبہ جس شخص کے اندر جنم لیتا ہے وہ نفسیاتی طور پر مستحکم نہیں رہتا۔ اس کا اٹھنا بیٹھنا، سونا جاگنا، کھانا پینا صرف انتقام ہوتا ہے، اس کا دماغ صرف و صرف اسی کام میں لگا رہتا ہے ۔
ایک مثال دیکھئے۔ مثال کو فرضی کہانی ہی سمجھئے ذاتیات کی طرف مت لے جائیے گا۔
کہا جاتا ہے کہ مرد جب بدلہ لینے پر آتا ہے، تو وہ ایک دو کی زندگی نہیں بلکہ دو خاندانوں کی زندگیاں تک تباہ کردیتا ہے،، لیکن جب عورت بدلہ لینے پرآتی ہے تو خاندانوں کو نہیں بلکہ نسلوں کو برباد کردیتی ہے ۔
اب ذرا بڑے پیمانے پر دیکھیں تو۔
جمہوریت کی فکر سب کو لاحق رہتی ہے ۔” جمہوریت ہمارے ملک میں وہ رضیہ ہے جو غنڈو ں نہیں، سیاستدانوں میں پھنس گئی ہے ”۔ جمہوریت سے متعلق پاکستانی سیاستدانوں کے اقوال زریں جیسے ”بد ترین جمہوریت آمریت سے بہتر ہوتی ہے ”اور ”جمہوریت بہترین انتقام ہے ”کافی پاپولر ہیں۔ اس میں سوال یہ ہے کہ کیا جمہوریت ایک انتقام کا نام ہے؟ اور اگر ہے تو یہ انتقام کس سے لیا جاتا ہے؟ جمہور سے جو اپنے ووٹ سے جمہوریت کی بنیاد رکھتے ہیں یا پھر کسی اور سے؟ اور یہ کسی اور کون ہے؟  اسی کھینچا تان، ذاتی مفادات، خود کو برتر ثابت کرنے کی کوشش نے ملک کا ستیاناس کر دیا ہے۔ جمہوریت کی لٹیا ڈبو دی ہے۔
عوام کے پاس تعلیم ہے نہ روزگار۔ صحت ہے نہ کاروبار۔
جب تعلیم نہیں ہوگی تو سوچ نہیں ہوگی، سوچ بچار نہیں کریں گے تو صحت و روزگار کی کون فکر کرےگا۔
احتساب کے نام پر انتقام لیا جارہا ہے۔
عوام کو بنیادی سہولتیں کیوں میسر نہیں آئیں۔ اس سوال پر کئی سیاست دان آپے سے باہر ہوجاتے ہیں، ذاتی مفاد کی فکر میں ذاتیات پر اتر آتے ہیں۔ جواب کے نام پر بات آئی گئی ہوجاتی ہے یا پھر کہیں سے کہیں پہنچ جاتی ہے۔ جب تنہا ہونے لگتے ہیں تو سہاروں کی تلاش شروع ہوجاتی ہے اور یا پھر اپنی بلی دوسرے کے سر ڈال دیتے ہیں۔ اس طرح جمہوریت بہترین انتقام ثابت ہوتی ہے۔
یہ انتقام بھی لینا تھا زندگی کو ابھی
جو لوگ دشمنِ جاں تھے وہ غمگسار ہوئے
صحافت سےکیوں انتقام لیا جارہا ہے، اس کا جواب ڈھونڈنے کے لیے سمندر میں اترنا پڑے گا، لیکن کون سا سمندر کہاں ہے کیسا ہے صاف ہے یا گندا، اور کتنا گہرا ۔ پھر کئی سوال ہیں ۔

تنخواہیں نہ دے کر، کم پڑھے لکھوں کو زیادہ نواز کر، لفافہ صحافت اور زرد صحافت کو پروموٹ کرکے۔انتقامی کارروائیاں کی جار ہی ہئں ۔

اب تو ہر پتھر کے نیچے سے 20-25 صحافی نکل ہی آتے ہیں، چائے والا، بیکری والا، کپڑوں والا، اسکول والا، نجانے کن کن لوگوں نےمیڈیا ایمپائر بنا رکھی ہیں ۔گلی کے ہر نکڑ پر دو اسکول اور ایک اخبار کا دفتر تو بکھرے پڑے ہیں، اور لا تعداد چھوٹے بڑے صحافی دندناتے پھرتے ہیں ۔
جس سے کچھ بن نہیں پارہا وہ صحافی بن گیا ہے، کرنا ہی کیا ہے ۔ ایک کی دو لگانا ہے، زبان سے آگ لگانا ہے، کھانے کے بارہ مسالے اور میک اپ کے سولہ سنگھار کم پڑ جائیں تو حسب ضرورت مقدار و تعداد بڑھا دیں ۔ پھر دیکھیں کیسی چھکا چھک خبر بنتی ہے، پیکج، رپورٹ، ڈاکیو مینٹری کا زمانہ ہوا پرانا بس ٹکر چلا دو اور کیمرے کے سامنے بڑھ چڑھ کر بول دو۔ بیپر ہوگیا، بریکنگ کی، آگے بڑھنے کی دوڑ شروع۔ قطع نظر اس کے کہ خبر کیا ہے؟ ہے بھی کہ نہیں؟ صحیح ہے یا غلط؟ چلنی چاہیے یا نہیں؟ کیا بتانا ہے اور کتنا بتانا ہے؟۔ بس سب سے پہلے میں۔ کوئی سننےوالا، کہنے والا، سمجھنے والا ہے ہی نہیں ۔ کیونکہ ایک عرصے سے سماج نے صحافی جنے ہی نہیں تو کون کس کی سمجھے گا، پرانے سینئر لوگ جو اپنے زمانے کے جانے مانے صحافی سمجھے جاتے تھے، حرص میں، جلن میں، خدشات میں اور کچھ عمر زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ خصوصیات گنوا بیٹھے، اپنی صلاحیتوں کو خود ہی آگ لگا لی ۔
اشاعتی و نشریاتی اداروں سے قانون کے مطابق اور بروقت مناسب اجرت نہ ملنے کیوجہ سے کچھ صحافی مجبوراً، کچھ طمع، لالچ، کچھ سیاسی اور بااثر شخصیات کی قربت حاصل کرنے کیلئے عادتاً ذاتی ملازم (پی آر او) بن چکے ہیں ۔ جب صحافی پی آر او کے طور پر کام کرے گا تو صحافت کیا کرے گا؟ کیا ایک رپورٹر اُس جماعت کے لیڈر سے آزادانہ بات کر سکے گا جس جماعت یا اس کی کسی اہم شخصیت کا پی آراو ہوگا؟ کیا صحافی اس جماعت یا اس کی مخالف جماعت، گروہ کے بارے میں آزادانہ ذہن استعمال کرسکے جس سے ماہانہ لیتا ہو یا اس سے اپنے ا س ‘خاص ‘ تعلق کی بنیاد پر فائدے حاصل کرتا ہو۔۔؟ جب اس کا جواب نفی میں ہے تو پھر اس نے صحافت کیا کرنی ہے؟ صرف نوکری کرنی ہے اور کلرکی کرنی ہے اور وہ بھی ڈر ڈر کے۔ پھر اس کی عزت کون کرے گا؟

صحافت ایک ایسا باغ بنا دیا گیا ہے، جہاں قدموں کے نیچے نہ گھا س ہے نہ سروں پہ شجر سایہ دار۔ پھل و پھول ہونا تو دور کی با ت ہے۔یہاں تو کونپلوں کے نکلنے سے قبل ہی پودا بدل دیا جاتا ہے، پانی دینا، مناسب روشنی، سردی گرمی اور خوراک دینے کے بجائے نئے پودے لگا کر اس سے بری الذمہ ہوجاتے ہیں ۔

یوں ! نجانے کون اور کیوں صحافت سے انتقام لے رہا ہے ۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ربیعہ کنول مرزا

ربیعہ کنول مرزا نے پنجاب اور پھر کراچی یونیورسٹی میں تعلیم پائی۔ صحافت میں کئی برس گزارے۔ افسانہ نگاری ان کا خاص شعبہ ہے

rabia-kanwal-mirza has 34 posts and counting.See all posts by rabia-kanwal-mirza