بھارت کی آبی جنگ اور پاکستان؟


ملک میں پانی کی قلت کی موجودہ صورتحال کا اندازہ آپ اس افسوسناک امر سے لگا سکتے ہیں کہ پاکستان میں تھر، چولستان اور صوبہ بلوچستان کی آنکھیں پانی کی عدم دستیابی کے باعث نمناک ہیں۔ پانی زندگی کی علامت ہے انسان تو اپنی بقاء کے لئے سب کچھ لٹا کر بھی جنگ لڑتا ہے لیکن پاکستان کے حکمرانوں کی ترجیحات اور سیاسی جماعتوں کے منشور میں یہ بات سرے سے ہی موجود نہیں کہ آبی ذخائر کے لئے ڈیمز تعمیرکیے جائیں۔ اس وقت چین 23842 امریکہ 9265 بھارت 5102 اور جاپان 3116 ڈیمز تعمیر کر چکا ہے جب کہ بد قسمتی سے پاکستان اکہتر برس گزر جانے کے باوجود صرف 155 ڈیمز بنا سکا ہے۔

موجودہ حالات میں پاکستان کو پانی کی قلت کے ساتھ ساتھ ازلی دشمن بھارت کی جانب سے مسلط کی جانیوالی آبی جارحیت کا بھی سامنا ہے بھارت کو بخوبی علم ہے کہ وہ پاک فوج اور جوہری ہتھیاروں سے لیس پاکستان کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتا لیکن اس نے بڑی چالاکی اور مکاری کے ساتھ اس سرزمیں پر آبی جنگ کا باقاعدہ آغاز کر دیا جس سے اسے نہ بائیس کرور عوام اور نہ ہی پاک فوج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تین سال قبل بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بیان دیا تھا کہ وہ پاکستان کو پانی کی بوند بوند کے لئے محتاج کر دیں گے اور اس نے اس آبی جنگ کا آغاز کر دیا اس وقت بھارت دریائے چناب پر چھوٹے بڑے گیارہ ڈیم مکمل کر چکا ہے دریائے جہلم پر باون اور دریائے چناب پر مزید چوبیس ڈیمز کی تعمیر جاری ہے۔

اسی طرح مستقبل میں 190 ڈیمز کی فزیبلٹی رپورٹ لوک سبھا اور کابینہ کمیٹی کے پراسیس میں ہے۔ یہ سب کچھ ہمارے حکمرانوں اور سیاسی جماعتوں کے قائدین کی آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے لیکن کتنی افسوس ناک صورتحال ہے کہ سیاسی جماعتوں کے قائدین اس اہم مسئلہ پر خاموش، میڈیا ہاوسز اور دانشور طبقہ چپ سادھے بیٹھا ہے۔ پاکستان میں ایک طبقہ ایسا بھی موجود ہے جو پاکستان میں ڈیمز کی تعمیر کو متنازعہ بنانے کی باقاعدہ مہم کا حصہ ہے اس سے یہ اخذ کرنا دشوار نہیں ہے کہ بھارت اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے اس طبقہ کو اپنی خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے نواز رہا ہے تاکہ پاکستان کی زراعت تباہ اور معشیت کا پہیہ جام ہو کر رہ جائے۔

بھارت اور ملک دشمن عناصر پاکستان کی عوام کو ریت کے ڈھیر پر کھڑا کر کے قحط سے دوچار کرنے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ عالمی بنک نے ناکافی شواہد کی بنا پر کشن گنگا ڈیم کی تعمیر پر پاکستان کی شکایات مسترد کردی ہیں اور اس طرح پاکستان کو سفارتی سطح پر شکست کی ہزمیت کا سامنا کرنا پڑا 2011 ء کے بعد یہ کیس عالمی عدالت میں دو سال تک زیر سماعت رہا عالمی عدالت نے نہ صرف پاکستان کے اعتراضات مسترد کر دیے بلکہ بھارت کو پانی کا رخ موڑنے کی بھی اجازت دیدی تھی۔

پاکستان کے سیاستدان طبقہ نے عوام کے ذہنوں کو اس حد تک اپنا اسیر بنا لیا کہ ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت تک سلب کر لی پاکستان میں موجود سیاسی خاندانوں نے کبھی اس اہم مسئلہ کی طرف توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے آج پاکستان کو پانی کی قلت کے بحران کا سامنا ہے۔ یہ زمینی حقیقت ہے کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر آبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 2025 ء تک زیر زمیں پانی کی سطح کم ہو جائے گی اور اگر ہم نے ڈیمز تعمیر کرنے کے لئے سنجیدگی کے ساتھ جنگی بنیادوں پر عمل نہ کیا تو پھر یہ دھرتی پانی کی عدم دستیابی پر اناج پیدا کر نا بند کر دے گی پاکستان میں جو قحط سالی جنم لے گی وہ بہت دردناک ہوگی۔

پاکستان کی حکومت کو چاہیے کہ سفارتی سطح پر ایسے اقدامات کیے جائیں کہ بھارت کو ڈیم بنانے اور پاکستان کا پانی روکنے سے باز رکھا جائے۔ پاکستان کی عوام کو اس تشویشناک صورتحال میں میٹروبسوں، اورنج ٹرین، سڑکوں اور پلوں کی ضرورت نہیں بلکہ ڈیمز کے تعمیر کی اشد ضرورت ہے۔ جتنا پیسہ پاکستان میں اس نام نہاد اسکیموں پر خرچ کیا جاتا ہے اگر اس کا ایک چوتھائی حصہ ڈیمز کی تعمیر پر خرچ کیا جائے تو پاکستان میں زراعٹ کو فروغ ملے گا، پانی کی کمی دور ہوگی، توانائی بحران کا خاتمہ ہو گا، صنعت کا پہیہ چلے گا، برآمدات میں اضافہ ہو گا اور ملک ترقی کریگا۔

بھارت پاکستان کو اس فائدے سے روکنے کے لئے آبی دہشتگردی پر اتر آیا ہے۔ بلوچستان میں خشک سالی اور زیر زمیں پانی کی سطح گر جانے سے قلت آب کا مسئلہ سنگین صورتحال اختیار کر چکا ہے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ڈیمز اور ری چارجنگ پوائنٹس نہ بنائے گئے تو بلوچستان صحرا میں تبدیل ہو جائے گا اور ماہرین نے یہ کہہ کر مزید خطرے کی گھنٹی بجا دی کہ کوئٹہ میں زیر زمین پانی کی سطح گرنے کی وجہ سے زمین سالانہ دس سینٹی میڑ دھنس رہی ہے۔

بلوچستان میں اس وقت جو پانی استعمال کیا جا رہا ہے وہ آئندہ آنیوالی نسل کے حصہ کاپانی ہے۔ گذشتہ ایک دہائی سے زراعت اور آبی وسائل کی زبوں حالی پر دل خون کے آنسو روتا ہے بھارت دریائے سندھ پر چھوٹے بڑے بارہ ڈیم مکمل کر چکا ہے جس کی وجہ سے منگلا ڈیم اکتوبر 2017 ء سے خالی پڑا ہے اور تربیلا ڈیم بارش کے رحم و کرم پر ہے بھارت نے ستلج، بیاس اور راوی کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے جس کی وجہ سے چولستان کی تیس لاکھ ایکڑ اراضی بنجر ہو چکی ہے۔

موجودہ حالات میں ہم ڈیمز تعمیر نہ کر کے ایسی صورتحال کی جانب قدم بڑھا رہے ہیں جہاں انسانی حیات بھوک اور پیاس کے ہاتھوں منوں مٹی تلے دفن ہو جائے گی یا پھر ایٹم بم کی جنگ میں جان گنوا دے گی اگر ہم نے ڈیم تعمیر کرنے کے سلسلے میں غفلت و لا پرواہی برتی تو آنیوالے عشرے بہت بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوں گے۔ دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کا منصوبہ جنرل (ر) مشرف کی حکومت میں پیش کیا گیا تھاجو شمالی علاقوں گلگت بلتستان میں بھاشا کے مقام پر تعمیر ہونا ہے اس منصوبہ کا متعدد بار افتتاح ہونیکے باوجود فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے ابھی تک ابتدائی مراحل میں ہے۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس اہم مسئلے کو اجاگر کیا اور اس سلسلے میں فنڈ ریزنگ کے لئے اکاؤنٹ کا اجراء کیا گیا جسمیں عوام تاحال عطیات جمع کروا رہے ہیں اور وزیر اعظم نے بھی عوام اور اورسیز پاکستانیوں سے اپیل کی ہے کہ اس میں اپنے عطیات جمع کروائیں۔ عوام کو بھی چاہیے کہ اپنی قومی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ڈیم فنڈ میں حصہ ڈالیں۔ دریاؤں کی زندگی قائم رکھنے کے لئے ہمیں بھارت کی آبی دہشتگردی کے آگے بند باندھنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔

ریت کے ڈھیر پر کھڑے ہونے سے بہتر ہے کہ پاکستان میں موجود سیاسی جماعتیں اور عوام ذہنی اور قلبی اعتماد کے ساتھ ڈیمز کی تعمیر کے لئے حکومت کا ساتھ دیں انسانی حقوق کی بحالی اور آبی ذخائر کی تعمیر کو یقینی بنانے کے لئے جنگی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ خدا نخواستہ اگر دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کا منصوبہ بھی ناکامی کے باب میں بند ہو کر رہ گیا تو پھر جنوبی ایشیاء میں بھارت اور پاکستان کے درمیان پانی کی ملکیت اور تقسیم کا تنازع بھی خطرناک صورتحال اختیار کر سکتا ہے جو کہ حکمران طبقہ سمیت ملک میں بسنے والے تمام طبقات کے لئے لمحہ فکریہ اور غوروفکر کا متقاضی ہے۔

Facebook Comments HS