کرپشن کا پھندا اور گل بادشاہ کی کہانی
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت، وزیر اعظم عمران خان کی پہلی اسلامی فلاحی ریاست کے خواب سے لے کر اپنی حکومت کے 100 دن پورے ہونے تک کرپشن کا خاتمہ کرنے کے لیے بچپن والے چور پولیس والا کھیل کھیلتی نظر آ رہی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان ایوان سے لے کر جلسہ عام تک اپنی مخالف سیاسی پارٹیوں کو چور اور ڈاکو کے القابات سے نوازتی نہیں تھکتی۔ بے نام جائیدادیں اور بے نام بینک اکاؤنٹس انعامی لاٹری کی طرح نکلتے جا رہے ہیں اور حکومت ٹاسک فورس پر ٹاسک فورس بنائے جا رہی ہے۔
وزیر اعظم عمران خان ملکی امداد اور قرض کے حصول کے لیے بیرون ملک دوروں پر دورے کرتے جا رہے ہیں اور اپوزیشن حکومت سے پوچھتی نظر آ رہی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کو چین سے کیا ملا؟ جس کا جواب شاید چین سے کچھ ملنے کے بعد ہی دیا جا سکے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر وزیر اعظم عمران خان کے جوابی ٹیوٹ پر جس طرح پاکستان میں تبصرے، تجزیے اور منطق پیش کی گئی اس سے لگا رہا تھا کہ جیسے ہم نے پینٹاگون سمیت امریکی سفارتی حلقوں کو ہلا کر رکھ دیا ہو اور جلد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ وزیر اعظم عمران خان سے معافی مانگیں گے۔
وزیر اعظم عمران خان کے دورہ ملائشیا اور وزیر اعظم مہاتیر محمد کے تاریخی استقبال کی جس طرح داستان سنائی جا رہی ہے اس سے لگتا ہے کہ شاید ہی دنیا کے کسی لیڈر کا کبھی ایسے استقبال کیا گیا ہو مگر ہم پھر بھی پر امید ہیں کہ جناب مہاتیر محمد صاحب وزیر اعظم عمران خان صاحب کو اپنی ملکی ترقی اور خوشحالی کا راز جو وہ اکثر خان صاحب کو سناتے رہتے تھے وہ کیمیائی نسخہ ضرور عنایت کریں گے تاکہ پاکستان بھی ترقی اور خوشحالی کی منازل طے کر کہ دنیا کے لیے مثال بن سکے۔
دیکھا جائے تو وزیر اعظم عمران خان کی اسلامی فلاحی ریاست کے اعلان سے لے کر حکومتی سو روزہ کارکردگی تک مہنگائی، بیروزگاری، بھوک افلاس غربت کی نذر ہوتی نظر آ رہی ہے۔ اب بجلی کے بل سردیوں میں گرمیوں والے آ رہے ہیں اور گیس کی قلت، عوامی احتجاج اور بھاری بھرکم بل جلد ہی میڈیا کے ذریعے منظر نامے پر آنے لگیں گے۔ وزیر اعظم کی 50 لاکھ گھروں کی اسکیم، ایک کروڑ نوکریوں سے لے کر شکایاتی ایپ بھی عوام میں پذیرائی حاصل نہ کر سکی نہ ہی حکومت کو ان سب کی ترویج میں کوئی دلچسپی نظر آ رہی ہے۔
ڈیم فنڈ کی طرح سب کچھ بیٹھتا نظر آ رہا ہے۔ سنا تھا کہ آکسفورڈ، کیمبرج سے لے کر دنیا کے کامیاب ترین پاکستانی لوگ خان صاحب کی آواز کا انتظار کر رہے تھے کہ وہ پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں گے مگر لگتا ہے کہ وہ کرپشن کے کڑے احتساب اور حکومتی وزراء کے لب و لہجے کی وجہ سے ڈر گئے ہیں اب لگتا ہے کہ پاکستانیوں کو گھروں اور نوکریوں کے حصول کے لیے بیرون ملک جانا پڑے گا۔
ایک طرف حکومت کے بلند بانگ دعوے اور چور چور کے نعرے ہیں تو دوسری طرف اپوزیشن کے جعلی مینڈیٹ کے نعرے ہیں۔ برہمن اور سیاسی پنڈت نومبر سے لے کر نومبر کی تاریخیں دے رہے ہیں کہ اس ہی میں اماوس کی کالی رات آئے گی۔ معیشت دانوں کا کا کہنا ہے کہ ملکی سرمایہ داروں کی پکڑ دھکڑ کی وجہ سے ملکی سرمایہ دار اپنا سرمایہ بیرون ملک منتقل کر رہے ہیں اور ایسی صورتحال میں کوئی بھی غیر ملکی سرمایہ دار پاکستان میں سرمایہ کاری سے گریز کرے گا۔
پچھلے سال اکتوبر سے اس سال اکتوبر تک 55 فیصد بیرونی سرمایہ کاری میں کمی آئی ہے اور بجٹ خسارہ اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ آسمان سے باتیں کر رہا ہے۔ چاہے ہم اپنے اداروں کی نجکاری کریں یا پھر تمام اداروں کو آؤٹ سورس کریں ملکی ترقی کے لیے حکمت عملی اور عمل در آمد کی ضرورت ہوتی ہے جو افسوس کے ساتھ ہماری پاس نہیں جب جنوبی کوریا میں پاکستان کا دوسرا پنج سالہ پلان کامیابی کی منازل طے کر سکتا ہے تو یہاں کیوں نہیں۔
صاف ظاہر ہے کہ مسئلہ پلان کا نہیں بلکہ حکمت عملی اور عملد درآمد کا ہے جو ہمارے پاس نہیں۔ حکومت کو اپنے مخالفین کو نیچا دکھانے لیے ایک مظلوم کیلے والا لڑکا تو نظر آتا ہے جسے حکومتی وزیر کیمرے کے سامنے بلا کر اس کی داد رسی کرتے ہوئے نظر آتا ہے مگر افسوس کے ساتھ اسلام آباد کے ایک گائے والے لڑکے کی بے بسی حکومت کو نظر نہیں آتی جس میں ظلم کرنے والا پاکستان تحریک انصاف کا وزیر ہوتا ہے۔ حکومتی وزراء فلمی انداز میں اپوزیشن کے کرپشن کے قصے، احتساب، بے نامی جائیدادوں کی کہانیاں سناتے نہیں تھکتے مگر اپنے سو دنوں میں میرٹ کی دھجیاں، اپنے گھروں کی تزین و آرائش پر قومی دولت کے لاکھوں روپے لٹانے اور اپنے لوگوں کا احتساب نظر نہیں آتا۔ ہمارے پاس نسخہ چین کا ہو یا چاہے پھر مہاتیر محمد کا وہ اس ملک میں نہیں چلے گا۔
اس ملک میں ہمیشہ سے احتساب سیاستدانوں کا ہوا ہے اور کرپشن کے پھندے میں بھی یہ ہی پکڑے گئے مگر اس احتساب اور کرپشن کے نام پر کتنی حکومتیں گرائی گئی ہیں؟ ابھی بھی پاکستان مسلم لیگ ن پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر سیاسی پارٹیوں کے احتساب کے ریفرنس تیار ہو رہے ہیں مگر سیاسی تاریخ اس بات کی گواہ ہے حاصل کچھ بھی نہیں ہونا ہے۔ کرپشن اور احتساب کا یہ کھیل ایسے ہی کھیلا جاتا رہے گا۔ محترمہ زہرہ نگاہ کی نظم گل بادشاہ کی طرح یہ کرپشن کا مسئلہ بھی بہت پیچیدہ ہے بہتر ہے کہ اسے ہم یہیں چھوڑ دیں۔
”نام میرا ہے گل بادشاہ“
عمر میری ہے تیرہ برس
اور کہانی
میری عمر کی طرح سے منتشر منتشر
مختصر مختصر
میری بے نام بے چہرہ ماں
بے دوا مر گئی
باپ نے اس کو برقعے میں دفنا دیا
اس کو ڈر تھا کہ منکر نکیر
میری اماں کا چہرہ نہ دیکھیں
ویسے زندہ تھی، جب بھی وہ مدفون تھی
باپ کا نام زر تاج گل
عمر بتیس برس
وہ مجاہد شہادت کا طالب راہ حق کا مسافر ہوا
اور جام شہادت بھی اس نے
اپنے بھائی کے ہاتھوں پیا
جو شمالی مجاہد تھا
اور پنج وقتہ نمازی بھی تھا
مسئلہ اس شہادت کا پیچیدہ ہے
اس کو بہتر یہی ہے یہیں چھوڑ دیں۔


