توہین اور رسالت
لعنت کی مفصل تعریف مجھے نہیں ملی اور نہ میں سکالر ہوں کہ بتا سکوں کے جس پر اللہ کی لعنت ہو اس کا چہرہ کیسا ہوتا ہے۔ اس کے ظاہر اور باطن میں لعنت زدہ ہونے کے بعد کیا کیا تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں۔ رنگ میں فرق پڑتا ہے۔ ڈھنگ میں یا آہنگ میں۔ مگر یہ پکی بات ہے کہ خالق لعنتی شخص سے کچھ ضرور چھین لیتا ہے۔ وہ کیا ہے شاید یہ بھی میری کم علمی ثابت نہ کرسکے۔ مگر مجھے یہ احساس ضرور ہے کہ سیاہ رنگ کا سفید رنگ کا خوبصورتی سے کوئی تعلق نہیں۔ خوبصورت وہ ہے جو سیاہ ہو، سفید ہو، زرد ہو یا سرخ و گلابی۔ مگر اس کے چہرے پر نور ہو۔ وہ نور دراصل خوبصورتی ہے۔ وہ پاکیزگی۔ وہ عطا ربانی دراصل خوبصورتی ہے۔ جو آپ کے چہرے کو دوسروں کی نظر میں خوبصورت بناتی ہے۔
ملعون کا چہرہ خوبصورت نہیں ہوسکتا۔ اس کا رنگ جتنا مرضی شہابی اور گلابی ہو اس پُر نور نہیں ہوگا، اس لیے دیکھ کر سرور نہیں آئے گا۔ وہ خوبصورت نہیں ہوسکتا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا غلام۔ سیاہ۔ نک کٹا۔ موٹے ہونٹ۔ کانٹے جیسے بال۔ ناک میں سے دماغ نظر آئے مگر چہرے پر نظر نہیں ٹھہرتی۔ خوشبو آتی ہے۔ نور نظر آتا ہے۔ نہیں تو بلال حبشی کو دیکھ لیں یا کعبہ کے گرد سیاہ رنگت والے حبشی بیٹھے دیکھ لیں۔
ملعون کے چہرے پر لعنت اور جسم سے بدبو شروع ہو جائے گی۔ اس کو خود سے نفرت ہونا شروع ہو جائے گی۔ قدرتی طور پر وہ بے بسی کا شکار ہو جائے گا۔ ایک آگ ہر وقت اس کے تن بدن میں جاری رہے گی۔ کل کا جہنم کس نے دیکھا وہ اندر کے جہنم میں اپنی ہی جلائی ہوئی آتشِ نمرود کی تپش میں جلتا رہے گا۔ مگر خواہش کے باوجود مکمل طور پر بھسم نہیں ہوسکے گا۔ راکھ اور خاک نہیں ہوسکے گا بلکہ بار بار جلے گا۔ ہر لمحہ ہزار سال جلے گا۔ اور ہر لمحہ ایک نئی ایذاء کے ساتھ جلے گا۔ خود کو اور خود سے محبت کرنے والوں کو جلائے گا۔ اور جلا کر جلے گا۔ سر پٹخے گا۔ جھٹکے گا۔ مگر سکون نہیں پائے گا۔ خود کو مارنے کی کوشش کرے گا مگر مر نہیں پائے گا۔ کوئی زہر۔ کوئی خنجر۔ کوئی تیر۔ کوئی گولی۔ جان نہیں لے پائے گی۔ موت مر کر بھی نہیں آئے گی۔
حرمتِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حفاظت کے لیے کسی تحفظِ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم۔ کسی تنظیم۔ کسی فوج یا حکومت کی ضرورت، نہیں کسی لشکر اور سیلاب بلاخیز کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ تحفظِ نامو س رسالت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا قدرت خود بخود بندوبست کر دیتی ہے۔ حرمت رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حفاظت صرف دُنیاوی عدالت تک محدود نہیں بلکہ اس کے معاملات اس سے بہت آگے کے ہیں۔ اس لیے اس جرم کا فیصلہ بھی دُنیاوی کے علاوہ کسی اور بڑی، اعلیٰ اور ارفع عدالت میں ہوتا ہے۔
اور اسی طرح اس کی سزا کا حکم بھی دُنیاوی عدالتوں سے نہیں اس سے بہت اوپر سے آتا ہے۔ دُنیاوی سزا جب سنائی جاتی ہے تو اس پر عمل ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ انسانی آنکھ دیکھتی ہے۔ محسوس کرتی ہے۔ مگر روحانی اور نورانی نظام میں سنائی جانے والی سزا بظاہر نظر نہیں آتی مگر زندگی ختم ہو جاتی ہے۔ خاندان تباہ ہو جاتے ہیں۔ پوری نسل برباد ہو جاتی ہے۔ تخت کا تختہ ہو جاتا ہے۔ سکون میسر نہیں آتا۔ انسان مر کر بھی نہیں مرتا۔
انسان کو زمین بھی قبول نہیں کرتی۔ عالمین کی لعنتیں حصہ میں آتی ہیں۔ رسول پر درود و سلام بھیجنے والی تمام مخلوقات۔ چرند پرند۔ حیوانات و نبانات۔ جمادات و جمرات۔ اجرامِ فلکی و تحت الشری۔ سب شاتمِ رسول پر لعنت بھیجتے ہیں۔ اللہ اس لعنت سے محفوظ رکھ۔ تاریخ اُٹھا کر دیکھ لیں شاتمِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم۔ کوئی غلاظت میں مرا۔ کسی کی لاش پر گھوڑے دوڑائے گئے۔ کسی نے خود کو جلا لیا۔ کوئی حادثاتی طور پر رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے محبت کرنے والی مخلوق کی زد میں آکر مر گیا۔
شاتمِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تاریخ میں مردود، ملعون اور مطعون ہو کر نابود ہوگیا مگر رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر۔ ایمان پر جان دینے والا مرکر بھی امر ہوگیا۔ کیونکہ ہمارا ایمان رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے شروع ہو کر رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ختم ہو جاتا ہے۔ اور محبت رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بغیر نہ جان کی ضرورت ہے اور نہ اس ایمان کی۔ اللہ ایمان کی سلامتی اور جان کی سلامتی۔ اطاعت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور محبت نبی اللہ کے ساتھ عطا فرمائے۔ (آمین)
آسیہ کیس کے فیصلہ کے بعد لکھا گیا۔
31 اکتوبر 2018 ء

